بلوچ نوجوان مسلح جدوجہد کا راستہ اپنانے پر مجبور کیوں؟

https://youtu.be/rbVh5W915so
ریاست کی جانب سے عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھنے والے پڑھے لکھے قوم پرست بلوچ نوجوانوں کے جائز مطالبات پر غور کرنے کی بجائے ان کے ساتھ بندوق کے زور پر نمٹنے کی روش انہیں مسلح جدوجہد کا راستہ اپنانے پر مجبور کر رہی ہے۔
حالیہ دنوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپ میں اپنے جان گنوانے والا ایم فل کا طالبعلم شہداد بلوچ بھی یہی سمجھتا تھا کہ پاکستانی ریاست بلوچ قوم پرستوں سے ڈایئلاگ کرنے کی بجائے صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے، اس کا کہنا تھا کہ اسی پالیسی کی وجہ سے ہم جیسے بلوچ نوجوان ہر روز بے موت مارے جاتے ہیں، اور شہداد کی بات درست ہوئی۔ اس کی بھی باری آ گئی اور وہ بھی مارا گیا۔ اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں ایم فل کا طالب علم، انسانی حقوق کا سرگرم کارکن اور طلبہ سیاست میں متحرک نوجوان شہداد بلوچ گذشتہ دنوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔ کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کے اعلامیے میں شہداد بلوچ اور احسان بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ قلات اور خاران کے درمیانی علاقے شور پارود میں جھڑپ ہوئی جس میں ان کے جانباز سرمچار شہداد بلوچ اوراحسان بلوچ ہلاک ہوئے۔
شہداد بلوچ ولد ممتازبلوچ کا تعلق بلوچستان کے علاقے تربت سے تھا۔ اس نے بنیادی تعلیم عطا شاد ڈگری کالج سے حاصل کی جس کے بعد سنہ 2012 میں وہ کیچ گرامر سکول تربت میں ٹیچنگ کے فرائض سر انجام دینے لگا۔ شہداد انسانی حقوق کمیشن سے بھی وابستہ رہا، ان دنوں میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری تھا جس سے وہ اپنے دفتر کو آگاہ کرتا اور ان واقعات کی مذمت بھی کرتا۔ مارچ 2015 میں وہ تربت سے لاپتہ ہو گیا۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے اس کی گمشدگی کی مذمت کی اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ اگر اسکے کارکن کے خلاف کوئی مقدمات ہیں یا وہ مطلوب ہے تو اس کو عدالت میں پیش کیا جائے تاہم چند ماہ کے بعد شہداد بلوچ بازیاب ہو گیا۔ لیکن اس دوران اس کی ریاست مخالف سوچ اور بھی پکی ہو گئی۔
شہداد بلوچ نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ڈیفینس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور حال ہی میں ایم فل کی ڈگری کے لیے شعبہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز میں داخلہ لیا تھا۔ اس کے ساتھ ہلاک ہونے والے احسان بلوچ اسی یونیورسٹی کے شعبہ جینڈر سٹڈیز کا طالب علم تھا۔
اسلام آباد میں بھی شہداد نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھا، ذہن میں مارکسی فلسفہ، سر پر چی گویرا کیپ اور جسم پر روایتی بلوچی لباس یہ اس کی پہچان تھی۔ وہ اپنی بلوچ شناخت اور صوبہ بلوچستان کے مسائل پر کھل کر بولتا تھا۔ اسی دوران وہ قائد اعظم یونیورسٹی میں بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کا جنرل سیکریٹری منتخب ہوا، پچھلے دنوں یونیورسٹی میں طلبہ تصادم میں وہ زخمی بھی ہوا۔ سوشل میڈیا پر وہ قائد اعظم یونیورسٹی کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی اور بلوچستان یونیورسٹی میں بھی بلوچ طلبہ کے حقوق اور سہولیات کے لیے سرگرم رہا۔ جب بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ مبینہ طور پر ہراسگی کا معاملہ پیش آیا تو وہ جلوس لیکر نیشنل پریس کلب اسلام آباد پہنچ گیا وہاں خطاب کرتے ہوئے شہداد کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے لڑکیوں کے واش رومز میں بھی کیمرے لگائے ہوئے ہیں اور ان کیمروں کے ذریعے طلبہ کو ہراساں اور بلیک میل کیا جارہا ہے۔
تاہم شہداد بلوچ کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاکت کی اطلاع ان کے دوستوں اور اساتذہ دونوں کے لیے باعث حیرانگی ہے کہ کیسے ایک سی ایس پی افسر بننے کا خواہش مند ذہین نوجوان عسکریت پسند بن گیا۔ صوبہ بلوچستان میں بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی کی فوج کے ہاتھوں موت کے بعد شروع ہونے والی شورش کو رواں سال دو دہائیاں مکمل ہو رہی ہیں۔ حکومت پاکستان بلوچستان میں کسی فوجی آپریشن سے انکار کرتی رہی ہے تاہم اس کا مؤقف رہا ہے کہ مبینہ تخریب کاروں اور شدت پسندوں کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ بلوچستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا یہ بھی الزام رہا ہے کہ پاکستان مخالف ممالک کی ایما پر عسکریت پسند تنظیمیں کارروائیاں کرتی ہیں اور لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کرتی ہیں۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کا دعویٰ ہے کہ شہداد اور احسان بلوچ گذشتہ ایک سال سے ان کے ساتھ وابستہ تھے لیکن ان کے قریبی ساتھی اس سے لاعلم رہے۔
شہداد بلوچ کے طالب عملی کے زمانے کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ شہداد نے کبھی اس چیز کا اظہار نہیں کیا کہ وہ مسلح جدوجہد میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ البتہ جب جب بلوچستان میں کسی بلوچ کارکن کو لاپتہ کیا جاتا تھا یا اُس کی مسخ شدہ لاش ملتی تھا یا کسی بلوچ صحافی یا استاد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا تھا تو وہ جذباتی ہو کر کہتا کہ یار یہ ریاست صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے، یہاں ہمارے جیسے عدم تشدد والے اسی طرح ہر روز بے موت مارے جائیں گے۔ شہداد کے دوست نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان واقعات نے شہداد کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے اور شاید اسی سبب اُس نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔
