شدت پسند مولانا عبدالعزیز کا لال مسجد سے نکلنے پر انکار

جولائی 2007 میں اسلام آباد کی لال مسجد میں خون خرابہ کروانے والے شدت پسند خطیب مولانا عبدالعزیزاور وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کے مابین پچھلے دنوں ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو گئی ہے اور نقص امن کے پیش نظر انتظامیہ نے مسجد کو سیل کر دیا ہے۔ دوسری طرف لال مسجد شہداء فاونڈیشن نے مولانا عبدالعزیز اوران کی اہلیہ کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کروا دیا ہے۔
یاد رہے کہ مولانا عبدالعزیزپچھلے دو ہفتوں سے زبردستی لال مسجد پر قابض ہیں اور انہوں نے خود کو مسجد کا خودساختہ خطیب ڈیکلیئر کردیا ہے۔ اب ان کا اصرار ہے کہ وہ مستقبل میں لال مسجد میں نماز جمعہ کی امامت بھی کرواتے رہیں گے۔ دوسری طرف اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے مولانا عبدالعزیزکو لال مسجد خالی کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک مرتبہ پھر مسجد کے اطراف کی ناکہ بندی کردی ہے۔ اس حوالے سے دارالحکومت کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 9 فروری کو مولانا عبدالعزیز سے سمجھوتہ طے پانے کے بعد 12 فروری تک مسجد خالی کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی، جامعہ حفصہ کیلئے زمین کی الاٹمنٹ کے بدلے لال مسجد خالی کرنے کا سمجھوتہ طے پایا تھا لیکن مولانا عبدالعزیز اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی جس کے بعد مسجد کو سیل کیا گیا ہے۔ انسداد دہشت گردی فورس، پولیس کمانڈو، رائٹس پولیس اور خواتین اہلکاروں پر مشتمل دستے نے لال مسجد کو اپنے گھیرے میں لیتے ہوئےعلاقے کی ناکہ بندی کررکھی ہے۔ علاوہ ازیں لال مسجد کے اطراف میں میونسپل روڈ، مسجد روڈ، شہید ملت روڈ کے ساتھ ساتھ مسجد کے قریب ہفتہ وار بازار پر بھی پولیس اہلکاروں کو تعینات کر کے مسجد میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا ہے البتہ علاقہ مکینوں کو مسجد میں نماز کی ادائیگی کی اجازت دی گئی ہے۔ علاقے میں تعینات اہلکار لوگوں سے ان کی رہائش کی تصدیق کے لیے شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ مشتبہ لگنے کی صورت میں تلاشی بھی لی جارہی ہے جبکہ مسجد میں خواتین اور لڑکیوں کے داخلے پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔
دوسری طرف مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ کیخلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ترجمان لال مسجد شہداء فاونڈیشن حافظ احتشام کی مدعیت میں درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جامعہ حفصہ کی پرنسپل ام حسان نے مسجد کے منبر پر کھڑے ہوکرشدت پسندوں کوحافظ احتشام ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کے نام لے کر قتل کرنے کی سرعام ہدایات جاری کیں۔ ان کا یہ عمل انتشار پھیلانے کی سازش ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ مولانا عبدالعزیز اور ام حسان نے چند مسلح افراد کے ساتھ گزشتہ دو ہفتوں سے لال مسجد پر قبضہ کر رکھا ہے جبکہ مولانا عبدالعزیز دوسو کے قریب طلبہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ مقدمے کے اندراج کیلئے دائر درخواست میں لال مسجد پر قابض مولانا عبدالعزیز، ان کی اہلیہ اور دیگر ساتھیوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل آبپارہ پولیس سابق ڈپٹی خطیب مولانا عبدالرشید غازی کے صاحبزادے ہارون الرشید کے خلاف بھی دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کر چکی ہے ۔
واضح رہے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے لال مسجد کے امام کے تقرر کا نوٹفیکیشن جاری کرنے میں تاخیر کے بعد مولانا عبدالعزیزطالبات کے ساتھ آکر لال مسجد پر قابض ہوگئے تھے اور حکام کا ردِ عمل جانچنے کے لیے نماز جمعہ کا خطبہ بھی دیا تھا جس میں اشتعال انگیز باتیں کی گئیں تھیں۔ تاہم حکام نے اسے نظر انداز کردیا تھا البتہ صورت حال اس وقت کشیدہ ہوگئی تھی جب سینکڑوں طالبات نے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 11 میں قائم جامعہ حفصہ میں داخل ہو کر اس کی سیل توڑ دی تھی۔ بعدازاں انتظامیہ نے مولانا عبدالعزیز کو لال مسجد خالی کرنے کا انتباہ دینے کے بعد مسجد کے باہر کے علاقے کا محاصرہ کرلیا تھا اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جامعہ حفصہ کی تعمیر کے لیے 20 کنال زمین الاٹ کرنے کے وعدے پر مولانا عبدالعزیز لال مسجد چھوڑنے پر رضامند ہوگئے تھے تاہم بعد ازاں انھوں نے لال مسجد کے خطیب اور امام کا عہدے دیے جانے کا مطالبہ کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ لال مسجد محکمہ اوقاف کے زیر انتظام ہے اور عمومی طور پر صرف محکمے کے کسی عہدیدار کو ہی خطیب اور نائب خطیب تعینات کیا جاسکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قابض مولانا خود کو مسجد کا خطیب بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن وہ محکمہ اوقاف کے ملازم نہیں ہیں جبکہ جس گھر اور مدرسے کی ملکیت کا مولانا دعویٰ کررہے ہیں وہ بھی مسجد کی سرکاری زمین پر تعمیر کیے گئے ہیں۔
