پاکستانی سیاست میں گلوکار ملکو کی ڈیمانڈ کیوں بڑھنے لگی؟

اظہار رائے کی پابندیوں میں جکڑے پاکستان میں عوام نے اپنی بات کہنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ نکالے ہیں۔ سانحہ 9 مئی کے بعد جہاں ایک طرف تحریک انصاف اور عمرانڈو زیر عتاب ہیں وہیں گلوکار ملکو کے عمران خان کے حوالے سے گائے گئے گانے ’’نک دا کوکا‘‘ نے مقبولیت کے کئی ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے میاں نواز شریف کی برطانیہ سے پاکستان واپسی سے پہلے مریم نواز نے ملکو سے رابطہ کر کے نواز شریف کے لیے خصوصی گیت میاں ساڈا آیا اے، تے چس بڑی آئی اے لکھوایا تھا، ملکو نے استحکام پاکستان پارٹی، فردوس عاشق اعوان اور شیخ رشید کے لیے بھی سیاسی گیت لکھے لیکن ان میں سے کسی کو بھی اس طرح کی مقبولیت نہ مل سکی۔

ایک ایسے وقت پر جب ملک میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کا میڈیا میں نام لینے پر بھی غیر اعلانیہ پابندی ہے، ملکو کا عمران خان کی حوالے سے لکھا گیا گیت شادی کی تقریبات کا اہم حصہ بھی بنتا جا رہا ہے۔ شادی کی تقریبات میں عام طور پر شرکاء ایک گیت صرف ایک مرتبہ ہی سنتے ہیں، لیکن یہ گیت شادی کی بہت سی تقریبات میں بار بار اصرار کے باعث کم از کم پانچ چھ مرتبہ ضرور سنا جاتا ہے۔

 گلوکار ملکو کے قریبی دوست اور مینیجر احسن رضا نے بتایا کہ گلوکار ملکو نے بنیادی طور پر یہ گیت کسی سیاسی نیت سے نہیں گایا تھا لیکن جب اس کے پہلے حصے کا ایک تیس سیکنڈ کا ویڈیو کلپ ریلیز کیا گیا، تو صرف تین دنوں میں ہی اس کو پندرہ ملین سے زائد افراد نے دیکھا تھا۔”جب ہم نے یہ گیت ریلیز کیا، تو اسے سننے والوں کی تعداد نے بہت سے ریکارڈ توڑ دیے اور یہ یو ٹیوب کی گلوبل ریٹنگ اور ایشیا ریٹنگ میں نمایاں طور پر ٹرینڈ کرتا رہا۔ اس پر ہمیں اندازہ ہوا کہ لوگ یہی سننا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم نے اس حوالے سے ”نک دا کوکا‘‘ گیت کا مکھڑا استعمال کر کے دو اور ایسے گیت ریلیز کر دیے۔احسن رضا کے مطابق اس گیت کی صرف یو ٹیوب پر ہی نہیں بلکہ سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس پر بھی مقبولیت غیر معمولی ہے۔ ان کے بقول اس گانے کی غیر معمولی مقبولیت پر یو ٹیوب نے گلوکار ملکو کے لیے تحائف بھی بھیجے۔

دوسری جانب گلوکار ملکو کی ٹیم کا کہنا ہے کہ عمران خان کے لیے لکھا گیا گیت کسی باقاعدہ ‘سپانسرڈ‘ معاہدے کا نتیجہ نہیں تھا اور وہ فی الحال ایسا مزید کوئی گیت ریلیز کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

خیال رہے کہ پنجابی گیتوں میں ٹپے کہنے کا رواج بہت پرانا ہے اور ”نک دا کوکا‘‘ نامی اصل ٹپہ اعجاز سیال نامی شاعر نے گایا تھا۔ پھر گلوکار ملکو نے اس کے ساتھ ہم آواز ہو کر اڈیالہ جیل، قیدی نمبر چار سو چار اور بنی گالہ جیسے الفاظ استعمال کر کے عمران خان کے لیے دعائیہ کلمات پر مبنی تین گانے ریلیز کر دیے۔انہوں نے کہا، ”ہم خود بھی حیرت زدہ ہیں کہ اس گیت نے ملکو کے ایک اور بہت مقبول گیت ”رل تے گئے آں، پر چس بڑی آئی اے‘‘ کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔پاکستانی صحافی عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ گھٹن کے ماحول میں سامنے آنے والا یہ گیت مزاحمتی ابلاغ کی ایک دلچسپ کوشش ہے۔

Back to top button