بطور DG ISI فیض حمید کا دور متنازع ترین کیوں رہا؟

https://youtu.be/EOGwTX29WDU

بطور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا دور پاکستانی سیاست میں کھلی مداخلت کرنے، عدلیہ پر دباؤ ڈالنے اور اسٹیبلشمنٹ مخالف صحافیوں کو اغوا کرنے اور انہیں گولیاں مارنے جیسے افسوسناک واقعات کی وجہ سے متنازعہ ترین ادوار میں شمار کیا جائے گا۔ فیض حمید سے پہلے دو سابق ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا اور ظہیر الاسلام کے ادوار کو بھی متنازعہ ترین خیال کیا جاتا ہے جنہوں نے فوج کو بری طرح سیاست میں ملوث کردیا۔ اگر فیض حمید کے دور میں ابصارعالم کو گولیاں ماری گئیں تو احمد شجاع پاشا کے دور میں سلیم شہزاد کو قتل کیا گیا اور ظہیر الاسلام کے دور میں حامد میر کو گولیاں ماری گئیں۔
یاد رہے کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کا خواب احمد شجاع پاشا نے دیکھا تھا جسے آگے بڑھانے کا مشن ظہیرالاسلام کے ذمہ لگا اور پھر جنرل قمر باجوہ کے ہاتھوں اسکی تعبیر ہوئی۔ لیکن افسوس کہ عمران کا اقتدار پاکستانی عوام کے لیے ایک بھیانک خواب ثابت ہوا۔
حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر بنانے کا بنیادی مقصد انہیں آرمی چیف کے عہدے کے لئے تیار کرنا ہے کیونکہ فوج کا سربراہ بننے کے لئے کور کو کمانڈ کرنا لازمی ہوتا ہے جو انہوں نے ابھی تک نہیں کی تھی۔ خیال رہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نومبر 2022 میں ریٹائرڈ ہو رہے ہیں اور فیض حمید کو وزیراعظم عمران خان سے خاص قربت کی وجہ سے اس عہدے کے لیے فیورٹ خیال کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ عمران خان ایک سیاسی جرنیل کو آرمی چیف بنانے کا رسک لیتے ہیں یا نہیں۔ بطور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا دور اس لئے متنازعہ سمجھا جاتا ہے کہ اس میں طاقتور ترین خفیہ ایجنسی بالکل بھی خفیہ نہ رہی اور ہر معاملے میں کھل کر سامنے آگئی، چاہے وہ سیاست میں مداخلت ہو، عدالتوں سے من مرضی کے فیصلے لینا ہو یا اسٹیبلشمنٹ مخالف صحافیوں کو سبق سکھانا ہو۔
چنانچہ اپوزیشن کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف نیب کی کارروائیوں میں ایجنسی بھی پورا حصہ ڈالتی رہی۔ یہ الزام بھی لگتا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی میں ایجنسی کا مرکزی کردار تھا۔ یاد رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جون 2018 میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایس آئی نے مرضی کے فیصلے دینے پر انھیں وقت سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنوانے اور ان کے خلاف دائر ریفرنس ختم کروانے کی پیشکش کی تھی۔
جسٹس شوکت صدیقی نے یہ الزام راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لگایا تھا جس کا حتمی نتیجہ ان کی بطور جج برطرفی کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ اپنی برطرفی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی نے الزام لگایا تھا کہ فیض حمید کی بات نہ ماننے پر ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی اور پھر جستس ثاقب نثار نے انہیں برطرف کردیا۔ تاہم فیض حمید اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے فیض حمید کو اپریل 2019 میں میجر جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر لیفٹنٹ جنرل بنایا گیا تھا۔ وہ اس سے پہلے آئی ایس آئی میں انٹرنل سکیورٹی کے شعبے کے سربراہ تھے۔ میجر جنرل فیض حمید کا نام تب ابھر کر سامنے آیا جب نواز شریف دور میں تحریک لبیک ختمِ نبوت کے حلف نامے میں تبدیلیوں پر احتجاج کر رہی تھی۔ نومبر 2017 میں شروع ہونے والا یہ احتجاج کئی دن جاری رہا اور آخر میں وزیر قانون زاہد حامد کو مستعفی ہونا پڑا۔ احتجاج ختم کروانے کیلئے تحریکِ لبیک اور وفاقی حکومت کے مابین فوج کی معاونت سے ایک معاہدہ طے پایا تھا جس پر آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیض حمید کے دستخط موجود تھے۔ اس اقدام پر سخت عوامی تنقید کی گئی تھی۔
فیض آباد دھرنے کے حوالے سے فوج کے کردار پر سپریم کورٹ نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل فیض حمید کیسے دھرنے والوں سے معاہدہ کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے پر از خود نوٹس لیا۔ جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دھرنے پر فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو حکم دیا کہ وہ ایسے فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف وزری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ عدالت نے آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو کے علاوہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کریں۔
تاہم فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے اپریل 2019 میں میجر جنرل فیض حمید کو لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی۔ اس پروموشن کی ٹائمنگ بہت معنی خیز تھی اور اسے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ کے لیے ایک واضح پیغام سے تعبیر کیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ڈی جی آئی ایس آئی بننے کے بعد فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں نااہلی کا ریفرنس دائر کردیا گیا۔ تب عدالتی حلقوں میں یہ تاثر عام تھا کہ طاقتور حلقے فیض آباد دھرنا کیس کے عدالتی فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر وزارتِ دفاع اور تحریک انصاف کی نظر ثانی کی کئی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس تو مسترد کر چکی ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ اب بھی ان کا پیچھا کر رہی ہے اور اور ان کو اگلا چیف جسٹس اور پاکستان بننے سے روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
فیض حمید کا دور میڈیا کے لیے بھی افسوسناک ترین رہا۔ اس دور میں نہ صرف میڈیا کی آزادی مکمل طور پر سلپ کر لی گئی بلکہ اسلام آباد میں کئی اسٹیبلشمنٹ مخالف نامور صحافیوں کے اغواء اور انہیں گولیاں مارنے کے خونی واقعات بھی پیش آئے جن کا الزام خفیہ ایجنسی پر عائد کیا گیا۔ شاید اسی لیے مطیع اللہ جان کو اغوا کرنے والے، ابصار عالم کو گولی مارنے والے اور اسد طور کے گھر میں گھس کر وحشیانہ تشدد کرنے والوں کا کوئی سراغ نہ مل سکا حالانکہ ان تینوں واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز موجود ہیں اور ملزمان کے چہرے بھی صاف نظر آ رہے ہیں۔ فیض دور کا ایک اور بڑا واقعہ پاکستان کے سینئر ترین صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کا جیو ٹی وی سے آف ائر کیا جانا تھا جس کی وجہ ان کی جانب سے اسد طور پر حملے کے بعد اسلام آباد میں کی جانے والی ایک تقریر تھی۔

Back to top button