امریکی سینیٹ نے ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی

 

 

 

امریکی سینیٹ نے ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے اور امریکی فوج کو وہاں سے ہٹانے کی قرارداد منظور کرلی۔

ایران پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف امریکی سینیٹ نے ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے اور امریکی فوجی دستوں کو واپس بلانے کی قرارداد 47 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور کرلی۔یہ پہلی بار ہےکہ ایران تنازع شروع ہونے کےبعد امریکی سینیٹ نے ایسے اقدام کی منظوری دی ہےجو مستقبل میں ایران پر مزید امریکی حملوں کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کرسکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق یہ قرارداد اس بات کی علامت ہےکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف غیر مقبول جنگ سے نمٹنے میں ناکام ہوگئی ہے۔جنگ سے نہ صرف امریکا بلکہ دنیا بھر کی معیشتوں کو نصف ٹریلین ڈالر کا جھٹکالگا ہے۔

ایران پر 2 سے 3 روز میں حملہ کرسکتے ہیں : صدر ٹرمپ

میڈیا رپورٹس کے مطابق چار ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی جماعت سے الگ ہوکر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔ان سینیٹرز میں سوسان کولنز،لیسا مرکووسکی،رینڈ پاؤل اور بل کیسیڈی شامل ہیں۔قرارداد کے تحت ایران کےخلاف جاری فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کےلیے کانگریس سے باضابطہ منظوری درکار ہوگی۔

اب اس معاملے پر سینیٹ میں باقاعدہ بحث اور حتمی ووٹنگ ہوگی جس میں ریپبلکن قیادت قرارداد کو روکنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ڈیموکریٹ سینیٹر جون فیٹرمین اپنی جماعت کے واحد رکن تھےجنہوں نے قرارداد کی مخالفت کی جب کہ ریپبلکن سینیٹر بل کیسیڈی کی حمایت نے سیاسی حلقوں کو حیران کردیا کیوں کہ چند روز قبل ہی وہ اپنی جماعت کے پرائمری انتخاب میں شکست کھو چکے ہیں جہاں صدر ٹرمپ نے ان کے مخالف امیدوار کی حمایت کی تھی۔

 

Back to top button