دہشت گردی کا ناگ دوبارہ سے پھن کیوں پھیلا رہا ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے تحریک طالبان کی جانب سے ملک بھر میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی  کےحملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے حالات ایسے نازک موڑ پر پہلے کبھی نہیں پہنچے تھے۔ پہلے ہم نے جب فیصلہ کیا دہشت گردوں کی بیخ کنی کا اہتمام ہوا۔ رد الفساد سے لے کر ضرب عضب تک بہت آپریشن ہوئے اور ہر آپریشن نے کامیابیاں حاصل کیں، لیکن وقت نے بتایا کہ وہ کامرانیاں وقتی تھیں۔ وہ خوشیاں عارضی تھیں کیونکہ دہشت گردی کا ناگ پھر سر اٹھانے لگتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ معاملہ بہت نازک ہے۔ ایک طرف آپریشن ناگزیر ہے، دوسری طرف خالی خزانہ قوم کا منہ چڑا رہا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ ہم اس حقیقت سے کتنی بھی آنکھیں چرائیں مگر کڑوا سچ یہ ہے کہ پاکستان میں ایک بار پھر پُرسے دینے کا موسم آ گیا ہے۔ غم و اندوہ کی جس کیفیت کا شکار ہم 2022 تک رہے، وہی واردات ایک بار پھر ہو چکی ہے۔ دہشت گردی کا گھن پھر ہمارے تن کو چاٹنے کے لئے تیار ہے اور ہماری ہتھیلی پر آنسوئوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ کوئی ایک واقعہ ہو تو اس پر خاموش رہا جا سکتا ہے لیکن اب تو واقعات کا تسلسل اور تواتر ہے جو ہمیں چین سے سونے نہیں دے رہا۔ شاید ہماری اپنی ہی عاقبت نا اندیشیاں ہمارے سامنے آ رہی ہیں۔

عمار مسعود کے بقول چند سال پیشتر ہم سمجھتے تھے کہ اب دشمن کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ اب رگوں میں پھیلا ہوا زہر زائل ہو چکا ہے۔ اب ہم تریاق دریافت کر چکے ہیں لیکن حقائق کچھ اور ہی گواہی دے رہے ہیں۔ وہ جو خدشے تھے، اب خطرہ بن چکے ہیں۔ وہ جو خوف تھے، اب عیاں ہو چکے ہیں۔ اب بات نہ ماضی کی غلط پالیسیوں کی ہے نہ حال کی درماندگی کی ہے۔ اب ہمیں ایک مخدوش مستقبل درپیش ہے جس میں نہ راستہ واضح ہے نہ منزل میسر ہے۔ ہم اس مقام پر کیسے پہنچے یہ ایک لمبی بحث ہے۔ ضیا الحق کے افغان جہاد کی بات کریں یا افغانستان کو اپنا صوبہ بنانے کے خواب کا قصہ چھیڑیں۔ طالبان کو بھائی قرار دینے والوں کو الزام دیں یا پھر انہیں دفاتر کھول کردینے کی سہولت مہیا کرنے والوں کا گریبان پکڑیں ۔ اپنی سپاہ کی بے حرمتی کا ماتم کریں یا پھر اپنی حکومتوں کی بے حسی کارونا روئیں۔ اپنی کمزور خارجہ پالیسی کا گلہ کریں یا پھر امریکہ نواز پالیسیوں پر خود کو گروی رکھنے پر سینہ پیٹیں۔ جو کچھ بھی کریں، اب ہم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے کہ دہشت گردی کے واقعات اب تسلسل پکڑ چکے ہیں۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ یہ واقعات کسی ایک صوبے فرقے یا فرد تک محدود نہیں۔ خوف کی فصیل لامحدود ہے۔ دارالحکومت سے لے کر صوبائی دارالحکومت تک، مسجدوں سے لے کر مدارس تک ، پولیس کے جوانوں سے لے کر فوج کے سپاہیوں تک سب ہی نشانے پر ہیں۔ دہشت گرد گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ نشانے تاک رہے ہیں۔ مظلوموں اور محافظوں کے ٹھکانوں کو جانچ رہے ہیں۔ اس عالم میں کون سا ملک معاشی امداد لے کر آئے گا َ؟ کون دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا؟ کون اپنے ہاں آئے گا اور جب کوئی اپنے یہاں سے جائے گا تو وہ دساور میں کیا مقام پائے گا؟ کن سوالوں کا سامنا کرے گا؟ کن جوابوں سے دنیا کو مطمئن کرے گا؟ کیسے کہے گا کہ ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کریں، جی وہی ملک جہاں دھماکے ہوتے ہیں جہاں دہشت گردی کا ناگ ناچتا رہتا ہے۔ جہاں مسجدوں تک میں خوف کا راج رہتا ہے۔ جہاں محافظ اپنی حفاظت پر مجبور ہیں۔ جہاں کوئی محفوظ نہیں۔ جہاں ایسے لوگ مسلط ہونا چاہتے ہیں جن کی نظر میں قانون کوئی چیز نہیں۔

عمار مسعود مطابق پاکستان کے حالات ایسے موڑ پر پہلے کبھی نہیں پہنچے تھے۔ ایک جانب ہمیں دہشت گردی کا سامنا ہے تو دوسری جانب تاریخ کا بدترین معاشی بحران سر اٹھائے کھڑا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ہم دہشت گردوں سے نمٹیں یا معیشت کو بچائیں۔ موجودہ معاشی حالات میں اب جب غریب کا چولہا بجھ گیا ہے، جب فلاح کے سب وعدے خام ہو گئے ہیں تو ایسے میں مستقبل کی فکر کرنے کی فرصت کسے ہے۔ اب دو وقت کی روٹی کھائیں یا ملک بچائیں؟ اس سوال کے جواب میں لاکھوں سوال پوشیدہ ہیں اور ہر سوال کے دامن میں کانٹے ہی کانٹے ہیں۔ ببول کی فصل جب بوئیں گے تو انجام ایسے ہی نازک موڑ ہوں گے۔ اب جو فیصلہ کرنا ہے وہ آنکھیں بند کر کے تو نہیں ہو سکتا۔ وہ فیصلہ ریت میں سر دے کر تو ہو نہیں سکتا۔ وہ فیصلہ تعطل کا تو شکار نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمیں آج اور ابھی کرنا ہے۔ اب تاخیر کا ظلم مزید نہیں ہو سکتا۔ اب تدبیر کا ہنر ہی معاملات کی گرہ کھول سکتا ہے۔ اب حکمت کا کوئی دریچہ ہی اس گرداب سے نکال سکتا ہے۔اب وہ مرحلہ آ چکا ہے جب پیٹ پر پتھر باندھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ اس نفرت کے عتاب کو ختم کئے بغیر کوئی حل نہیں۔ اب ماضی کی غلط پالیسیوں پر تنقید کا ووٹ نہیں ہے۔ اب وقت ہے یک جان ہو کر یک دل ہو کر ایک نئے عزم سے ان لائق ِنفرین قوتوں کو شکست دینے کا۔ یہ مرحلہ قوم کیلئے تکلیف دہ بھی ہوگا اور خوش کن بھی۔ خوش کن اس اعتبار سے کہ اب یہ جنگ آخری ہو گی اور تکلیف دہ اس لئے کہ ہمارے پاس خالی کیسے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے لیکن ظلم کی ان داستانوں کو بالآخر ختم کرنا ہو گا ورنہ یہ گھن سارے بدن کو چاٹ جائے گا۔ ریاست کی جڑیں کھوکھلی ہو جائیں گی۔ ہمارے پاس اب معذرت کے الفاظ کی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے دامن میں اب وضاحتوں اور مفاہمتوں کی جگہ نہیں ہے۔ اب ضرب کاری درکار ہے۔ ایسی ضرب جس سے اس وطن عزیز کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے۔ جس سے نفرت کے مینار ہمیشہ کے لئے منہدم کئے جاسکیں ۔ جس سے یہ ملک امن کا گہوارہ بن سکے۔

Back to top button