بزادر کا "TK” نامی چہیتا پرنسپل سیکرٹری کیوں فارغ ہوا؟


وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے وفاقی حکومت کے دباؤ پر اپنے چہیتے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید المعروف ‘ٹی کے’ کو انکے عہدے سے فارغ کر دیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ طاہر ایک کرپشن کیس میں نیب کے شکنجے میں بری طرح پھندتے ہوئے نظر آ رہے تھے اس لئے بزدار نے اپنا دامن بچانے کے لئے انہیں فارغ کرنے میں ہی مصلحت جانی۔ طاہر رشید کے بارے میں بیوروکریسی میں یہ تاثر عام تھا کہ وہ بزدار کے خاص آدمی تھے اور جو بھی واردات ڈالتے تھے اس میں وزیراعلی کی رضامندی شامل ہوتی تھی۔
یاد رہے کہ نیب لاہور آفس نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کے خلاف بطور سیکرٹری مواصلات آمدن سے زائد اثاثے بنانے کی شکایت پر تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ نیب لاہور کو موصول شکایات میں الزام لگایا گیا ہے کہ طاہر خورشید نے اپنے موجود وسائل سے خطیر اثاثہ جات بنائے اور بطور سیکریٹری مواصلات من پسند افراد کو کروڑوں روپے کے غیر قانونی ٹھیکے دلوائے۔
ذرائع کے مطابق نیب لاہور نے مختلف حکومتی اداروں سے طاہر خورشید کے اثاثہ جات کی تفصیلات بھی مانگ لی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ 17 اگست کو اچانک فارغ ہونے والے وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید المعروف ‘ٹی کے’ کو مختلف الزامات کے باعث فارغ کیا گیا ہے جن کی زد میں وزیراعظم عمران خان کے وسیم اکرم پلس بھی آتے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کے معاملے میں نیب نے طاہر خورشید کو بےنامی داروں کے ریکارڈ کے لئے سوالنامہ فراہم کردیا ہے اور تحقیقات کا دائرہ بےنامی داروں تک پھیلا دیا ہے، نیب نے طاہر خورشید کو جواب دینے کے لئے 4 ہفتےکی مہلت بھی دی ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ طاہرخورشید دو بار نیب لاہور کے سامنے پیش ہوئے اور دونوں پیشیوں پر ایک گھنٹے تک سوالات کے جواب دیے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیب نےطاہر خورشید کے تمام بےنامی داروں کو بھی طلب کرلیا ہے لہذا ان کے خلاف شکنجہ تنگ ہوتا دیکھ کر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان سے جان چھڑوائی جائے۔
تاہم کہا جا رہا ہے کہ طاہر خورشید کے پنجاب سے نکالے جانے کے باوجود انکا ‘ٹی کے’ گروپ اب بھی مضبوط ہے۔ طاہر خورشید کے تبادلے کے بعد ٹی کے گروپ کے فعال رکن عامر جان کو نیا پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ تعینات کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طاہر خورشید پہلی بار تب عثمان بزدار کی گڈ بکس میں شامل ہوئے جب انہیں ڈیرہ غازی خان میں کمشنر تعینات کیا گیا۔ طاہر خورشید نے علاقے کی تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کی سکیموں میں ذاتی دلچسپی لے کر وزیر اعلی بزدار کا دل جیت لیا۔ اسی بنا پر بزادر نے انہیں اپنا پرنسپل سیکرری لگایا حالانکہ طاہر خورشید بطور کمشنر کام کرنے کے خواہاں تھے۔ عثمان بزادر کی طاہر کو اپنا پرنسپل سیکرٹری مقرر کرنے کے پیچھے یہ سوچ کارفرما تھی کہ وہ کمزور سمجھے جانے والے وزیراعلیٰ کو صوبہ چلانے کے لئے بھر پور مدد دے سکتے تھے۔ بزدار کی طاہر خورشید سے قربت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں تحریک انصاف کی ٹکٹ پر ڈسکہ سے پنجاب اسمبلی کا ضمنی الیکشن جیتنے والے احسن سلیم بریار طاہر خورشید کے داماد ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ضمنی الیکشن میں کامیابی کے بعد عثمان بزدار تو طاہر رشید کو پنجاب کا چیف سیکرٹری بنوانا چاہ رہے تھے لیکن پھر اچانک انکی فراغت کے احکامات آ گے جن سے کئی سوالوں نے جنم لیا ہے۔ ذرائع کا اصرار ہے کہ طاہر خورشید کیخلاف نیب کی انکوائری ان کے تبادلے کی بنیادی وجہ بنی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ طاہر خورشید کی وزیراعلیٰ کے علاوہ سابق معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان ورف بونگی آنٹی سے بھی اچھی ورکنگ ریلیشن شپ تھی۔ فردوس کی مدد سے ہی طاہر خورشید نے اپنے داماد احسن سلیم بریار کے لئے تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کیا اور پھر اسے ایم پی اے منتخب کروانے کے لئے بھی خوب زور لگایا جس پر ن لیگ نے پر زور احتجاج بھی کیا اور الیکشن کمیش میں بھی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طاہر خورشید پر چونکہ نیب کا شکنجہ تنگ ہو رہا تھا لہازا وہ نیب سے بچنے کے لئے چیف سیکرٹری پنجاب لگنے کی خفیہ کوششوں میں مصروف تھے اور اس حوالے سے بزدار کو آگے لگانے کے علاوہ وفاق میں بھی رابطے کر رہے تھے لہازا وہ بڑوں کی نظروں میں آ گے اور مارے گے۔ تاہم اتنا ضرور کیا گیا کہ طاہر کو فارغ کرنے سے پہلے ان کے داماد احسن بریار کو پنجاب میں معاون خصوصی لگا دیا گیا۔

Back to top button