لاہور، رہائشی علاقے میں قائم غیر قانونی فکیٹری میں آتشزدگی سے 11 افراد ہلاک

پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل فیروزوالا کے علاقے امامیہ کالونی کی تنگ گلیوں میں واقعہ دو منزلہ گھر کے اندر ایک باڈی سپرے بنانے والی فیکٹری میں گذشتہ رات آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوگئے تاہم آگ کی وجہ ابھی معلوم تک معلوم نہیں ہو سکی جبکہ اطلاعات یہ ہیں کہ آگ سلنڈر پھٹنے سے لگی جس نے پوری بلڈنگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
ریسکیو 1122 کے ترجمان محمد فاروق کے مطابق انھیں ابتدائی طور پر انھیں آگ لگنے کی کال موصول ہوئی، جس کے بعد ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور آگ بجھانے کا کام شروع کیا مگر اسی دوران عمارت میں دھماکہ ہوا جو یا تو کسی کیمیکل کا تھا یا پھر اندر پڑا کوئی سلنڈر پھٹا، جس کے بعد دو منزلہ عمارت زمیں بوس ہو گئی۔
ایس ایچ او تھانہ فیروزوالا عامر محبوب کا فیکٹری میں لگنے والی آگ کے ھوالے سے کہنا ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا یونٹ تھا جس کے اوپر والی منزل پر کرائے دار رہتے تھے۔ جب آگ بھڑکی اور اندر سلنڈر پھٹے تو عمارت گر گئی جس کے سبب کچھ لوگ آگ لگنے سے جھلس گئے جبکہ کچھ عمارت کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہوئے۔ اس یونٹ کے مالک جمیل اور ایک اور شخص لاپتہ ہیں جن کے بارے میں یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ سول ڈیفینس کی مدعیت میں جمیل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان محمد فاروق کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آگ اور عمارت گرنے سے ارد گرد کے گھر بھی متاثر ہوئے۔
رہائشی علاقوں میں فیکٹریوں کے قیام اور امامیہ کالونی حادثے بارے ایل ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ فیروزوالا ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ اس لئے اس بارے وہ کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے. ایل ڈی اے حکام کا مؤقف درست ہے. امامیہ کالونی کے بارے میں لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ یہ لاہور کا علاقہ ہے لیکن اصل میں یہ ضلع شیخوپورہ کی تحصیل فیروزوالا کا حصہ اور یہاں کے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر کون کون سی چھوٹی فیکٹریاں کام کر رہی ہیں انھیں دیکھنا اور ان کے خلاف ایکشن لینا میونسپل کمیٹی کا کام ہے جو کہ ڈپٹی کمشنر کے ماتحت کام کرتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امامیہ کالونی میں ہونے والا حادثہ کوئی نئی بات نہیں اور ایسے حادثات شیخوپورہ میں آئے روز ہوتے رہتے ہیں کیونکہ یہ فیکٹریاں بغیر کسی جانچ پڑتال اور اجازت ناموں کے قائم کی جاتی ہیں اور ایسی چھوٹی فیکٹریاں اور یونٹس جگہ جگہ گھروں میں قائم کیے گئے ہیں، ان کا کوئی سروے نہیں ہوتا۔ جانچ پڑتال اور سروے میونسپل کمیٹی کا کام ہے اور شیخوپورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں یہاں کے لوکل میڈیا نے کئی بار اس بات کو ہائی لائٹ کیا مگر انتظامیہ ان کے خلاف کوئی بھی ایکشن لینے سے اجتناب کرتی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ زیادہ تر میونسپل کمیٹی کے اہلکار ان چیزوں سے چشم پوشی کرتے ہیں جس کی بہت ساری وجوہات ہیں جس میں رشوت بھی شامل ہے۔11 لوگوں کی جان چلے جانا کوئی چھوٹی بات نہیں اور اس معاملہ کو اگر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو اس سے بڑا کوئی واقعہ بھی پیش آسکتا ہے۔
اس حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقے میں کسی قسم کی کمرشل سرگرمی کی اجازت نہیں ہے۔ اگر لاہور کی بات کریں تو وہاں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی رہائشی علاقوں کی جانچ پڑتال کرتی ہے اور کمرشل سرگرمی کو دیکھتے ہوئے وہ رہائشیوں کو نوٹس جاری کرتے ہیں مگر دیکھا یہ جاتا ہے کہ نوٹس جاری ہونے کے کچھ عرصہ بعد ایل ڈی اے بھی بھول جاتی ہے اور وہ کمرشل سرگرمی واپس وہیں شروع ہو جاتی ہے۔ قانون کے مطابق رہائشی علاقوں میں بغیر این او سی کے کمرشل سرگرمیاں کرنے والوں کو کم از کم چھ ماہ قید کی سزا ہوتی ہے۔
