بندیال کے آخری چھکے نے اسٹیبلشمنٹ کو فتح کیسے دلائی؟

پی ٹی آئی حلقوں کی جانب سے جہاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے نیب ترامیم بارے کیریئر کے آخری فیصلے کو،’’آخری گیند پر سکسر‘‘ سے تعبیر کیا جارہا ہے وہیں دوسری جانب یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں منصف اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے والی شخصیت اس سارے عمل کو قانونی طریقے سے ہی غیر موثر کرسکتی ہے۔
بہرحال فی الوقت تو جسٹس عمر عطا بندیال کے فیصلے نے پاکستانی سیاست کے دھندلائے ہوئے منظر کی غیر یقینی میں امکانات اور خدشات کا مزید اضافہ کردیا ہے اور اب اس حوالے سے جو سوالات اٹھ رہے ہیں کہ چھ سابق وزرائے اعظم اور ایک سابق صدر کے نیب کیسیز بحال کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد سے ملکی سیاست کا منظر کیا ہوگا؟۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے سبب اسٹیبلشمنٹ کی بڑی سیاسی جماعتوں سے سودے بازی کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے۔
سپریم کورٹ کی طرف سے شہباز حکومت کی نیب قانون میں کی گئیں ترامیم کالعدم قرار دینے کے فیصلے نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس اہم پیش رفت پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے خدشات کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ اس فیصلے کی روشنی میں اسٹیبلشمنٹ کے لیے پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو کنٹرول کرنا آسان ہو گیا ہے۔
اس بارے میں ممتاز صحافی سید طلعت حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ”جن کا خیال ہے کہ بندیال نے خود سے ہی نیب ترامیم فارغ کی ہیں وہ بھولے ہیں۔ یہ فیصلہ براہ راست آئندہ انتخابات سے متعلق ہے اس کے بعد نون اور پیپلز پارٹی کو سیدھی لکیر پر چلنا ہوگا۔ عمران جیل میں اور دوسری جماعتیں پرانی نیب کے ابلتے تیل میں۔ نیا نہ پرانا ، ہمارا پاکستان ‘‘
دوسری جانب تجزیہ کار مزمل سہروردی کے مطابق اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اول تو نظر ثانی کی اپیل پر یہ فیصلہ خارج ہو جائے گا اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر جب تک سیاست دان کو سزا نہ ہوجائے وہ الیکشن لڑ سکتا ہے تمام ملزم سیاست دان الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔ان کے خیال میں اس معاملے میں متاثرہ سیاست دانوں کے کیسز نہیں چلیں گے اگر چلے تو گواہ پیش نہیں ہوں گے اور پراسیکیوشن کا عمل مکمل نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا، ”در اصل ملک کے طاقتور حلقے جو چاہیں گے وہ ہوگا اور انہیں قیدی نمبر آٹھ سو چار اور ایون فیلڈ کے مکین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے، ان کے پاس اتنا کم وقت ہے کہ وہ کوئی نئی کنگز پارٹی بھی کھڑی نہیں کر سکتے۔‘‘
اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے سیاسی امور کے تجزیہ کار سلمان عابد نے بتایا کہ اس فیصلے سے قومی احتساب بیورو مضبوط ہوگا اور اندیشہ ہے کہ اسے سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے اور سیاسی جماعتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے استعمال کیا جا ئے گا۔ سلمان عابد نے کہ، ”اس فیصلے کے بعد الیکشن کا التوا بھی ممکن ہے۔ حالات ”مائنس آل‘‘ کی طرف بھی جا سکتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ انیس سو پچاسی کی طرح نئی سیاسی نرسری کے پودے بھی میدان میں لا نے کی کوشش کر سکتی ہے۔‘‘ ان کے بقول بدلتے حالات میں ہو سکتا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کا عمل بھی کھٹائی میں پڑ جائے۔ انہوں نے مزید کہا،”اس فیصلے سے جمہوریت کمزور، اسٹیبلشمنٹ مضبوط اور سیاسی سپیچ میں کمی ہوئی ہے۔” مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے سیاست دانوں کو چلانے والا ریموٹ کنٹرول اب پھر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں آ گیا ہے‘‘
خیال رہے کہ نیب ترامیم بارے فیصلہ جمہوریت کے عالمی دن کے موقعے اور چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی ملازمت کے آخری روز سنایا گیا۔ اس سے پہلے بھی جمعے کے روز سنائے جانے والے کئی فیصلے بعض سیاست دانوں کے لئے کافی بھاری ثابت ہوئے ہیں۔ لیکن سلمان عابد کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں انتخابات سر پر ہیں۔ اس موقعے پر اپنی مرضی پر اصرار کرنے والی ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے سیاست دانوں کے سروں پر تلوار لٹک گئی ہے اب ان کو سیاسی دباو میں لانا آسان ہو گیا ہے۔”جو ان کی بات نہیں مانے گا وہ زیر عتاب آئے گا اور اس طرح سیاست کو کنٹڑول کرنا آسان ہوگا۔ ‘‘
دوسری جانب قانونی اور سیاسی امور کے تجزیہ کار منیب فاروق کے مطابق عام تاثر کے برعکس اس فیصلے کا اثر لندن سے وطن واپسی کے لیے پر تولنے والے نواز شریف پر نہیں ہو گا کیونکہ انہیں پہلے ہی سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ مفرور ہیں اور انہیں عدالت کے سامنے اپنے آپ کو سرنڈر کرنا ہے۔ منیب فارووق بتاتے ہیں ،” سپریم کورٹ کے سامنے ابھی ایک کیس پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے حوالے سے موجود ہے، جس میں بنچ بنانے کے طریقہ کار کے بارے میں ابھی فیصلہ ہونا ہے۔ لگتا ہے کہ عدالت کے نیب قانون میں ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیل اب ایک پہلے سے بڑا بنچ سنے گا۔‘‘
بعض قانونی ماہرین کو اس جواب کی تلاش ہے کہ اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کون دائر کرے کا۔ کیا حکومت ااس کے خلاف عدالت جائے گی؟ اس بارے میں نگران وزیراعظم ابھی بات کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے۔ تو پھر کیا اس فیصلے سے انفرادی طور پر متاثر ہونے والے لوگ عدالت جائیں گے؟ بتایا جارہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے قانونی ماہرین یہ گتھی سلجھانے کے لیے الگ الگ سر جوڑے بیٹھے ہیں۔
