ٹرمپ، ایران اور خلیجی بحران، دنیا ایک اور بڑی جنگ کے دہانے پر؟

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو “محدود وقت” کی وارننگ دینے اور ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے کے بعد تہران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی نئی امریکی جارحیت کو پوری قوت کے ساتھ کچل دیا جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ کا اپنے ایک حالیہ بیان میں کہنا ہے کہ ایران کے پاس معاہدے تک پہنچنے کیلئے اب صرف چند دن باقی ہیں۔ ان کے مطابق تہران کو شاید جمعہ، ہفتہ یا اگلے ہفتے کے آغاز تک فیصلہ کرنا ہوگا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ جنگ سے بچنا چاہتے ہیں، مگر اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا ایران کو “ایک اور بڑا جھٹکا” دینے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت نے واضح پیغام دیا ہے کہ تہران کسی دباؤ یا دھمکی کے آگے جھکنے کیلئے تیار نہیں۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا کی کسی بھی نئی جارحیت کا جواب انتہائی سخت ہوگا اور ایرانی افواج مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ ایرانی فوج نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے دوبارہ حملے شروع کیے تو ایران “نئے محاذ” کھول دے گا، جس سے پورے خطے میں جنگ پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ صرف “طاقت کی زبان” سمجھتے ہیں، اسی لیے ایران بھی اپنے دفاع کیلئے مکمل قوت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ اس بیان نے واضح کر دیا ہے کہ تہران سفارتکاری کے ساتھ ساتھ عسکری تیاری بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کوئی قابل قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکا فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف مذاکراتی دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب فوجی دباؤ برقرار رکھ کر ایران کو رعایتوں پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس تمام صورتحال میں آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ نیٹو کے اعلیٰ ترین کمانڈر نے کہا ہے کہ اتحاد اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ ہرمز میں کیا کردار ادا کیا جا سکتا ہے، اگرچہ ابھی کوئی باضابطہ منصوبہ بندی شروع نہیں ہوئی۔ دوسری جانب ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلا رکھا جائے کیونکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کیلئے یہ راستہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران چھ ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے جبکہ اماراتی حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے ان کے جوہری پاور پلانٹ پر حملہ عراق کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اس پیشرفت نے خطے میں پراکسی جنگ اور غیر ریاستی عناصر کے کردار سے متعلق خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔دوسری طرف ایران نے یورپی ممالک پر بھی دوغلے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جرمن چانسلر فریڈرِش میرز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کو تو نظر انداز کیا جاتا ہے، مگر بعض غیر واضح واقعات پر اچانک بین الاقوامی قانون اور علاقائی سلامتی کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔
سیاسی و عسکری ماہرین کے مطابق صورتحال اس وقت انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگرچہ قطر، ترکیہ اور دیگر خلیجی ممالک سفارتی حل کیلئے متحرک ہیں، مگر امریکا اور ایران کے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں جنگ کے خطرات اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
