بیرون ملک سے پاکستانیوں کی میتیں لانے میں تاخیر کیوں؟


دیار غیر میں جان کی بازی ہار جانے والے درجنوں پاکستانیوں کی میتیں وطن واپسی کیلئے بیرون ملک سرد خانوں میں موجود ہیں اور اپنی پاکستان واپسی کے انتظار میں ہیں۔ یوں ان کے پیارے بھی کئی مہینوں سے انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وبا پھیلنے کے بعد سے میتیں پاکستان لے جانے پر پابندی عائد تھی جو حال ہی میں اٹھا لی گئی ہے جس کے بعد سینکڑوں میںتیں پاکستان واپس پہنچا دی گئی ہیں۔ تاہم لواحقین کا کہنا ہے کہ میتیں واپس لانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ مشکل ترین کاغذی کارروائی ہے۔
پاکستان میں انتظار کی سولی پر لٹکے لواحقین اسے حوالے سے دہرے دکھ، کرب اور تکلیف کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایک طرف تو ان کے پیارے انھیں چھوڑ کر جا چکے ہیں تو دوسری طرف میتیں پاکستان لانے کے حوالے سے کڑی شرائط کی وجہ سے وہ ایک سے دوسرے دفتر کے دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ تاہم حکومتی ذمہ داران کا دعویٰ ہے کہ یکم مارچ 2020 سے اب تک دنیا کے 52 ممالک سے ایک ہزار چھ پاکستانیوں کی میتیں پاکستان لانے کی درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 913 میتیں پاکستان پہنچا دی گئی ہیں، جبکہ 93 میتوں کو وطن واپس لانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 38 ممالک میں سات ہزار 808 پاکستانی کرونا کا شکار ہوئے اور 360 کی موت ہوئی، جبکہ واپس لائی گئی دیگر 646 میتوں کی وفات کی وجوہات کرونا کے علاوہ ہیں۔ حکام کے مطابق سب سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب میں کورونا کا شکار ہوئے جن کی تعداد 26 سو 87 ہے اور ان میں سے 20 ہلاک ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب سے اس عرصے میں 338 میتیں واپس لانے کی درخواستیں موصول ہوئیں، تاہم اب تک 274 میتیں پاکستان پہنچائی گئی ہیں اور 64 میتوں کو پاکستان لانے کے لیے ضروری کارروائی جاری ہے۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 334 پاکستانیوں کی میتیں پاکستان لائی گئی ہیں جن میں سے 32 کرونا سے ہلاک ہوئے تھے۔ کرونا سے ہلاک ہونے والے مزید چار پاکستانیوں کو امارات میں ہی دفن کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کویت سے 67 پاکستانیوں کی میتوں کو کارگو پرواز کے ذریعے پاکستان منتقل کیا گیا۔ کویت میں 221 پاکستانی کرونا کا شکار ہوئے تھے جن میں سے صرف ایک کی ہلاکت کرونا کے باعث ہوئی۔ قطر میں کرونا سے متاثر ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد سعودی عرب کے بعد تیسرے نمبر پر ہے، لیکن وہاں سے نو میتیں پاکستان لائی گئی ہیں جن میں دو کرونا سے ہلاک ہونے والے پاکستانی تھے۔ تین مزید میتیں وطن واپس لانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کرونا کے باعث سب سے زیادہ 161 پاکستانی برطانیہ میں ہلاک ہوئے، جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 1850 تھی۔ او پی ایف کے مطابق یہ اعداد و شمار پاکستانی سفارت خانے نے خود اکٹھے کیے ہیں۔ برطانیہ سے سرکاری طور پر کرونا متاثرین کی معلومات مذہب اور ممالک کی شناخت کے ساتھ دستیاب نہیں ہو رہیں۔ برطانیہ سے صرف 25 میتوں کو وطن واپس لانے کی درخواست ملی جن میں سے 21 کو لایا جا چکا ہےاور چار میتیں جلد پاکستان پہنچا دی جائیں گی۔
کرونا سے ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی دوسری بڑی تعداد امریکہ میں ہے جہاں 76 پاکستانی ہلاک اور درجنوں متاثر ہوئے۔ امریکہ سے 22 پاکستانیوں کی میتیں پاکستان لائی گئی ہیں۔ اومان سے 45 میتیں واپس لائی گئی ہیں جن میں سے 19 افراد کرونا سے ہلاک ہوئے تھے۔ ملائشیا سے 28 پاکستانیوں کی میتیں واپس لائی گئی ہیں جن میں سے کوئی بھی کرونا سے ہلاک نہیں ہوا جبکہ سپین سے لائی گئی 20 میتوں میں سے تین پاکستانی کرونا سے ہلاک ہوئے۔ فرانس میں کرونا سے ہلاک ہونے والے 15 میں سات پاکستانیوں کی میتیں واپس لائی جا چکی ہیں۔ واضح رہے کہ بیرون ملک کرونا سے جان کی بازی ہارنے والے پاکستانیوں کی میتیں پاکستان لانے کی اجازت تو دی گئی ہے تاہم اس کیلئے ایس او پیز کے ساتھ مشکل ترین کاغذی کارروائی کی شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے سول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بیرون ملک سے میتیں پاکستان اور پاکستان میں میتوں کی بذریعہ ہوائی جہاز منتقلی کے لیے سول ایوی ایشن ایس او پیز پرعمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایس او پیز کے مطابق میت کی فضائی منتقلی کے لیے سیل کردہ تابوت لازم ہے، جبکہ میت کی منتقلی پر مامور متعلقہ عملے کے لیے ڈس انفیکشن سمیت حفاظتی اقدامات بھی لازم قرار دئیے گئے ہیں۔ متعلقہ عملے کے لیے حفاظتی سوٹ، ماسک، گلوز، عینک اور فیس شیلڈ پہننا بھی ضروری ہے۔ نوٹی فیکیشن کے تحت بیرون ملک سے میت مسافر طیارے کے کارگو یا کارگو طیارے میں لائی جا سکے گی اور میت کو پاکستان لانے سے پہلے ایئرلائن سول ایوی ایشن اتھارٹی کو 48 گھنٹے پہلے آگاہ کرے گی۔ تاہم اس کے علاوہ میت کے لواحقین کیلئے متعدد اقسام کے تصدیق شدہ کاغذات کی فراہمی کی شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔ لواحقین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حکومت کو بیرون ملک سے میتوں کی منتقلی کے حوالے سے مروجہ کاغذی کارروائی میں کمی لانے کیلئے عملی اقدامات کرنے چاہیں تاکہ لواحقین کے دکھوں کا تھوڑا بہت مدوا کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button