بڑی عید کے بعد افغان باشندوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن

پاکستان میں سکیورٹی خدشات، دہشت گردی اور غیر قانونی امیگریشن کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے درمیان حکومت نے افغان باشندوں سے متعلق اپنی پالیسی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جعلی شناختی کارڈز کی منسوخی، بے نامی جائیدادوں کی ضبطگی، سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اور ملک گیر جامع آپریشنز جیسے اقدامات اس بات کا اشارہ ہیں کہ ریاست اب غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق نئی حکمت عملی صرف غیر قانونی قیام تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ مالیاتی، جائیدادی اور انتظامی نیٹ ورکس تک بڑھایا جا رہا ہے۔ پہلی بار بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کے لیے انعامی اسکیم متعارف کروانے اور جعلی شناختی کارڈز فوری بلاک کرنے جیسے اقدامات نے واضح کر دیا ہے کہ حکومت اس مسئلے کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔دوسری جانب طورخم بارڈر کی بندش اور افغانستان میں پھنسے پاکستانی ڈرائیورز و ٹرانسپورٹرز کی مشکلات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ آیا یہ سخت اقدامات واقعی سکیورٹی صورتحال بہتر بنا سکیں گے یا خطے میں انسانی اور معاشی بحران کو مزید گہرا کریں گے؟

ذرائع کے مطابق حکومت نے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف ایک جامع اور سخت ایکشن پلان تیار کر لیا ہے، جس کا بنیادی مقصد امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے اور غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانا بتایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی ہے، جن میں افغان باشندوں کی بے نامی جائیدادوں کی ضبطگی، جعلی شناختی کارڈز کی منسوخی، سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اور بڑے پیمانے پر ڈیپورٹیشن آپریشن شامل ہیں۔

حکومت کی نئی حکمت عملی کے تحت نادرا اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ افغان شہریوں کو جاری کیے گئے جعلی یا فراڈ پر مبنی شناختی کارڈز فوری طور پر بلاک اور منسوخ کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے پاکستانی شہریوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جو غیر قانونی افغان باشندوں کو رہائش یا دیگر سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت نے افغان باشندوں کی بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی اور ضبطگی کے لیے خصوصی مانیٹرنگ سسٹم تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس عمل میں عوامی معاونت حاصل کرنے کے لیے انعامی اسکیم متعارف کروانے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ غیر قانونی جائیدادوں اور سہولت کاروں کی نشاندہی کی جا سکے۔

دستاویزات کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً 17 لاکھ غیر رجسٹرڈ افغان باشندے موجود ہیں، جن کے مکمل ڈیٹا کو اکٹھا کرکے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان شیئر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خاص طور پر خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور گلگت بلتستان میں مقیم افغان باشندوں کے بارے میں مرکزی ڈیٹا بیس بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق عیدالاضحیٰ کے بعد پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں خصوصی ٹیموں کی تشکیل مکمل کیے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ ان علاقوں کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے جہاں غیر قانونی افغان باشندے کاروبار اور رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔

سیاسی و سماجی حلقوں میں حکومت کے حالیہ اقدامات پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقے ان اقدامات کو قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف ضروری قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق اور قانونی تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کو اس معاملے میں ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی، جہاں ایک طرف سکیورٹی خدشات کا مؤثر حل نکالا جائے اور دوسری طرف انسانی بنیادوں پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو خطے میں مزید بے چینی پیدا نہ کریں۔یہ صورتحال اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ افغان مہاجرین کا مسئلہ اب صرف انسانی بحران نہیں رہا بلکہ یہ سکیورٹی، معیشت، سیاست اور علاقائی تعلقات سے جڑا ایک پیچیدہ معاملہ بن چکا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

Back to top button