برطانوی سفیر کی گرفتاری سفارتی آداب کے منافی ہے

برطانوی دفتر خارجہ نے تہران میں برطانوی سفیر کی گرفتاری کو سفارتی آداب کے منافی قرار دے دیا، جب کہ امریکہ نے ایران کو برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے ایران کی جانب سے سفیر روب میکائر کی گرفتاری کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
خیال رہے کہ برطانوی سفیر کو رہائی سے قبل ایک گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے حراست میں رکھا گیا تھا۔ ایرانی حکام نے الزام لگایا تھا کہ برطانوی سفیر ان چند افراد میں شامل تھے، جنہیں مظاہرے کو منظم کرنے، اشتعال دلانے اور انتہا پسندانہ اقدامات کے لیے اکسانے جیسے جرائم کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔
Foreign Secretary @DominicRaab calls brief detention of @HMATehran a “flagrant violation of international law.” Full statement: https://t.co/bcx5dYInUb
— Foreign, Commonwealth & Development Office (@FCDOGovUK) January 11, 2020
ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کے ساتھ روابط رکھنے والی نیوز ایجنسی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انہیں (برطانوی سفیر کو) امیر کبیر یونیورسٹی کے سامنے مشکوک تحریک اور احتجاج کو منظم کرنے کے الزام میں حراست میں لینے کے چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ ٹویٹ میں مزید کہا گیا کہ انہیں کل صبح وزارت خارجہ طلب کیا جائے گا۔
برطانوی حکام کے مطابق شمعیں روشن کرنے کی تقریب بعد ازاں تیزی سے مظاہرے میں تبدیل ہوئی تو برطانوی سفیر وہاں سے چلے گئے، تاہم انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ برطانوی سفارت خانے واپس جا رہے تھے، یہ واضح نہیں کہ انہیں کس فورس نے حراست میں رکھا تھا۔ ایرانی وزارت خارجہ کو کی گئی متعدد ہنگامی فون کالز کے بعد بالآخر انھیں رہا کردیا گیا اور واپس سفارت خانے واپس جانے کی اجازت دی گئی۔
واضح رہے کہ روب اُس تقریب میں شریک تھے جہاں یوکرینی طیارے کے حادثے کے شکار افراد کی یاد میں شمعیں روشن کی جا رہی تھیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مورگن اورٹاگس نے ہفتے کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایران کے اس قدم سے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہوئی۔ ایرانی حکومت کی ایسی خلاف ورزیوں کی بدنام زمانہ تاریخ موجود ہے۔ ہم ایرانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر برطانیہ سے باضابطہ طور پر معافی مانگے اور تمام سفارت کاروں کے حقوق کا احترام کرے۔
