تحریک انصاف فوج مخالف پروپیگنڈا کرنے والوں کو نکال کیوں نہیں رہی؟

سینئر صحافی اور کالم نگار انصار عباسی نے کہا ھے کہ اگرچہ تحریک انصاف کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ ملک کی سب سے مقبول جماعت اور اسٹیبلشمنٹ آمنے سامنے نظر آئیں تو یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہو گا تاھم خالی خولی باتوں کے برعکس پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ کے اعتماد کی بحالی کے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے اور نہ ھی فوج مخالف پروپیگنڈا کرنے والے اپنے حمایتیوں کو پارٹی کی بنیادی رکنیت سے فارغ کیا ھے۔ اپنی ایک تحریر میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے ایک اہم ذمہ دار اس معاملے پر پریشان ہیں کہ تمام تر کوشش کے باوجود پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بداعتمادی کا ماحول ختم نہیں ہو رہا اور نہ ہی موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے پارٹی کا کسی بھی سطح پر کوئی رابطہ ہو رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف حکومت بنا لیتی ہے تو تحریک انصاف اور اُس کی اعلیٰ قیادت کسی بھی طرح فوج سے نہ لڑائی چاہتی ہے اور نہ ہی فوجی قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔تحریک انصاف کے ایک اور رہنما کا کہنا ھے کہ ہر قسم کی گارنٹی بھی دی جا سکتی ہے کہ عمران خان آئندہ اُس بیانیہ کو نہیں دہرائیں گے جو پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بدگمانی کی وجہ بنا اور اگر تحریک انصاف دوبارہ حکومت میں آتی ہے تو وہ کسی صورت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراو والی صورتحال پیدا نہیں کرئیگی۔
انصار عباسی سوال پوچھتے ہیں کہ کہ عمران خان کے حوالے سے گارنٹی کون دے گا ؟کیوں کہ عمران خان تو 9 مئی کے بعد اور اپنی گرفتاری سے قبل تک بھی فوج مخالف بیانیے پر قائم رہے اور فوج کے موجودہ سربراہ کو نشانہ بناتے رہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف اگر اسٹیبلشمنٹ اور فوج کا ادارہ ہے تو دوسری طرف عمران خان اور اُنکی سیاسی جماعت ہے، جن کو اس وقت تک سب سے زیادہ مقبول سمجھا جارہا ہے۔تحریک انصاف کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہو گا کہ ملک کی سب سے مقبول جماعت اور اسٹیبلشمنٹ آمنے سامنے نظر آئیں۔
انصار عباسی بتاتے ہیں کہ تحریک انصاف کے ان رہنماوں سے پوچھا گیا کہ اگر اُن کا رابطہ باوجود تمام تر کوششوں کے موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے نہیں ہو رہا تو پھر خاص طور پر 9 مئی کے سانحے کے بعد تحریک انصاف نے ایسے اقدامات کیوں نہیں کیے جنہیں دوسری پارٹی یعنی اسٹیبلشمنٹ اعتماد سازی کی بحالی کے اقدامات کے طور پر دیکھتی جواب دیا گیا فوج مخالف بیانیہ سے دوری اختیار کر لی گئی ھے ۔ سوال یہ ھے کہ کیا عمران خان کی سوچ بھی بدل گئی؟ جو الزام وہ موجودہ آرمی چیف، آئی ایس آئی کے اہم افسران پر لگاتے تھے کیا اُن الزامات سے پیچھے ہٹ گئے اور پیچھے ہٹنے کا کوئی بیان دیا؟ تحریک انصاف کے اہم افراد جو باہر بیٹھ کر آج بھی فوج اور فوجی قیادت کو بدنام کر رہے ہیں کیا اُن کی پارٹی رکنیت ختم کی گئی؟ ایک رہنما کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اکثر ممبران اُس بیانیہ کے خلاف ہیں جو تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان دوری اور ٹکراو کا سبب بنا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ کور کمیٹی کے فیصلےکے نتیجے میں ہی امریکا میں مقیم گلوکار اور عمران خان کے قریبی ساتھی سلمان احمد کے فوج مخالف جاری پروپیگنڈا کے باعث باقاعدہ پریس ریلیز جاری کر کے اُس سے دوری اختیار کی گئی۔ اس پریس ریلیز میں امریکا میں مقیم تحریک انصاف کے ایک اور رہنما کے پروپیگنڈا کا کوئی ذکر نہ تھا۔
انصار عباسی کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما سے استفسار کیا گیا کہ تحریک انصاف ملک سے باہر بیٹھ کر ملک کے خلاف پروپیگنڈاکرنے والے اپنے اہم افراد اور عمران خان کے قریبی ساتھیوں کو تحریک انصاف کی بنیادی رکنیت سے فارغ کیوں نہیں کرتی ؟مگر اس سوال کا کوئی جواب نہ ملا۔ یہ بھی پوچھا گیا کہ9 مئی کے واقعات میں شامل ایسے افراد جن کے متعلق وڈیو، آڈیو شواہد موجود ہیں اور اُن کو 9 مئی کے حوالے سے مقدمات کا سامنا ہے، اُن کے الیکشن لڑنے پر تحریک انصاف کی طرف سے ٹکٹ نہ دینے کا اعلان کیوں نہ کیا گیا؟ اس کا بھی کوئی جواب نہیں ملا۔ جب یہ پوچھا گیا کہ آئے دن تحریک انصاف کے ووٹر ،سپوٹر سوشل میڈیا کے ذریعے اُس بیانیہ کو دہراتے رہتے ہیں جس سے تحریک انصاف کی قیادت اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بہتر بنانےکیلئے دوری اختیار کرنے کا دعوی کر رہی ہے تو ایسے سوشل میڈیا اکاونٹس کو تحریک انصاف اپنے آفیشل اکاونٹ کے ذریعے رد کیوں نہیں کرتی؟ اس پر کہا گیا کہ سوشل میڈیا تو کسی کے کنٹرول میں ہے ہی نہیں۔ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کا آج کے دن تک فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے جو موقف ہے وہ سب کے سامنے ہے اور وہ بار بار اس بات کا اعادہ کر رہے ہیں کہ نہ وہ کسی ادارہ کے خلاف ہیں نہ ہی کسی کو انتقام کا نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم تحریک انصاف کو عملاً جو کچھ کرنا چاہیے یا جو وہ کر رہی ہے اُس میں ایک کنفیوژن نظر آ رہی ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کو ہی ہو گا۔

Back to top button