بزدار کا جانا ٹھہر گیا، صبح گیا کہ شام گیا

پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کی ناکامی کے گہرے ہوتے تاثر پر حزب اختلاف اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کے یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وزیر اعلی عثمان بزدار کا جانا ٹھہر گیا ہے اور پنجاب کے بعد وفاق میں بھی بڑی تبدیلی آئے گی۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق بل کی منظوری اور اتحادی جماعتوں کی ناراضی کے بعد پاکستان کا سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیلی کی طرف گامزن ہے جس کا آغاز پنجاب سےہوگا اورانجام وفاق میں تبدیلی پر ہوگا۔ یاد رہے کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے بارے میں حکومت کے اپنے وزرا اور اپوزیشن رہنماؤں دونوں کا یہ موقف ہے کہ وہ بطور چیف ایگزیکٹو صوبے کے معاملات چلانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں۔ تاہم دوسری جانب وزیراعظم عمران خان بزدار کو وسیم اکرم پلس ثابت دینے پر تلے بیٹھے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ تاہم پنجاب اسمبلی میں 20 پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے علیحدہ فارورڈ بلاک تشکیل دینے کے بعد اب معاملات بدلتے نظر آرہے ہیں اور یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں وزیراعظم شائد عثمان بزدار کو تبدیل کر دیں۔
اب رانا ثناء اللہ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ صوبے میں تبدیلی کے لیے وہ مسلم لیگ (ق) کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہیں۔ اس حوالے سے وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی چہ مگوئیاں بھی عروج پر ہیں۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اگلے مہینے یعنی فروری میں پنجاب میں سیاسی تبدیلیاں رُونما ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "پنجاب میں تبدیلی آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن جنوری کے بعد تبدیلی کی ہوائیں چلنا شروع ہو جائیں گی۔”
پنجاب میں حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 20 اراکین پنجاب اسمبلی نے مشترکہ طور پر اپنے مطالبات وزیر اعلٰی پنجاب کے سامنے رکھے ہیں۔ جن میں ترقیاتی فنڈز کے اجرا سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔ اس گروپ کو پریشر گروپ کا نام دیا جا رہا ہے جس نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ یہ گروپ وزیراعلی بزدار کے ایما پر بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد ان کی وزارت اعلی بچانا ہے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کی پنجاب حکومت مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اتحاد کے باعث قائم ہوئی تھی اور عثمان بزدار کی حکومت صرف بارہ ووٹوں کی اکثریت پر قائم ہے جن میں سے دس ووٹ مسلم لیگ قاف کے ہیں۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات میں اضافہ ہوا ہے۔ قومی مالیاتی ایوارڈ اور وفاق سے ملنے والے حصے کے باعث صوبوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ان کے بقول انہی وجوہات کی بنیاد پر پنجاب حکومت کی کارکردگی کسی بھی حکمراں سیاسی جماعت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔
سینئر تجزیہ کار عارف نظامی سمجھتے ہیں کہ تبدیلی کی ہواؤں کا رُخ پنجاب کی طرف ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وفاق کی طرح تحریک انصاف کا پنجاب میں بھی بہت کمزور اتحاد ہے اور مسلم لیگ (ق) کے بغیر حکومت کی اکثریت پنجاب میں ختم ہو سکتی ہے۔
عارف نظامی کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کی وجہ سے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اپنے آپس کے مسائل کی وجہ سے بھی پنجاب پر سب کی نظریں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد لانا صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں ہو گا۔ اس کا تعلق ملک کی مقتدر قوتوں کے ساتھ بھی ہے۔
عارف نطامی کا کہنا تھا کہ سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے اور چوہدری برادران اور وفاقی حکومت میں شامل مسلم لیگ (ق) کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اپنے رابطے بحال کر لیے ہیں۔ لہذا پنجاب حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے جانے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ کپتان نے قاف لیگ کے تحفظات دور کرنے کے لیے انہیں پنجاب میں فری ہینڈ تو دے دیا ہے لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں اب بزدار کا جانا ٹھہر چکا ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ق) نے عثمان بزدار کی ہمیشہ حمایت کی ہے اور اگر اب وہ خود ہی حکومت کے خلاف کھڑے ہو جاتے تو حکومت اور زیادہ مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ البتہ فیاض چوہان کا اصرار ہے کہ پنجاب میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی افواہیں افواہ ساز فیکٹریاں پھیلاتی ہیں۔جو چاہتی ہیں کہ صوبہ پنجاب کے اندر تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کیا جا سکے۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں پچھلے تمام بڑے سیاسی فیصلے ملکی فوجی اسٹبلشمنٹ کرتی آئی ہے اور اطلاعات یہی ہیں کہ وہ بھی عثمان بزدار کو بدلنے کے درپے ہے۔ لہذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ عثمان بزدار کا جلد یا بدیر جانا ٹھہر چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button