’سپر ایل نینو‘ دنیا میں کون سا بڑا طوفان آنے والا ہے؟

دنیا ایک بار پھر ایک خطرناک موسمی بحران کے دہانے پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرینِ موسمیات اور عالمی سائنسی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ بحرالکاہل میں سمندری پانی غیرمعمولی رفتار سے گرم ہو رہا ہے، جس کے باعث 2026 کے اختتام تک ایک طاقتور “سپر ایل نینو” پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اگر یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو دنیا شدید گرمی، تباہ کن بارشوں، خطرناک سیلاب، خشک سالی اور خوراک کے بحران جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کر سکتی ہے۔

امریکی موسمیاتی ادارے کی تازہ پیش گوئی کے مطابق جولائی 2026 تک ایل نینو بننے کے امکانات 82 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ متعدد عالمی موسمی ماڈلز اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ معمول کا ایل نینو نہیں بلکہ “سپر ایل نینو” کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحرالکاہل کے مخصوص علاقوں میں سمندری درجہ حرارت معمول سے دو ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ بڑھ جائے تو اسے سپر ایل نینو کہا جاتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق ماضی میں سپر ایل نینو کے واقعات نے دنیا بھر میں تباہ کن اثرات مرتب کیے تھے۔ 1997-98 کے سپر ایل نینو کو تاریخ کے خطرناک ترین موسمی مظاہر میں شمار کیا جاتا ہے جس نے عالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا، لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور دنیا کے مختلف حصوں میں شدید سیلاب، جنگلاتی آگ اور قحط جیسی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ اب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آنے والا ممکنہ سپر ایل نینو اس سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سپر ایل نینو کے دوران بحرالکاہل میں دیو ہیکل سمندری لہریں بنتی ہیں جو 30 میٹر یعنی تقریباً 90 فٹ تک بلند ہو سکتی ہیں۔ اس کے اثرات صرف سمندری علاقوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کے موسمی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ بعض ممالک میں شدید بارشیں اور تباہ کن سیلاب آتے ہیں جبکہ کئی خطے خطرناک خشک سالی اور پانی کی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی نے ایل نینو جیسے قدرتی مظاہر کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ زمین کے بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ سے سمندروں میں حرارت پہلے سے زیادہ جمع ہو رہی ہے، جس کے باعث مستقبل میں موسمی واقعات کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے اب موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی، زرعی اور انسانی بحران بھی قرار دے رہے ہیں۔

اگر سپر ایل نینو شدت اختیار کرتا ہے تو دنیا بھر میں زرعی پیداوار شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں خوراک کی قلت، مہنگائی اور معاشی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح شدید گرمی کی لہریں انسانی صحت کیلئے بھی بڑا خطرہ بن سکتی ہیں، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نمایاں ہیں۔

ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات کریں، آبی ذخائر، خوراک اور ہنگامی ریسکیو نظام کو مضبوط بنائیں اور عالمی سطح پر موسمیاتی تعاون کو فروغ دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دنیا نے بروقت تیاری نہ کی تو آنے والا سپر ایل نینو انسانی تاریخ کے مہنگے ترین موسمی بحرانوں میں شامل ہو سکتا ہے۔

Back to top button