بی آر ٹی کی لاگت لاہور میٹرو سے زیادہ ہوئی تو مستعفیٰ ہوجاؤں گا

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی دعویٰ کیا ہے کہ اگر پشاور بس ریپڈ ٹرانسپورٹ (بی آر ٹی) کی لاگت لاہور میٹرو بس منصوبے کی لاگت سے ایک روپے بھی زیادہ ہوئی تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔
شوکت یوسفزئی نے یہ بات شہباز شریف کے دعوے کے بعد کہی جس میں انہوں نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پشاور بی آر ٹی منصوبے کی لاگت مجموعی طور پر لاہور، اسلام آباد اور ملتان میٹرو بس منصوبے سے بھی زیادہ ہے۔
لاہور پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے دعویٰ کیا کہ پشاور بی آر ٹی کو رواں سال اپریل کے مہینے میں آپریشنل بنایا جائے گا۔ انہوں نے شہباز شریف سے بی آر ٹی کی لاگت کے حوالے سے دعوے کو ثابت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا میڈیا سیل حقائق نہیں جانتا اور بغیر بریک لگائے ‘عجیب پروپگینڈا’ کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘لاہور میٹرو بس سروس کو 38 ارب روپے میں آپریشنل بنایا گیا جب کہ بی آرٹی 35 ارب روپے میں تیار ہوجائے گا’۔ انہوں نے کہا کہ ‘پشاور بی آرٹی میں تھرڈ جنریشن کی سہولیات دی گئی ہیں جب کہ لاہور کے میٹرو بس میں سیکنڈ جنریشن کی سہولیات عوام کو دی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘پشاور کے بی آر ٹی میں 28 کلومیٹر طویل روٹ دیا گیا ہے جس میں 13 کلومیٹر اونچائی پر اور 3.5 کلومیٹر زیر زمین ٹریک دیے گئے ہیں جس کا موازنہ لاہور کے میٹرو بس سے کیا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ 12-2011 میں ڈالر کی قدر اور لاہور میٹرو کی تعمیر اور آج کے ڈالر کے ریٹ کا بھی موازنہ کیا جانا چاہیے۔
مہنگائی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 5 ارب ڈالر کا موجودہ خسارہ قرضے لے کر اور ڈالر کی قدر کو برقرار رکھ کر 19 اررب ڈالر تک پہنچا دیا، ‘موجودہ تحریک انصاف کی حکومت نے اسے واپس کم کرکے 6 ارب ڈالر پر لے آئی ہے اور اسے کم کرکے صفر تک لایا جائے گا’۔
