پاکستان میں“فائلوں”کے ذریعے عوام کو چونا کیسے لگایا جاتا ہے؟

پاکستان میں رہائشی پلاٹوں کے نام پر “فائلوں” کی خرید و فروخت گزشتہ کئی برسوں میں ایک بڑے کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ فراڈ، غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں اور عوام کی جمع پونجی ڈوبنے کے واقعات میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں خصوصاً اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور دیگر بڑے شہری مراکز میں ہزاروں افراد ایسے ہیں جو برسوں اقساط ادا کرنے کے باوجود آج تک اپنے پلاٹ حاصل نہیں کر سکے۔ اس صورتحال نے عام شہریوں کیلئے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کو ایک خطرناک معاملہ بنا دیا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کیلئے جو محدود آمدنی اور عمر بھر کی جمع پونجی کے ذریعے اپنے خاندان کیلئے ایک چھت کا خواب دیکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں رہائشی پلاٹوں کے نام پر ہونے والا “فائل بزنس” دراصل رئیل اسٹیٹ کے شعبے کا ایک ایسا ماڈل ہے جس میں لوگوں کو مستقبل کے پلاٹس کا خواب دکھا کر سرمایہ اکٹھا کیا جاتا ہے، لیکن اکثر اوقات نہ زمین مکمل ہوتی ہے، نہ این او سی، اور نہ ہی اصل پلاٹ موجود ہوتا ہے۔رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں “فائل” دراصل ایک ابتدائی دستاویز یا ممبرشپ حق ہوتا ہے جس کے ذریعے خریدار کو مستقبل میں پلاٹ دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ خریدار کو ابتدا میں پلاٹ نہیں بلکہ ایک فائل نمبر، رسید، رجسٹریشن فارم یا الاٹمنٹ لیٹر دیا جاتا ہے۔ بعد میں سوسائٹی انتظامیہ دعویٰ کرتی ہے کہ مخصوص مدت کے بعد پلاٹ نمبر الاٹ کر دیا جائے گا اور قبضہ بھی مل جائے گا۔ یہی مرحلہ اکثر تنازعات اور دھوکہ دہی کی بنیاد بنتا ہے کیونکہ کئی سوسائٹیز کے پاس حقیقت میں اتنی زمین ہی موجود نہیں ہوتی جتنی فائلیں وہ فروخت کر چکی ہوتی ہیں۔
ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے احسن عباس کی کہانی اس مسئلے کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے اسلام آباد کی ایک نجی ہاؤسنگ سکیم میں دس مرلے کے پلاٹ کیلئے تقریباً چھ سال قبل 19 لاکھ روپے ایڈوانس جمع کروائے اور بعد میں باقاعدگی سے اقساط بھی ادا کرتے رہے۔ سوسائٹی کی جانب سے انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ آدھی رقم جمع ہونے کے بعد انہیں پلاٹ نمبر اور قبضہ دے دیا جائے گا، مگر برسوں گزرنے کے باوجود ایسا نہ ہو سکا۔ احسن اب تک تقریباً 55 لاکھ روپے ادا کر چکے ہیں لیکن انہیں آج تک صرف وعدے، تاریخیں اور نئے بہانے ملے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ ترقیاتی کام جاری ہے، کبھی بتایا جاتا ہے کہ جلد بالٹنگ ہوگی، جبکہ کبھی کسی نئے سیکٹر میں منتقل ہونے کی بات کی جاتی ہے۔
اسی طرح ایبٹ آباد ہی کے منظور خان نے اسلام آباد ایئرپورٹ کے قریب ایک سوسائٹی میں پلاٹ حاصل کرنے کیلئے لاکھوں روپے جمع کروائے۔ ابتدا میں انہیں بتایا گیا کہ ان کا پلاٹ مخصوص سیکٹر میں ہوگا، بعد میں کہا گیا کہ اسے دوسرے سیکٹر میں منتقل کر دیا گیا ہے کیونکہ وہاں ترقیاتی کام زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے۔ آج کئی سال گزرنے کے باوجود وہ پلاٹ کے انتظار میں ہیں۔ ان کے مطابق سوسائٹی کے دفتر کے چکر لگانا ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے جبکہ ہر بار ایک نئی یقین دہانی کے ساتھ انہیں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں فائلوں کے کاروبار میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بعض ڈویلپرز اپنے پاس موجود اصل زمین سے کئی گنا زیادہ فائلیں فروخت کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی سوسائٹی کے پاس اگر صرف 50 یا 100 کنال زمین موجود ہو تو وہ مارکیٹنگ، اشتہارات اور پراپرٹی ڈیلرز کے ذریعے سینکڑوں کنال کے پلاٹس فروخت کرنا شروع کر دیتی ہے۔ عوام کو ترقیاتی کام، مشینری، گیٹ اور خوبصورت بروشر دکھا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ منصوبہ تیزی سے مکمل ہو رہا ہے، جبکہ حقیقت میں زمین محدود اور منصوبہ غیر واضح ہوتا ہے۔ بعد میں انہی لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ نئے سیکٹر بن رہے ہیں، اضافی زمین خریدی جا رہی ہے یا منصوبے میں توسیع ہو رہی ہے۔
اسلام آباد کے پراپرٹی کاروبار سے وابستہ اویس چوہدری کے مطابق کئی ڈویلپرز صرف چند کنال زمین حاصل کر کے ہزاروں لوگوں کو فائلیں فروخت کر دیتے ہیں۔ بعض صورتوں میں زمین کرائے پر لے کر بھی بڑے منصوبوں کی تشہیر شروع کر دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ عموماً مکمل تصدیق کیے بغیر سرمایہ کاری کر دیتے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جو قسطوں پر پلاٹ خریدنے کے خواہش مند ہوتے ہیں کیونکہ انہیں “آسان اقساط” اور “محفوظ سرمایہ کاری” جیسے نعرے متاثر کرتے ہیں۔
اس سارے عمل میں پراپرٹی ڈیلرز بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ ہر ڈیلر فراڈ میں ملوث نہیں ہوتا، لیکن بہت سے ڈیلرز صرف کمیشن حاصل کرنے کیلئے فائلوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ اکثر انہیں خود بھی منصوبے کی مکمل قانونی حیثیت کا علم نہیں ہوتا۔ سوسائٹی مالکان مارکیٹنگ فرموں اور ڈیلرز کو پرکشش آفرز دے کر زیادہ سے زیادہ فائلیں فروخت کرواتے ہیں، جبکہ عام شہری یہ سمجھتے ہیں کہ شاید منصوبہ مکمل طور پر محفوظ اور منظور شدہ ہے۔
پاکستان میں غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کی تعداد بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق صرف اسلام آباد میں درجنوں ہاؤسنگ سوسائٹیز غیرقانونی ہیں جبکہ راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق راولپنڈی میں سینکڑوں سکیمیں غیر منظور شدہ یا غیرقانونی قرار دی جا چکی ہیں۔ ان سوسائٹیز میں عوام سے اربوں روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ہاؤسنگ سکیم میں سرمایہ کاری سے پہلے سب سے اہم مرحلہ این او سی اور قانونی حیثیت کی تصدیق ہے۔ ہر سوسائٹی کو متعلقہ ترقیاتی ادارے سے مختلف نوعیت کی منظوریوں اور این او سیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی سوسائٹی “این اور سی اپلائیڈ فار” یا “اپرول ان پراسس” جیسے جملے استعمال کر رہی ہو تو اسے خطرے کی علامت سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح منظور شدہ لے آؤٹ پلان کو دیکھنا بھی ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پلاٹ واقعی منظور شدہ حدود میں موجود ہے یا نہیں۔
وکیل عمر گیلانی کے مطابق خریدار کو صرف بروشر، اشتہارات یا پراپرٹی ایجنٹ کی بات پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے بلکہ خود موقع پر جا کر زمین دیکھنی چاہیے، ترقیاتی کام کا جائزہ لینا چاہیے اور مقامی افراد سے معلومات حاصل کرنی چاہییں۔ ان کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ زمین کی ملکیت، انتقال، عدالتی تنازعات اور کمپنی کی رجسٹریشن کی مکمل جانچ کی جائے۔ بہت سی سوسائٹیز اپنی اصل زمین سے کہیں زیادہ رقبہ مارکیٹنگ میں ظاہر کرتی ہیں جبکہ حقیقت میں صرف چھوٹا سا حصہ منظور شدہ ہوتا ہے۔
اگر کوئی شخص فراڈ کا شکار ہو جائے تو اسے فوری طور پر ثبوت اکٹھے کرنے چاہییں جن میں رسیدیں، الاٹمنٹ لیٹر، بینک ٹرانزیکشن، واٹس ایپ چیٹس، معاہدے، بروشر اور آڈیو ریکارڈ شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد پولیس، متعلقہ ترقیاتی ادارے اور ضرورت پڑنے پر نیب یا ایف آئی اے سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق فراڈ کے ایسے مقدمات میں دھوکہ دہی، امانت میں خیانت اور عوام سے فراڈ کی دفعات لگائی جا سکتی ہیں۔
قومی احتساب بیورو کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی میں متعدد غیرقانونی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں متاثرین کو کروڑوں روپے واپس دلائے گئے۔ کئی منصوبے زیرِ تفتیش ہیں جبکہ ہزاروں متاثرین کو مرحلہ وار ادائیگیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سے متاثرین قانونی کارروائی سے گریز کرتے ہیں یا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں “فائل” ہمیشہ “پلاٹ” نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ برسوں اقساط ادا کرتے رہتے ہیں مگر نہ قبضہ ملتا ہے اور نہ واضح جواب۔ اس لیے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرتے وقت سب سے اہم اصول یہی ہے کہ کسی بھی منصوبے کی قانونی حیثیت، این او سی، زمین کی ملکیت اور منظور شدہ لے آؤٹ پلان کی مکمل تصدیق کی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ممکن ہو تو صرف آن گراؤنڈ، منظور شدہ اور قبضہ شدہ پلاٹس میں سرمایہ کاری کی جائے کیونکہ یہی نسبتاً محفوظ راستہ ہے۔
