برطانیہ سے آزادی کے بعد پاکستان امریکی غلام کیسے بنا؟

1947 میں برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں پاکستان نے برطانوی استعمار سے تو آزادی حاصل کر لی لیکن بعد ازاں پاکستان امریکہ کے زیر اثر آ گیا۔ اسکی بنیادی وجہ تقسیم ہندوستان کا موجب اٹلانٹک معاہدہ بنا جس میں برطانیہ نے امریکی بالادستی کو تسلیم کرلیا تھا۔

18ویں صدی سے 20ویں صدی کے وسط تک، دنیا کے کئی علاقوں میں دولت برطانیہ کی حکومت رہی۔ اس دوران اقوام کو محکوم بنانے کے لیے نو آبادیاتی سیاسی نظام نافذ کیے گئے۔ اس عہد نے برطانیہ سمیت مغربی یورپ کو اقتصادی قوت بنایا اور اقتصادی خوشحالی کے بعد سائنسی دریافت و ایجادات کا نیا دور شروع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور کی ابتدا بھی بنگال سے چُرائی گئی دولت سے ہوئی۔اقتصادی لوٹ مار کے برطانوی ورلڈ آرڈر کو دوسری عالمی جنگ کے آغاز پر ہی شکست ہوگئی تھی کیونکہ امریکا اس جنگ میں شامل ہونے سے پہلے ہی اپنا ورلڈ آرڈر منوانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ برطانیہ کی کمزور اقتصادیات کو امریکا کی جدید عسکری قوت نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ امریکا نے برطانیہ کو ایک معاہدے سے فتح کرلیا اور ساتھ میں مابعد نوآبادیاتی نظام کے امریکی تصورات کی بنیاد رکھ دی۔

امریکی صدر فرینکلین روز ویلٹ اور برطانوی وزیرِاعظم ونسٹن چرچل کے درمیان اگست 1941ء میں بحر اوقیانوس میں ایک خفیہ ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات سے جنگ میں شریک جرمن، روس، جاپان اور دیگر ممالک لاعلم رہے۔ دنیا کی نئی طاقت کا فیصلہ بحر اوقیانوس میں ہوگیا۔ اس ملاقات میں برطانیہ کو ‘معاہدہ اٹلانٹک’ پر دستخط کرکے عالمی اجارہ داری سے دستبردار ہونا پڑا اور نوآبادیاتی ریاستوں میں استعماری تسلط کے خاتمے کی صبح طلوع ہوئی۔ معاہدہ اٹلانٹک کے تحت مابعد جنگ دنیا میں امریکی آرڈر نافذ کرنے کا فیصلہ ہوا۔یہ معاہدہ جہاں افریقی اقوام کے لیے صبح نو ثابت ہوا وہیں ہندوستان میں برطانیہ کی 200 سالہ سیاسی و اقتصادی جبر کے عہد کے خاتمے کا باعث بھی بنا۔

معاہدہ اٹلانٹک نے ہندوستان کی آزادی کی تحریکوں کو نئی قوت بخشی اور برطانوی استعمار کے خلاف 2 صدیوں سے جاری مزاحمت میں تیزی آئی۔

ونسٹن چرچل کی کتاب Second World War: The Grand Alliance میں معاہدہ اٹلانٹک کی تفصیلات درج ہیں۔ یہ کتاب 1950ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس خفیہ ملاقات میں طے پانے والے اس معاہدہ کا احوال ایلیٹ روز ویلٹ کی کتاب As He Saw It میں بھی ملتا ہے۔ یہ کتاب 1946ء میں پہلی بار شائع ہوئی اور ایک سال بعد بمبئی سے اس کا انڈین ایڈیشن شائع ہوا۔40ء کی دہائی میں امریکا سعودی عرب سے معاہدہ کرکے مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائز کی کھوج کے لیے اپنی بالادستی قائم کرچکا تھا اور اب یورپ و ایشیا اور افریقہ میں قائم برطانوی کالونیز کا خاتمہ کرنا چاہتا تھا۔ اس خفیہ ملاقات کے دوران، برطانوی ایمپائر پر امریکی صدر روز ویلٹ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔صدر روز ویلٹ نے کہا کہ اقتصادی ترقی کے لیے برطانیہ کو مصنوعی رکاوٹیں ہٹانا ہوں گی اور اقتصادی اجارہ داری کے مقابلے پر مارکیٹ میں مسابقت کا ماحول پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ لہذا برطانوی ایمپائر کے تجارتی معاہدات اب ختم ہوں گے۔ انہی معاہدات کی وجہ سے ہندوستان اور افریقی عوام سمیت مشرق کی نوآبادیات کے باشندے پسماندگی کا شکار ہیں۔ عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد امن تب ہی ممکن ہے جب آزادانہ تجارت ہوگی۔ چرچل نے امریکی صدر کو جواب دیا کہ برطانیہ ایک لمحے کے لیے بھی اپنا ایمپائر کھو دینے کو تیار نہیں ہے۔ برطانوی وزرا کی طے کردہ تجارتی شرائط ہی رائج رہیں گی، اسی تجارت نے برطانیہ کو عظیم تر بنایا ہے۔ چرچل کو قائل کرنے کے لئے روز ویلٹ نے واضح کیا کہ برطانیہ کے کچھ وزرا نوآبادیاتی ممالک سے خام مال کی شکل میں دولت سمیٹنے کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں، تاہم اس دولت کے عوض نوآبادیاتی ملک کے عوام کو کچھ بھی نہیں دیا جاتا۔ اب ہمیں 20ویں صدی کی ضروریات کے تحت نیا منصوبہ رائج کرنا ہوگا جس کے تحت ان ممالک میں صنعتی ترقی ہو تاکہ خام مال کی صورت میں ان ممالک سے حاصل کیے گئے وسائل کے عوض مذکورہ سہولیات کی صورت میں ان ممالک کو دولت واپس کی جائے۔ چرچل سمجھ گیا کہ روزویلٹ کا اشارہ ہندوستان کی جانب ہے۔ کہتے ہیں کہ تب چرچل کو بھی معلوم ہوچکا تھا کہ اب امریکی بالادستی کے تحت عالمی امن کے تصورات رائج ہوں گے۔

چرچل نے اعتراف کیا کہ کچھ ہی عرصے بعد برطانوی نوآبادیاتی پالیسی ایک مردہ بطخ ہوگی، اور برطانیہ کی عالمی تجارت پر غلبہ حاصل کرنے کی پالیسی ایک مردہ بطخ ہوگی، امریکا سے مقابلہ کرنے کے برطانوی عزائم بھی ایک مردہ بطخ ثابت ہوں گے۔
امریکی صدر روز ویلٹ ہندوستان کے مستقبل اور برطانوی تسلط سے آزادی کے لیے قائل بھی تھے چنانچہ روز ویلٹ کا تصور تھا کہ ہندوستان کو دولتِ مشترکہ کا ممبر بنایا جانا چاہیے، ممبر بننے کے 5 یا 10 سال کے بعد ہندوستان برطانوی سلطنت کا حصہ رہنے یا مکمل آزادی کا فیصلہ کرنے کے قابل ہوجائے گا۔ اس گفت و شنید کا اختتام ایک معاہدے کی دستاویز کی تیاری پر ہوا اور پھر دونوں سربراہانِ مملکت نے اس دستاویز پر دستخط کیے۔

چرچل نے معاہدہ اٹلانٹک کا ابتدائی مسودہ امریکی صدر کو بھجوایا، جس کا عنوان ‘جوائنٹ اینگلو امریکن ڈیکلیئریشن آف پرنسپلز’ تھا۔ اس معاہدے کی رو سے دونوں ممالک جغرافیائی یا کسی دوسرے طریقے سے اپنی طاقت بڑھانے کی جستجو نہیں کریں گے۔ دونوں ممالک لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق طرزِ حکومت چننے کے حق کا احترام کرتے ہیں اور لوگوں کے ان خودمختارانہ حقوق اور لوگوں کی اپنی حکومت کی بحالی کے خواہشمند ہیں جنہیں جبری طور پر سلب کیا گیا۔ دونوں ممالک موجودہ شرائط کا احترام کرتے ہوئے چھوٹی بڑی، شکست خوردہ یا فتح یاب، تمام ریاستوں تک دنیا کی تجارت اور اس خام مال تک رسائی دینے کی بھرپور کوشش کریں گے جو ان کی اقتصادی خوشحالی کے لیے درکار ہے۔برطانیہ و امریکا ایسے امن کی خواہش کرتے ہیں کہ جو بحر الخطیر اور سمندروں میں ہر قسم کی حفاظت کے لیے کام کرے۔ صدر روز ویلٹ اور وزیرِاعظم چرچل کے درمیان اس معاہدے کی ہر شق پر تفصیلی بحث ہوئی۔ 12 اگست 1941ء کو اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ 12 اگست کو ہی سابقہ سویت یونین کے صدر جوزف اسٹالن کے نام روز ویلٹ اور چرچل نے ایک مشترکہ خط لکھا جس میں اس معاہدہ سے متعلق انہیں آگاہ کیا گیا اور 14 اگست 1941ء کو اس معاہدے پر دستخط کردیے گئے۔

ہندوستان میں چونکہ برطانوی راج کے خلاف تحریک پہلے ہی شدت اختیار کرچکی تھی اور ہندوستانی کامل آزادی کا نعرہ بلند کرچکے تھے چنانچہ معاہدہ اٹلانٹک میں شامل تیسری شق کا ہندوستان میں پرتپاک استقبال کیا گیا تاہم برطانوی پارلیمان میں معاہدہ اٹلانٹک کے تناظر میں ہندوستانی مستقبل پر مباحثہ ایک مہینے تک جاری رہا۔چرچل نے یہ تاثر دیا کہ معاہدہ اٹلانٹک کا اطلاق ہندوستان پر نہیں ہوگا بلکہ برطانوی پارلیمان میں تقریر کے دوران ہندوستان کی آزادی کے خلاف نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے جس پر بعد ازاں ہندوستان میں سخت ردِعمل ہوا۔ 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد امریکا نے معاہدہ اٹلانٹک پر عمل درآمد کے لیے برطانیہ پر مسلسل دباؤ ڈالا یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کے 2 برس بعد ہی برطانیہ کو ہندوستان چھوڑنا پڑا۔ یہاں کی آزادی کی تحریکوں کو سبوتاژ کرنے اور کامل آزادی کے مطالبات کے برعکس برٹش پارلیمان میں فروری 1947ء میں تقسیمِ ہند کا قانونی مسودہ منظوری کے لیے پیش کردیا۔ آزادی ہند کے قانونی مسودے پر برطانوی پارلیمان میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کی ہونے والے تقاریر کو جمع کیا گیا ہے، جس کے مطابق پارلیمان میں برطانوی وزیرِاعظم ایٹلی نے یہ بیان دیا کہ ہندوستان چھوڑنے کے لیے برطانیہ کے پاس کم وقت ہے چنانچہ برطانوی استعمار گریٹ گیم کے تحت ہندوستان کی کامل آزادی کے مطالبات کے برعکس تقسیمِ ہند کرکے چلا گیا۔معاہدہ اٹلانٹک کے تحت تو برطانیہ ہندوستان چھوڑنے کا پابند تھا لیکن تقسیم کے بعد اس خطے میں نئے سیاسی و اقتصادی مسائل نے جنم لیا۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی اسٹیٹس میں تبدیلی کے لیے برِصغیر کی 2 ریاستیں قومی بجٹ کا کثیر حصہ دفاع پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں اور مذہب کی بنیاد پر ہونے والی اس تقسیم نے دونوں ممالک کو مزید گروہیت اور فرقہ واریت میں تقسیم کیا ہے۔

یوں تقسیمِ ہند کے بعد اس خطے میں برطانیہ کی جگہ امریکی حاکمیت قائم ہوگئی اور جس مذہبی و سیاسی تصورات کے تحت آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگرس بٹوارے پر آمادہ ہوئی تھیں آج یہی تصورات شدت پسندی کے فروغ اور اس خطے کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ آج ان دونوں ممالک کو اپنے سیاسی تصورات کا از سرِ نو جائزہ لینا ہوگا اور عالمی استعماریت کے حربوں کا شکار ہونے سے اپنی قوم کو بچانا ہوگا۔

Back to top button