عمران مخالف امریکی سازشی بیانیہ دوبارہ زیر بحث کیوں؟

پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کا سب سے متنازع اور حساس معاملہ “سائفر کیس” ایک بار پھر ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کر رہا ہے۔ امریکی صحافیوں کی جانب سے ایک مبینہ سفارتی دستاویز کی نقل جاری کیے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کے اُس بیانیے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کو ایک “امریکی سازش” کے تحت ہٹایا گیا۔

مبصرین کے مطابق یہ نیا تنازع صرف ایک دستاویز تک محدود نہیں بلکہ 2022 کے ان تمام سیاسی واقعات کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے جنہوں نے پاکستان کی سیاست، سول ملٹری تعلقات اور خارجہ پالیسی کو شدید متاثر کیا تھا۔ مبینہ سائفر نقل سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں، سوشل میڈیا اور تجزیہ کاروں میں یہ سوال دوبارہ زیرِ بحث آ گیا ہے کہ آیا واقعی عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے پیچھے بیرونی دباؤ تھا یا پھر یہ ایک سیاسی بیانیہ تھا جسے عوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے 8 مارچ 2022 کو تحریک عدم اعتماد پیش کی جبکہ اسی رات دفتر خارجہ کو وہ خفیہ سفارتی مراسلہ موصول ہوا جسے بعد میں “سائفر” کے نام سے جانا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے روز یہ دستاویز اُس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تک پہنچی اور پھر وزیر اعظم عمران خان کو اس سے آگاہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان نے 12 مارچ کو بعض منتخب صحافیوں کو بتایا تھا کہ اُن کے پاس “بہت اہم چیز” آ گئی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ انہیں کیسے ہٹایا جاتا ہے۔ اس کے بعد 27 مارچ 2022 کو ایک عوامی جلسے میں عمران خان نے ایک کاغذ لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے خلاف بیرونی سازش کی جا رہی ہے۔

بعدازاں عمران خان نے امریکی سفارتکار ڈونلڈ لو کا نام لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے پاکستانی سفیر کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کا پیغام دیا تھا، تاہم امریکی حکومت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ دوسری جانب اُس وقت کی اتحادی حکومت اور ریاستی حلقوں کا مؤقف تھا کہ سائفر کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا اور حساس سفارتی مراسلے کو عوامی بیانیہ بنانے سے قومی مفادات کو نقصان پہنچا۔

حالیہ مباحثے میں ایک مبینہ لیک شدہ آڈیو بھی دوبارہ توجہ حاصل کر رہی ہے جس میں عمران خان اور ان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے درمیان گفتگو سامنے آئی تھی۔ اس آڈیو میں مبینہ طور پر سائفر کو سیاسی طور پر استعمال کرنے اور اس سے “بیانیہ بنانے” پر بات کی گئی تھی۔ ناقدین کے مطابق اس گفتگو نے یہ سوال پیدا کیا کہ آیا سائفر کو حکومت کے خاتمے کے گرد ایک سیاسی داستان تشکیل دینے کیلئے استعمال کیا گیا۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے حامی اس نئی مبینہ دستاویز کو عمران خان کے مؤقف کی توثیق قرار دے رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ 2022 کے سیاسی بحران میں بیرونی عوامل شامل تھے۔ تاہم اب تک کسی سرکاری یا بین الاقوامی ادارے نے اس مبینہ سائفر نقل کی مکمل تصدیق نہیں کی۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سائفر کیس اب صرف ایک قانونی یا سفارتی تنازع نہیں رہا بلکہ یہ پاکستان کی سیاسی تقسیم، عوامی بیانیے اور ادارہ جاتی اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔ ایک طرف یہ معاملہ قومی سلامتی اور خفیہ سفارتی روابط سے جڑا ہوا ہے جبکہ دوسری طرف اسے سیاسی ہمدردیاں حاصل کرنے اور مخالفین پر دباؤ ڈالنے کیلئے بھی استعمال کیا گیا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ سائفر کی مبینہ نقل سامنے آنے سے اگرچہ قانونی حقائق تبدیل نہیں ہوتے، مگر اس نے ایک بار پھر 2022 کے بحران، عمران خان کی برطرفی اور امریکی تعلقات سے متعلق بحث کو تازہ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چار برس بعد بھی “سائفر” پاکستانی سیاست کے سب سے طاقتور اور متنازع موضوعات میں شامل ہے۔

Back to top button