بشریٰ بی بی نےعمران کو کیسےیرغمال بنایا؟

عمران خان بطور وزیر اعظم بشریٰ بی بی کے اتنے زیر اثر تھے کہ کسی دوسرے ملک کا سرکاری دورہ بھی انکی اجازت کے بغیر نہیں کرتے تھے، چاہے وہ پاکستان کے لیے کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو۔ پی ٹی آئی حکومت کے تمام اہم فیصلے بھی سابقہ خاتون اول ہی کرتی تھیں۔ اگر وہ اجازت دیتیں تو وزیراعظم دوسرے ملک کا دورہ کرتے اور اگر اجازت نہ ملتی تو غیر ملکی دورہ منسوخ ہو جاتا۔ اگر سرکاری میٹنگز کے دوران بھی خاتون اول وزیراعظم کو بلا لیتیں تو وہ فوراً اٹھ کر چلے جاتے۔
یہ انکشافات سینئر صحافی جاوید چوہدری نے جنرل باجوہ کیساتھ ایک طویل نشست کے بعد کیے ہیں۔ آرمی چیف نے سینئر صحافی کو بتایا کہ عمران خان نے بطور وزیر اعظم ساڑھے تین برس میں برطانیہ کا ایک بھی دورہ اسلئے نہیں کیا کہ بشریٰ بی بی نہیں چاہتی تھیں کہ عمران لندن جائیں اور اپنے بیٹوں سے ملیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے بڑی کوشش کر کے 2021 میں برطانیہ سے وزیراعظم کے دورے کا دعوت نامہ منگوایا لیکن خان صاحب نے خاتون اول کے کہنے پر دورہ اچانک ملتوی کر دیا۔ برطانوی ہائی کمشنراس پر روہانسا ہو گیا۔ سینئر صحافی کے بقول آرمی چیف جنرل باجوہ نے بتایا کہ یوں بلا وجہ دورے سے انکار برطانیہ اور اسکے ہائی کمشنر کی بے عزتی تھی‘ جب ہائی کمشنر نے گلہ کیا تو جنرل باجوہ نے ان سے کہا کہ ’’ایکسی لینسی! وزیر اعظم میرا باس ہے۔ میں اسے کیسے دورے پر مجبور کر سکتا ہوں؟‘‘ اسکے باوجود وزیر اعظم کو سمجھانے کی کوشش کی گئی مگر وہ نہیں مانے اور یوں برطانیہ کے ساتھ بھی تعلقات خراب ہو گئے۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا خیال تھا کہ یہ فیصلے خاتون اول کر رہی ہیں اور وزیراعظم ان کے مکمل زیر اثر ہیں۔ جب وزیراعظم کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی تھی تو ان کا جواب ہوتا تھا’’ بشریٰ بی بی ایک متقی اور پرہیز گار خاتون ہیں‘ وہ چھتیس چھتیس گھنٹے کا روزہ رکھتی ہیں‘‘۔ اس جواب کے بعد انہیں سمجھانے والے ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر خاموش ہو جاتے تھے۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ خاتون اول کے بارے میں بھی بار بار وزیر اعظم کو مطلع کرتی رہی‘ جنرل باجوہ کی خاتون اول سے پہلی ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی تھی۔ وزیر اعظم نے حکومت سنبھالنے کے بعد وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان کر دیا تھا۔ وہ پی ایم ہاؤس میں ملٹری سیکریٹری کے بنگلے میں رہتے تھے‘ وزیراعظم نے آرمی چیف اور بیگم باجوہ کو کھانے کی دعوت دی۔ کھانے کی میز پر چار لوگ تھے‘ عمران خان‘ جنرل باجوہ‘ خاتون اول اور بیگم باجوہ۔ عمران نے میز پر بیٹھتے ہی حسب معمول کسی دوسرے کا انتظار کیے بغیر ہی کھانا شروع کر دیا‘ جنرل باجوہ بھی دائیں بائیں دیکھ کر کھانا کھانے لگے، لیکن خاتون اول برقعے میں تھیں اور وہ کھانا نہیں کھا رہی تھیں۔ جنرل باجوہ نے ان سے کھانے کی درخواست کی تو خاتون اول نے جواب دیا‘ میں بعد میں اپنے کمرے میں کھاؤں گی‘ کھانے کے بعد وزیراعظم اور جنرل باجوہ ڈرائنگ روم میں آ گئے اور دونوں خواتین زنانہ حصے میں چلی گئیں‘ واپسی پر راستے میں بیگم صاحبہ نے جنرل باجوہ سے کہا ’’آپ اگر وزیراعظم کو بچا سکتے ہیں تو بچا لیں‘‘ جنرل باجوہ نے تفصیل پوچھی لیکن بیگم صاحبہ نے اس موضوع پر مزید بات کرنے سے انکار کر دیا۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر 25 اکتوبر 2018 کو ڈی جی آئی ایس آئی بن گئے۔ وہ بھی وزیر اعظم کو مختلف اوقات میں خاتون اول کے حوالے سے مطلع کرتے رہے‘ آخر میں وہ وزیراعظم کے پاس ثبوت بھی لے کر گئے لیکن عمران خان نے ا ن ثبوتوں پر توجہ دینے کے بجائے ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی کی خواہش ظاہر کر دی۔ وزیراعظم جنرل فیض حمید کو ڈی جی لگانا چاہتے تھے‘ جنرل باجوہ نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی ’’سر فوج میں افسر کچھ نہیں ہوتے ادارہ ہوتا ہے‘ جنرل عاصم منیر شان دار افسر ہیں، آپ کا فیصلہ درست نہیں‘‘، مگر عمران نہیں مانے اور انہیں پوسٹنگ کے صرف آٹھ ماہ بعد ہی ہٹا کر فیض حمید کو نیا ڈی جی آئی ایس آئی بنا دیا۔
جنرل باجوہ ہر فورم پر کہتے ہیں فوج نے عمران خان کی محبت میں دو جرنیلوں کے امیج اور دو کے کیریئرکی قربانی دی‘ جاوید چوہدری کے بقول یہ جنرلز قمر باجوہ‘ عاصم منیر‘ فیض حمید اور فیصل نصیر ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کو جنرل عاصم منیر کی عاجزی پسند آ گئی اور اسے وہاں پہنچا دیا جس کی کسی کو بھی توقع نہیں تھی۔
