ن لیگ نے پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کی تیاریاں شروع کر دیں

مسلم لیگ ن نے پنجاب حکومت کی تبدیلی کیلئے ایوان میں آئینی اور جمہوری طریقے کے تحت ہلچل مچانے کی تیاری کرلی ہے۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد مسلم لیگ ن نے پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کی تیاری شروع کردی ہیں، جس کے تحت 27 جنوری کے روز پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان اسمبلی کو ان ہاؤس تبدیلی کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے گا۔
صدرن لیگ شہبازشریف کی ہدایت پر پارلیمانی پارٹی پنجاب کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔ اجلاس کی صدارت حمزہ شہباز اور رانا ثناء اللہ کریں گے۔ بتایا گیا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں تمام ارکان اسمبلی کو شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔ اجلاس میں ممکنہ ان ہاؤس تبدیلی کے حوالے سے ارکان کو اعتماد میں لیا جائے گا، ان ہاؤس تبدیلی سے پہلے ن لیگ نے کارکنوں اور عوام کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں شہباز شریف کی جانب سے ورکرز کنونشن منعقد کرنے پر بھی مشاورت ہوگی، شہباز شریف کی حکومتی ناراض ارکان اور اتحادیوں سے رابطوں کی ہدایات پر عملدرآمد کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
پنجاب میں ن لیگ کی تنظیم سازی کے حوالے سے مشاورت ہوگی، پنجاب اسمبلی میں اس وقت ن لیگ کے 166 ارکان ہی
واضح رہے گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماء حمزہ شہباز بھی کہہ چکے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ان ہاوس تبدیلی کوئی غیر آئینی بات نہیں، مسلم لیگ (ن) نے اپنے دروازے اور کھڑکیاں سب کیلئے کھول رکھے ہیں، عام آدمی پر عیاں ہو گیا کہ پاکستان میں نااہل ترین حکومت کی وجہ سے گندم کا بحران پیدا ہوا جبکہ چینی کا بحران آنے والا ہے، نااہلوں کی حکومت نے کسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔
دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے مستعفی ہونے کی قرار داد جمع کرادی ہے۔ قرارداد کے متن میں بیان کیا گیا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی سرپرستی میں پنجاب کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے لہذا وہ فی الفور اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ متن میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب میں ایک بھی میگا پروجیکٹس شروع نہ ہونے کے باوجود 300 فیصد کرپشن بڑھ گئی ہے، پہلے جو فائل ایک ہزار میں نکلتی تھی اب وہی فائل پانچ سے 10 ہزار روپے میں نکل رہی ہے، یہاں تک کہ نئے پاکستان میں ایس ایچ او اور پٹواری کے ریٹ 25 سے 30 ہزار تک پہنچ گئے ہیں۔ عظمیٰ بخاری کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے کرپشن کے خاتمے کی قلعی کھول دی ہے، رپورٹ سے معلوم ہو گیا کہ 10 سال بعد پاکستان میں کرپشن مزید بڑھ گئی ہے۔
