بڑھاپے میں سردار لطیف کھوسہ کی عزت کا جنازہ کیسے نکلا؟

دیر آید درست آید،عمرانڈو ہو کر اپنی عزت کا جنازہ نکالنے والے سردار لطیف کھوسہ کو بالآخر پیپلز پارٹی نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سی ای سی سے نکالنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کی پارٹی رکنیت بھی معطل کردی ہے۔

یاد رہے کہ 14 ستمبر کو لطیف کھوسہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن ہونے کے باوجود آپ پارٹی کی اجازت کے بغیر عمران خان کا کرپشن کیس میں دفاع کر رہے ہیں جس میں ان کو سزا دی جاچکی ہے، اسی طرح ان کے خلاف آفیشل سکریٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں بھی دفاع کر رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کی جانب سے لطیف کھوسہ کو جاری نوٹس میں پوچھا گیا تھا کہ ’پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر‘ آپ کے خلاف تادیبی کارروائی کیوں نہ کی جائے؟نوٹس میں کہا گیا تھا کہ سات روز میں شوکاز نوٹس کا ردعمل دیں، جواب نہ دینے کی صورت میں آپ کی پارٹی رکنیت ختم کردی جائے گی۔

تاہم سات روز بعد بھی سردار لطیف کھوسہ نے شوکاز نوٹس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ جس کے بعد نہ صرف ان کی پارٹی رکنیت معطل کر دی گئی بلکہ انھیں سی ای سی سے بھی فارغ کر دیا گیا۔پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سردار لطیف کھوسہ کو گزشتہ ہفتے پارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کا جواب دینے میں ناکام رہنے کے بعد کیا گیا ہے۔اس سے قبل لطیف کھوسہ کو چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں بیان دینے پر بھی شوکاز نوٹس جاری کیا جاچکا تھا۔

پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت سے اختلافات اور عمران خان کی وکالت کی وجہ سے لطیف کھوسہ کی گنجائش پارٹی میں ختم ہو چکی تھی تاہم انھیں پارٹی سے نکال باہر کرنے کیلئے مناسب وقت کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کا جواب نہ دے کر سردار لطیف کھوسہ نے پارٹی قیادت کو موقع فراہم کیا جس پر انھیں پارٹی سے نکال باہر کیا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ سردار لطیف کھوسہ کو پارٹی نے بہت عزت دی انھیں گورنر تک کا عہدہ دیا لیکن انھوں نے ہمیشہ پارٹی پر ذاتی مفادات کو ترجیح دی جس کی وجہ سے آج انھٰن اس بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا۔

خیال رہے کہ سردار لطیف کھوسہ نے طالب علمی کے دوران ہی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ وکلا سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ وہ تین مرتبہ ملتان بنچ کے صدر منتخب ہوئے اور ملک میں وکلا کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم پاکستان بار کونسل کے تین مرتبہ رکن چنے گئے۔ لطیف کھوسہ ابتدا میں ہی پیپلز پارٹی کا حصہ بن گئے تھے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے مختلف ادوار میں انہیں سینیٹر، اٹارنی جنرل، گورنر پنجاب اور وزیر اعظم کا مشیر بنایا۔ وہ پیپلز پارٹی کی وکلا تنظیم پیپلز لائرز فورم پاکستان کے صدر بھی رہے۔غرض یہ کہ پیپلز پارٹی نے لطیف کھوسہ کو ایک عام وکیل سے ملک کی اہم ترین شخصیت بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ لیکن عمر کے آخری حصے میں انہوں نے اس احسان کا بدلہ یوں چکایا کہ پیپلز پارٹی کی سخت مخالف سیاسی پارٹی تحریک انصاف کی ’’زلف گرہ گیر‘‘ کے اسیر ہوگئے۔ اس ’’مشن‘‘ میں اعتزاز احسن بھی ان کے ساتھ ہیں۔ پی پی پی ذرائع بتاتے ہیں کہ ابتدا میں انہیں پارٹی قیادت کی جانب سے انتباہ کیا جاتا رہا کہ وہ پارٹی پالیسی سے انحراف کے راستے کو ترک کر دیں۔ لیکن وہ مسلسل پارٹی قیادت کے خلاف زہر اگلتے رہے۔ اس کے نتیجے میں پہلے ان سے پیپلز لائرز فورم پاکستان کی صدارت واپس لی گئی اور پھر پارٹی رکنیت سے بھی محروم کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ پیپلز پارٹی پنجاب نے ان کی تصویر ’’دیوارِ شرم‘‘ پر لگادی ہے۔ یوں ساری عمر عروج دیکھنے والے لطیف کھوسہ اب اس شعر کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں کہ ’’تیری نگاہ بدلنے سے پہلے۔ ستارہ زمین پر میں آسمان پر تھا‘‘۔

واضح رہے کہ لطیف کھوسہ کا کیریئر مختلف الزامات کی زد میں بھی رہا۔ انہیں اگست دو ہزار آٹھ میں جسٹس (ر) ملک قیوم کی جگہ اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن ایک برس بعد ہی اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کا سبب مغفور شاہ نامی شخص کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست تھی۔ جس میں ایک مقدمے میں مدعی کو بری کرانے کے لئے لطیف کھوسہ پر تیس لاکھ روپے لینے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اسی طرح معزول ججوں کی بحالی کی تحریک ترک کرنے پر بعض ڈسٹرکٹ بارز میں ان کے داخلے پر پابندی لگادی گئی تھی۔ لطیف کھوسہ ایک وقت میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے وکیل بھی رہے۔ لیکن ان خدمات کی انہوں نے بھاری فیس وصول کی۔

Back to top button