تحریک انصاف نے جارحانہ پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیوں کیا؟

اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کو گود لینے سے واضح انکار اور 9 مئی کے شرپسندوں کی ٹھکائی کے اعلان کے بعد تحریک انصاف نے ایک بار پھر انتشاری اور جارحانہ سیاست شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سینئرقیادت کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخلوط حکومت کو کسی صورت آگے نہ بڑھنے دیا جائے‘ اور وفاقی حکومت کو مزید ٹف ٹائم دیا جائے۔ مشاورتی ملاقاتوں میں آنیوالے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں احتجاج کے ساتھ حکومتی ہر رکن کے خطاب میں ہلڑ بازی کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف عدم اعتماد تحریک لانے پر بھی مشاورت کی گئی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے بدتمیز عمرانڈو رہنما شیر افضل مروت کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یا پی اے سی سرکاری اداروں کے احتساب کا اختیار رکھتی ہے اور کسی بھی حکومتی عہدیدار کو بلا کر اس سے حساب لے سکتی ہے۔ پاکستان کی پارلیمانی روایت رہی ہے کہ عام طور پر اپوزیشن لیڈر اس کمیٹی کا سربراہ ہوتا ہے تاہم پچھلے کچھ عرصے سے اپوزیشن کے دیگر رہنما بھی اس کمیٹی کے سربراہ منتخب ہوتے رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق شیر افضل مروت کی بطور اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نامزدگی براہ راست عمران خان کی جانب سے کی گئی ہے جو کہ علی امین گنڈاپور کو بطور وزیراعلٰی منتخب کرنے اور عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کے بعد عمران خان کا ایک ایسا فیصلہ ہے جس سے وہ پیغام دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ان کی جماعت سخت اپوزیشن کر سکتی ہے۔
اگرچہ عمر ایوب کا پس منظر فوجی ہے اور نہ صرف یہ کہ ان کے دادا جنرل ایوب خان پاکستان میں مارشل لا لگانے والے پہلے فوجی حکمران تھے بلکہ ان کے والد بھی اوائل میں پاکستانی فوج کے افسر تھے۔
خود عمر ایوب نے اپنا سیاسی کیرئیر فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے زیرسایہ شروع کیا اور اب تک پی ٹی آئی میں اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہی تصور کیے جاتے تھے لیکن 9 مئی کے واقعات اور اس کے بعد انتخابات اور قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر وہ پی ٹی آئی کے مزاحمتی بیانیے کو فروغ دینے میں پیش پیش رہے ہیں۔
دوسری طرف علی امین گنڈا پور پی ٹی آئی کے ان رہنماوں میں شمار ہوتے ہیں جو بہت سخت گیر ہیں اور بالخصوص 9 مئی کے بعد عمران خان کا ہر طرح سے ساتھ دیتے آئے ہیں۔
جن دنوں عمران خان لاہور کے زمان پارک میں مقیم تھے اور ان کی گرفتاری کے خدشات تھے، ان دنوں علی امین گنڈا پور کے لوگوں نے ان کے گھر کے باہر مسلسل پہرہ دیا۔
علی امین گنڈاپور نے عمران خان کے مزاحمتی بیانیے کو ہر طرح سے آگے بڑھایا اور تحریک انصاف کے قریبی حلقوں کے مطابق انہی خصوصیات کی وجہ سے انہیں وزیراعلٰی مقرر کیا گیا۔
تاہم سینیئر سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق عمر ایوب پارلیمان میں تحریک انصاف کا ایک مصالحتی چہرہ ہیں۔ ’پی ٹی آئی اس وقت مصالحت اور جارحیت دونوں حکمت عملیاں اپنانا چاہتی ہے۔ ایک طرف وہ عمر ایوب کے ذریعے مصالحانہ پیغام دینا چاہ رہے ہیں اور عادل راجہ اور حیدر مہدی جیسے ہارڈ لائن یوٹیوبرز تک سے لاتعلقی اختیار کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ گنڈاپور اور شیر افضل مروت جیسے لوگوں کے ذریعے دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔‘
ان کے مطابق عمران خان دو وجوہات کے باعث دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک یہ کہ انتخابات میں بہترین نتائج ملنے کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ایک مرتبہ پھر جارحیت کا موقع ملا ہے اور دوسرا یہ کہ ان نتائج کے باوجود ان کے ساتھ معاملات بحال کرنے کے لیے کوئی راستہ نہیں کھولا گیا۔
دوسری جانب سینیئر صحافی مظہر عباس کہتے ہیں کہ یہ پی ٹی آئی کی ’ کبھی ہاٹ کبھی کولڈ والی پالیسی ہے۔‘
’ان کی جماعت کے اندر بھی یہ بحث چل رہی ہے کہ کس وقت کون سی پالیسی اپنائی جائے۔ زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے یا دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر چلا جائے۔‘
مظہر عباس کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے وزیراعلٰی خیبر پختونخوا، قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی تینوں آئینی عہدوں کے لیے ایسے لوگوں کی نامزدگی کی ہے جو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور مخلص ہیں۔
’جہاں ایک طرف وہ حکومت کو دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں وہیں عمر ایوب جیسے قابل قبول چہرے کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا گیا ہے۔
ضیغم خان سمجھتے ہیں کہ عمران خان زیادہ سے زیادہ دباو ڈال کر الیکشن کمیشن سے جاری کردہ انتخابات کے نتائج واپس کروانا چاہتے ہیں۔ لیکن انہیں اپنے مقاصد میں کامیابی اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک ان کے اسٹیبلشمنٹ سے معاملات درست نہیں ہوتے۔
’عمر ایوب کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی اس لیے کی گئی ہے کہ اب پارلیمانی نظام میں اپوزیشن لیڈر نے وزیراعظم کے ساتھ مل کر بہت فیصلے کرنا ہوتے ہیں اور اس کا اہم کردار ہوتا ہے۔ عمر ایوب اس کے لیے مناسب انتخاب ہے کیونکہ انہوں نے کئی فورمز اور بین الاقوامی دنیا کے سامنے بھی تحریک انصاف کی نمائندگی کرنا ہو گی۔‘
دوسری جانب تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن کے مطابق اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس شخصیت کو کس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے کیونکہ جو بھی سامنے آیا گا وہ پارٹی کی حکمت عملی ہی آگے بڑھائے گا۔’اس وقت تحریک انصاف کی حکمت عملی یہ ہے کہ اپنا بنیادی حق واپس لینے کی کوشش کریں اور ہمارے مینڈیٹ پر جو شب خون مارا گیا ہے اس کو واپس لیں۔‘
’اس کے لیے تحریک انصاف تمام آپشنز استعمال کر رہی ہے۔ ہم پارلیمان، قانونی فورمز اور احتجاج کے ذریعے اپنا یہ حق واپس لینے کی جدوجہد کریں گے۔‘
