تحریک انصاف مالم جبہ، بی آر ٹی اور فارن فنڈنگ کا جواب دے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ انہیں حکمران جماعت تحریک انصاف سے مالم جبہ، پشاور بی آر ٹی، فارن فنڈنگ، آٹا، چینی، پیٹرول، پی آئی اے اور بلین ٹری منصوبے میں کرپشن کا جواب چاہیے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی پریس کانفرنس کو چاردن ہوگئے لیکن پی ٹی آئی نے اب تک جواب نہیں دیا۔
خیال رہے کہ بلاول نے عمران خان کو تین چیلنجز دیے ہوئے ہیں جن میں پہلا چیلنج یہ تھا کہ وہ قومی اسمبلی یا ٹی وی پر مناظرہ کر لیں، دوسرا چیلنج یہ تھا کہ وہ این آئی سی وی ڈی طرز کا ایک اسپتال پورے پاکستان میں دکھا دیں۔بلاول بھٹو زرداری نے تیسرا چیلنج یہ دیا کہ عمران خان خیبرپختونخوا اور پنجاب میں فی کس کورونا ٹیسٹنگ کا موازنہ سندھ سے کروا دیں۔
دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما پلوشہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے خاموشی سے بھارت کے ساتھ تجارت شروع کردی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا کہ حکومت نے کسی کو اعتماد میں لیے بغیر بھارت کے ساتھ تجارت کھول دی، ہم عمران نیازی سے پوچھتے ہیں کہ کس کے حکم پر بھارت کو نوازا جارہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو کشمیر کے حوالے سے یہ حکومت ڈرامہ رچائے گی۔ پلوشہ خان نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے سوالات کا ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا، زلفی بخاری اشتہاری ہے جو روز ویلٹ ہوٹل پر نظریں جمائے ہوئے ہے، یہ تمام وزراء بنارسی ٹھگ ہیں جو عوام کولوٹتے ہیں اور ان کومار بھی رہے ہیں۔ پلوشہ خان نے کہا کہ کلبوشن کا نام یہ حکومت کیوں نہیں لیتی، اس حکومت نے کشمیر کو بھارت کے حوالے کر دیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں نفیسہ شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی وبا بن کر حکمرانی کر رہی ہے، 2 سال سے عوام پر مسلط ہے، بلاول بھٹو نے حکومت کو کرپشن پر 3 چیلنج کیے، ابھی تک جواب نہیں آیا، چیئرمین بلاول بھٹو نے پارلیمنٹ سمیت تمام فورمز پر ان کو مناظرے کا چیلنج کیا، بلاول نے چیلنج کیا کہ پنجاب اور کے پی میں سندھ کے اسپتالوں جیسا ایک اسپتال بتادیں۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ابھی تک ابراج سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا، بی آر ٹی اور مالم جبا کی کرپشن پر آج تک کسی نے جواب نہیں دیا، وزیرہوابازی کےبیان کے بعد دنیامیں پی آئی اےکی پروازیں بند کی جارہی ہیں، پروازیں نہ ہونے کی وجہ سے پی آئی اے کو کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے، ڈی جی سول ایوی ایشن کا بیان وزیر کے بیان سے متضاد ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button