KPK میں ’سرکاری ہڑتال‘،حکومت خود اپنے خلاف کیسے کھڑی ہوگئی؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شاید پہلی بار ایک ایسا منظر دیکھنے میں آیا ہے جہاں حکومت خود اپنے دفاتر میں کام بند کروانے کے لیے میدان میں آگئی۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان نہ صرف غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس نے سیاسی، آئینی اور انتظامی حلقوں میں ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ماضی میں ہڑتالیں ہمیشہ ملازمین، مزدور تنظیموں یا سرکاری اہلکاروں کی جانب سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے کی جاتی رہی ہیں، مگر اس بار صورتحال مختلف تھی۔ دفاتر کھلے تھے لیکن حکومتی ہدایت پر سرکاری ملازمین نے اپنی نشستوں پر موجود رہتے ہوئے کام مکمل طور پر نبند کر دیا۔ خیبرپختونخوا میں ہونے والے اس منفرد احتجاج نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا اب سیاسی احتجاج ریاستی مشینری کے ذریعے بھی کیا جائے گا؟اس حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے خلاف احتجاج تھا، مگر ناقدین اسے سرکاری نظام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی نئی مثال قرار دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ہڑتال نے نہ صرف سیاسی ماحول کو گرما دیا ہےبلکہ جمہوری روایات اور سرکاری نظم و نسق پر بھی اہم سوالات اٹھا دئیے ہیں۔
مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں ہونے والی حالیہ قلم چھوڑ ہڑتال پاکستان کی سیاسی اور انتظامی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ بن گئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری دفاتر میں باقاعدہ ہڑتال کروانا ایک ایسا اقدام ہے جس نے سیاسی مبصرین، قانونی ماہرین اور عوامی حلقوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔صوبائی حکومت کے مطابق اس ہڑتال کا مقصد پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے ساتھ جیل میں مبینہ ناروا سلوک کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانا تھا۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر سرکاری ملازمین دفاتر تو پہنچے، مگر انہوں نے سرکاری امور انجام نہیں دیے۔
ناقدین کے مطابق یہ صورتحال اس لیے غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ روایتی طور پر ہڑتال ہمیشہ ملازمین یا مزدور تنظیموں کی جانب سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے کی جاتی ہے۔ عام طور پر ملازمین اپنے ادارے، حکومت یا آجر کے خلاف احتجاجاً کام روک دیتے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا میں پہلی بار حکومت خود اپنے دفاتر میں کام بند کروانے کی پوزیشن میں نظر آئی۔
سیاسی ماہرین کے بقول اس اقدام نے ہڑتال کی روایتی تعریف کو ایک نئے زاویے سے متعارف کرایا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ریاستی مشینری کو سیاسی احتجاج کے لیے استعمال کرنا ایک نئی روایت بن سکتی ہے یا یہ محض وقتی سیاسی حکمت عملی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول قلم چھوڑ ہڑتال کی تاریخ اگر دیکھی جائے تو یہ احتجاجی طریقہ صدیوں پرانا ہے۔ مختلف تاریخی حوالوں کے مطابق ’سٹرائک‘ کی اصطلاح 17ویں صدی میں اس وقت سامنے آئی جب مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے اجتماعی طور پر کام روکنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ برصغیر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا تصور 1930 کی دہائی میں سامنے آیا، جب ملازمین دفاتر میں موجود رہتے تھے مگر عملی طور پر کام نہیں کرتے تھے۔ابتدائی طور پر یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ آیا ایسے عمل کو قانونی ہڑتال تصور کیا جائے یا محض بدنظمی، مگر بعد ازاں عدالتوں نے اسے باقاعدہ احتجاجی حق تسلیم کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ احتجاجی طریقہ جنوبی ایشیا میں خاصا مقبول ہوگیا۔پاکستان میں بھی مختلف ادوار میں قلم چھوڑ ہڑتالیں ہوتی رہی ہیں۔ 1965 میں نیشنل بینک آف پاکستان کے ملازمین نے بونس کے مطالبے پر اہم قلم چھوڑ ہڑتال کی تھی، جس کے بعد مختلف سرکاری اداروں کے ملازمین بھی وقتاً فوقتاً اسی طریقے سے احتجاج کرتے رہے۔
تاہم خیبر پختونخوا حکومت کے حالیہ اقدام نے اس روایت کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ اب پہلی بار حکومت خود اپنے اداروں میں ہڑتال کرواتی دکھائی دی، جس پر مختلف سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری دفاتر عوامی خدمت کے مراکز ہوتے ہیں، اس لیے انہیں سیاسی احتجاج کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سے عوامی مسائل بڑھتے ہیں، سرکاری کام متاثر ہوتے ہیں اور انتظامی نظام کمزور پڑتا ہے۔
دوسری جانب حکومتی حامیوں کا مؤقف ہے کہ جب سیاسی حالات غیر معمولی ہوں تو احتجاج کے طریقے بھی غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ہڑتال دراصل سیاسی دباؤ بڑھانے اور اپنے مؤقف کو نمایاں کرنے کی ایک علامتی کوشش تھی۔بہر حال اس واقعے نے پاکستانی سیاست میں ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا دیگر صوبے یا سیاسی جماعتیں بھی اس طرز کے احتجاجی اقدامات اپناتی ہیں یا یہ واقعہ محض خیبر پختونخوا تک محدود رہتا ہے۔
