برطرف ملازمین کی بحالی کیس میں‌ تجاویز سپریم کورٹ میں‌ جمع

سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے برطرف ملازمین کے بحالی کیس میں اٹارنی جنرل نے برطرف ملازمین سے متعلق تجاویز عدالت عظمیٰ میں جمع کرا دیں۔

حکومت نے موقف اپنایا کہ 1 تا 7 گریڈ تک کے ملازمین کو بحال کر دیا جائے، گریڈ 8 تا 17 تک ملازمین کو پبلک سروس ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا، یہ عمل تین ماہ میں مکمل ہوگا، ملازمین کی ماضی کی سروس ایڈ ہاک تصور ہو گی، جو ملازمین ریٹائر ہوگئے یا جن کا انتقال ہوگیا ، انکے معاملات ماضی کا حصہ سمجھے جائیں گے۔

دوران ملازمت انتقال کرنے والے ملازمین اور انکے ورثا پینشن کے حقدار نہیں ہونگے۔ گریڈ 8 سے 17 تک کے ملازمین کے تین ماہ میں ٹیسٹ کو یقینی بنایا جائے گا، ٹیسٹ پاس کرنے والے ملازمین کو مستقل کیا جائیگا۔

حکومتی تجاویز میں کہا گیا کہ جو ملازمین پنشن لے رہے ہیں انہیں مزید پنشن نہیں دی جائے گی، ملازمین کو جو رقم دے دی گئی وہ ریکور نہیں کی جائے گی، تین ماہ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن ملازمین کے ٹیسٹ کا عمل مکمل کریگا۔

کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم سے مشاورت کرکے تجاویز عدالت کو دے رہا ہوں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ تجاویز پر غور کر کے کل اپنی رائے سے آپ کو آگاہ کریں گے ، عدالت عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

Back to top button