28 ویں آئینی ترمیم لانے کا اصل مقصد کیا ہے اور یہ کب آئے گی؟

پاکستان میں ایک بار پھر آئینی ترامیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور سیاسی و قانونی حلقوں میں مجوزہ “28 ویں آئینی ترمیم” پر بحث تیز ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کسی حتمی مسودے کو منظرِ عام پر نہیں لایا گیا، تاہم مختلف سیاسی رہنماؤں کے بیانات اور اندرونی مشاورتوں نے اس معاملے کو ملکی سیاست کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے مطابق اس وقت 28 ویں آئینی ترمیم پر باضابطہ طور پر نہ کوئی تیاری مکمل ہوئی ہے اور نہ ہی پارلیمان میں اس حوالے سے کوئی حتمی بحث شروع کی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت بجٹ کے بعد اس معاملے پر عملی پیشرفت کرے گی کیونکہ آئینی ترامیم کیلئے نہ صرف سیاسی مشاورت بلکہ پارلیمانی نمبرز اور اتحادی جماعتوں کا اتفاقِ رائے بھی ضروری ہوتا ہے۔ طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ نکات دوبارہ زیر غور لائے جائیں جو 27 ویں آئینی ترمیم میں شامل تھے مگر اتحادی جماعتوں کے اختلافات کے باعث منظور نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اس بار پہلے سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ پارلیمان میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب مجوزہ 28 ویں ترمیم کے حوالے سے کئی اہم تجاویز سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ توجہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی ایوارڈ)، 18 ویں ترمیم کے اختیارات، ووٹرز کی عمر، اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صوبوں کو منتقلی پر مرکوز ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور قرضوں کی ادائیگی سمیت کئی بڑے اخراجات اکیلے برداشت کر رہا ہے۔ اسی لیے حکومت چاہتی ہے کہ صوبے بھی وفاقی مالی ذمہ داریوں میں حصہ ڈالیں۔ تاہم حکومت نے یہ واضح کیا ہے کہ 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے یا صوبائی اختیارات واپس لینے سے متعلق خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں۔اسی طرح ووٹرز کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز بھی سیاسی بحث کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ بعض حکومتی شخصیات اس امکان کا ذکر کر چکی ہیں، لیکن وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر ابھی کوئی باضابطہ بحث نہیں ہو رہی۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو وفاق سے صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز بھی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے سماجی بہبود کے پروگراموں میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم اس معاملے پر بھی اتفاقِ رائے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کی جانب سے محتاط ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ ابھی تک نہ کوئی مسودہ دیکھا گیا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی باضابطہ مشاورت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق جب تک حکومت واضح نکات سامنے نہیں لاتی، تب تک اس ترمیم پر سنجیدہ بحث ممکن نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے مجوزہ ترمیم کو پہلے ہی مسترد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک کے مطابق حکومت خود ابھی تک واضح نہیں کہ ترمیم میں کیا شامل ہوگا، اس لیے اپوزیشن کو بھی اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کوئی ترمیم منظور ہوئی تو تحریک انصاف مستقبل میں اسے واپس لینے کی کوشش کرے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 28 ویں آئینی ترمیم صرف قانونی تبدیلیوں کا معاملہ نہیں بلکہ یہ وفاق اور صوبوں کے اختیارات، مالی وسائل کی تقسیم، انتخابی سیاست اور پارلیمانی طاقت کے توازن سے جڑا ایک حساس سیاسی موضوع بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کسی جلد بازی کے بجائے پہلے اتحادیوں اور دیگر سیاسی قوتوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کر رہی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتے اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ بجٹ کے بعد حکومت ممکنہ طور پر سیاسی مشاورت کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔ تاہم یہ واضح ہے کہ دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کیلئے کسی بھی بڑی آئینی ترمیم کی منظوری آسان نہیں ہوگی۔
