بزدار کا عمران کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا امکان

عمران خان کے وسیم اکرم پلس کہلانے والے عثمان بزدار نے جس سبک رفتاری سے سیاست اور پی ٹی آئی کو چھوڑ کر فوج کی حمایت میں بیان جاری کر دیا ہے، اسے دیکھتے ہوئے سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار نے جس طرح تحریک انصاف کو چھوڑ کر فوج سے محبت کا دم بھرا ہے وہ اپنے ہی سابق کپتان عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن سکتے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے سابق وزیر اعلی اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قابل اعتبار ساتھی سردارعثمان بزدارکی طرف سے سیاست سے دستبرداری کے اعلان نے پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑی پریشان کن صورتحال پیدا کر دی ہے۔

جنوبی پنجاب کے علاقے تونسہ سے تعلق رکھنے والے چون سالہ عثمان بزدار کو پچھلے چودہ مہینوں سے کرپشن کے متعدد مقدمات کا سامنا تھا۔ 2 جون کے روز ایک مختصر پریس کانفرنس میں انہوں نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔

واضح رہے کہ عثمان بزدار پی ٹی آئی کے دور حکومت میں تین سال سے زائد عرصے تک پنجاب صوبے کے وزیراعلیٰ رہے۔ انہیں پی ٹی آئی کے متعدد اہم اور سینئر لیڈروں کو نظر انداز کرکے عمران خان نے وزیر اعلی بنایا تھا۔کہا جاتا ہے کہ پچھلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بار بار کے مشوروں کے باوجود عمران خان نے انہیں وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔عثمان بزدار کی بطور وزر اعلی کارکردگی سے متعلق پی ٹی آئی میں ان کے خلاف خبریں گردش کرتی رہتی تھیں لیکن چیئرمین پی ٹی آئی عمراان خان نے ہمیشہ ان کی کارکردگی کو سراہا اور وہ انہیں ”وسیم اکرم پلس‘‘ قرار دیتے تھے۔بعد ازاں سیاسی حالات بدل جانے کے بعد عمران خان نے اپنی حکومت کے آخری ایام میں عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ سے ہٹا کر پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ مقرر کیا تھا۔

عثمان بزدار کی سیاست سے دستبرداری بارے سینئر تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ ان کے لیے عثمان بزدار کے سیاست چھوڑنے کا اعلان اس لیے حیران کن نہیں ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ عثمان بزدار بہت کمزور آدمی ہیں اور ان میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ کسی دباؤ کا زیادہ دیر مقابلہ کر سکیں۔نیازی کے بقول، ”عمران خان نے اس شخص کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا لیکن یہ عمران خان کو جتنی جلدی چھوڑ گیا ہے اس سے مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سردار عثمان بزدار عمران کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن سکتے ہیں۔‘‘ اس سوال کے جواب میں کے اس پریس کانفرنس کے بعد عثمان بزدار کے خلاف دائر کیے جانے والے مقدمات کا کیا بنے گا حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ وہی بنے گا جو اس ملک میں ہمیشہ سے بنتا آیا ہے۔

دوسری جانب سینئر تجزیہ کار اور ٹی وی اینکر سجاد میر کا کہنا ہے کہ سردار عثمان کی سیاست سے دستبرداری طاقتور حلقوں اور عوام کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ان کے خیال میں نو مئی کے واقعات کے بعد جو حالات سامنے آئے ہیں عثمان بزدار کو اس سے الگ کرکے دیکھنا ممکن نہیں ہے۔سجاد میر نے کہا، ”اس وقت تک پاکستان تحریک انصاف کے سو سے زائد افراد پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان کی پریس کانفرنس نو مئی کے واقعات کی مذمت، پاک فوج کی حمایت اور سیاست، پی ٹی آئی یا اس کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان لیے ہوئے ہوتی ہے۔‘‘

تاہم ممتاز تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی ملکی تاریخ میں لوگ سیاسی وفاداریاں بدلتے رہے ہیں لیکن پاکستانی سیاست میں یہ پہلی دفعہ دیکھا جا رہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ سیاست سے ہی کنارہ کش ہوتے جا رہے ہیں۔سلمان غنی کا مزید کہنا تھا، ” اسی طرح ماضی میں اداروں کی مخصوص پالیسیوں یا ان کے کچھ مخصوص طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن جس طرح ماضی قریب میں اداروں کو براہ راست ٹارگٹ کیا گیا ہے وہ ایک نیا رجحان ہے اور اسی وجہ سے نوبت موجودہ حالات تک پہنچی ہے۔ ‘‘

سلمان غنی کے مطابق عثمان بزدار پہلی مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن بنے تھے اور دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات سے ذرا پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے آخری آدمی تھے۔ لیکن اس کے باوجود عمران خان نے انہیں وزیر اعلیٰ بنا کر بہت سوں کی مخالفت مول لی تھی۔ لیکن وہ بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے نہ رہ سکے۔

خیال رہے کہ نیب اور اینٹی کرپشن کے مقدمات تو وسیم اکرم پلس پر چل ہی رہے تھے ۔ان مقدمات میں موصوف ضمانتوں پر بھی تھے۔ نیب اور لاہور ہائی کورٹ کی پیشوں پر بھی عدالت آنے سے گھبرا رہے تھے۔ عدالت نہ آنے کی وجہ وکیل کے ذریعے جج کو دل میں درد ہونے کا بتایا جاتا رہا۔پولیس گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارتی رہی مگر عثمان بزدار کسی کے ہاتھ نہ آئے، پھر خبر آئی کے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پہاڑوں میں چھپ گئے اور مزے میں ہیں۔ 9-10 مئی کے واقعات ہوگئے مگر سائیں کہیں نظر نہیں آئے اور نہ ہی کوئی بیان سامنے آیا یوں عثمان بزدار کی طرف مکمل خاموشی نظر آئی۔مگر آج اچانک 2 جون کو کوئٹہ میں نمودار ہوئے اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا اور وضاحت دی کہ میں پاک فوج کے ساتھ تھا اور ہوں۔ لیکن پارٹی چھوڑنے اور سیاست سے دستبراری کے حوالے سے کوئی وجہ نہیں بتائی۔

عثمان بزدار کے قریبی دوست کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار پر بہت پریشر تھا 9 مئی سے پہلے بھی عثمان بزدار کو پیغامات بجھوائے گئے، تاہم انہوں نے عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑا اور خاموش رہے لیکن 9 مئی کے واقعات کے بعد وہ سیاست سے بریک لینا چاہتے ہیں اس لیے انہوں نے سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا ہے ۔جب عثمان بزدار کے قریبی ساتھی سے پوچھا کہ عثمان بزدار پر سیاست سے دستبرداری کا پریشر کس کا تھا تو انہوں نے بتایا کہ عثمان بزدار کو فیملی کی طرف سے بہت پریشر تھا کہ ابھی کچھ عرصہ سیاست کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی لئے انھوں نے سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔

Back to top button