وزیر اعظم کا پاک تاجک معاشی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور

وزیراعظم شہباز شریف نے پاک تاجک معاشی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صنعت اور زراعت سمیت دیگر مشترکہ معاشی منصوبوں میں تعاون بڑھانے اور باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور تاجکستان کو مزید قریب ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم ہاؤس میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے 38 برس قبل تاجکستان کو تسلیم کیا تھا اور اس کے بعد سے ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں، صنعت اور زراعت سمیت مشترکہ معاشی منصوبوں میں تعاون بڑھانے اور باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ہمیں مزید قریب ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے تاجکستان کا ایک بہت اہم مقام ہے، جو وسطی ایشیا کا گیٹ وے ہے اس لیے میں آپ (تاجک صدر) کے ساتھ بہت قریب سے کام کرنے کا منتظر ہوں۔

شہباز شریف نے تاجک صدر کو مخطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے ساتھ وسطی ایشیائی ممالک اور پاکستان کو ریل، سڑک اور معیشت کے ذریعے جوڑنے کے لیے کام کرنے کا منتظر ہوں۔وزیراعظم نے تاجک صدر کو پاکستان آنے پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ’ہم بہت پُرجوش اور خوش ہیں اور امید ہے کہ یہ دورہ دونوں عظیم ممالک کے درمیان تعاون اور ترقی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔

اس موقع پر تاجک صدر امام علی رحمٰن نے پاکستان کے ساتھ بردارانہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ان تعلقات کو جاری رکھنے اور ترقی کے فروغ کے لیے خاص اہمیت دی ہے، ہم آج کی اعلیٰ سطحی میٹنگ کے نتائج اور مشترکہ کوششوں کے تسلسل کی تعریف کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پائے گئے معاہدات سے دونوں ریاستوں کے تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

تاجک صدر امام علی رحمٰ نے آج کی میٹنگ کے دوران اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری بالخصوص توانائی اور ٹرانسپورٹ روابط کے شعبوں میں تجارت کی مزید ترقی کو یقینی بنانے پر توجہ دینے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے منصوبوں کو برقرار رکھنے کے لیے اہم تبادلہ خیال ہوا ہے اس کے علاوہ خوراک، زراعت اور دوا ساز صنعتوں جیسے متعدد معاملات ترجیحات میں شامل ہیں۔

تاجک صدر نے کہا کہ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان نتیجہ خیز تعاون کا میکینزم جس میں تجارت، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی تعاون پر مشترکہ بین الحکومتی کمیشن اور دیگر مشترکہ مخصوص امور بھی شامل ہیں ایک مثبت سرگرمی ہے، سائنس اور تعلیم، ثقافتی اور دیگر انسان دوستی کے شعبوں میں تعاون کو مزید تیز کرنے کے موضوعات ہماری گفتگو کا مرکز تھے، مذاکرات کے دوران ہم نے سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے بات چیت کی اور اس شعبے میں تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی، انتہا پسندی اور بنیاد پرستی سے لاحق جدید خطرات اور چیلنجوں کے خلاف مشترکہ مزاحمت کے تسلسل کے لیے اپنے عزم پر زور دیا۔

دریں اثنا وزیر اعظم شہباز شریف سے تاجک صدر امام علی رحمٰن نے ’ون آن ون‘ ملاقات کی تھی جس میں باہمی دلچپسی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا، وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کے دوران دونوں سربراہان نے علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور مختلف شعبوں میں اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے پر توجہ دی،بعدازاں دونوں سربراہان نے وفود کی سطح پر بھی ملاقات کی۔

قبل ازیں تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن وزیراعظم سے ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا ،تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن کو وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر ’گارڈ آف آنر‘ پیش کیا گیا۔صدر امام علی رحمٰن نے تینوں افواج کے دستے کی طرف سے پیش کیے گئے ’گارڈ آف آنر ’ کا جائزہ لیا جبکہ انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کے لان میں اپنے ہاتھوں سے ایک پودا بھی لگایا۔

صدر امام علی رحمٰن دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے،وزیر اعظم شہباز شریف کے دعوت نامے پر تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں، جہاں وفاقی وزیر تجارت نوید قمر نے اسلام آباد ائیرپورٹ پر تاجک صدر کا استقبال کیا،اس موقع پر انہیں 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

دو روزہ دورے کے دوران تاجک صدر مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کریں گے، اور دوطرفہ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے،پاکستان اور تاجکستان دیرینہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کے ذریعے جڑے ہوئے برادر ممالک ہیں،یہ تعلقات باہمی احترام اور غیر معمولی ہم آہنگی پر مبنی ہیں، مختلف علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر دونوں ممالک کا نکتہ نظر یکساں ہے۔

تاجکستان وسطی ایشیا میں پاکستان کا سب سے قریبی پڑوسی ملک ہے، دونوں ممالک کے درمیان محض واخان راہداری واقع ہے، یہ قربت تاجکستان کو وسطی ایشیا میں پاکستان کا ایک اہم شراکت دار بناتی ہے،توقع ہے کہ تاجک صدر کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے اور بڑھتی ہوئی جیو اکنامک پارٹنرشپ کو مزید تقویت ملے گی۔

Back to top button