یو این امن مشن میں شریک پاکستانی خواتین قوم کا فخر ہیں

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کانگو میں تعینات اقوام متحدہ کے امن مشن میں شریک پاکستانی فوجی خواتین دستےکو داد دیتے انہیں ملک کےلیے فخر کا باعث قرار دیا ہے۔
These Pakistani women are #ServingForPeace in the Democratic Republic of the Congo. They are military personnel, police officers, software engineers, psychologists, doctors & gender advisers.
More on women in @UNPeacekeeping: https://t.co/KStGbctowJ pic.twitter.com/5kbQ2Xo5X5
— United Nations (@UN) February 12, 2020
اقوام متحدہ نے بھی اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر کانگو امن مشن میں پاکستانی خواتین دستے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فوجی، پولیس افسران، سافٹ ویئر انجینئرز، سائکولوجسٹ، ڈاکٹرز اور جینڈر ایڈوائزرز (خواتین اور مردوں کی رہنمائی کرنے والے ماہرین) لوگ ہیں۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اقوام متحدہ کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرکے لکھا کہ پاکستانی خواتین پوری دنیا کے سامنے قوم کا سر فخر سے بلند کر رہی ہیں۔ شیریں مزاری نے لکھا کہ امن مشن پر مامور خواتین اقوام متحدہ کے امن مشن کو درپیش متعدد تنازعات کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
Pakistani women doing the nation proud on all fronts. Women peacekeepers may help resolve many controversies confronting UN peacekeepers today. https://t.co/2o2c10UEoL
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) February 13, 2020
واضح رہے کہ گزشتہ برس اقوام متحدہ میں امن مشن میں خواتین دستوں کی تعیناتی کا ہدف پاکستان نے حاصل کیا تھا۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امن مشنز میں 15 فیصد خواتین افسران کی تقرری کا ہدف ریکارڈ مدت میں حاصل کیا ہے جو خوش آئند بات ہے۔
