تحریک انصاف کو اسی کے بلے سے جی بھر کر کیسے دھویا گیا؟

لوگوں کو کیا لگتا کہ پی ٹی آئی کے بلے کے نشان کے ساتھ کرکٹ ہو رہی تھی؟ پی ٹی آئی کو اسی کے نشان بلے کے ساتھ اگلوں نے جی بھر کے دھویا ہے۔ اب دھلائی رنگائی اور چھلائی کے بعد اور کپتان کے بغیر پی ٹی آئی الیکشن میں اترے گی۔مسلم لیگ نون نے تسلی سے بیٹھ کر اپنی الیکشن مہم کی جزیات طے کی ہیں۔ اپنے امیدوار فائنل کیے ہیں۔ الیکشن کے لیے 60 جلسوں کا بھی اعلان ہو چکا ہے۔ نوازشریف خود زیادہ سے زیادہ 15 اور کم از کم 12 ڈویژنوں میں جلسے کریں گے۔ مریم نواز، شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی جلسے کریں گے۔ جو لوگ ٹکٹ سے رہ جائیں گے ان کے پاس اتنا ٹائم بھی نہیں بچے گا کہ کسی اور پارٹی میں شامل ہو جائیں۔ پی پی کو امید تھی کہ پی ٹی آئی کے کچھ امیدوار بلے کا نشان نہ ملنے پر، اور مسلم لیگ نون کے وہ لوگ جن کو ٹکٹ نہ ملا پی پی کے ساتھ آن ملیں گے۔ پی پی کے ساتھ نون لیگ نے پکا ہاتھ کیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کو اس کا انتخابی نشان بلا تو واپس دے دیا ہے مگر الیکشن کی پلاننگ کے لیے درکار وقت پی ٹی آئی کچہری چڑھنے، سزا سننے، اپیل کرنے، وکیلوں کے ہاتھ چڑھنے میں ضائع کر چکی ہے۔ اب اسے اگلے 26 ۔۔ 27 دن میں کامیابی کا کبوتر پکڑنا ہے جو پہلے ہی بادلوں میں اڑ رہا ہے۔ نیوز ویب سائٹ وی نیوز کے ایک سیاسی تجزیے میں کہا گیا ھے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو ٹھیک سے پارٹی الیکشن نہ کروانے پر بلے کے نشان سے محروم کر دیا تھا جو پشاور ہائی کورٹ نے واپس کروا دیا ھے ۔ اب الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی بلے کے نشان کے لیے اگلا میچ سپریم کورٹ میں لگاتے ہیں یا نہیں۔ یہ ان کی مرضی، وقت بہت ہی کم رہ گیا ہے۔ پی ٹی آئی ایک بڑی جماعت ہے اس کا الیکشن نشان اس کے پاس برقرار رہنا چاہیے۔ بلاوجہ ایک وکٹم کارڈ پیدا کرنا اور اس کو استمال ہونے دینا۔ لوگوں کے جذبات مشتعل کرنا کوئی اچھی حکمت عملی نہیں۔ وہ بھی تب جب لوگ اور پارٹی دونوں ہی اپنے ہوں۔ بلا واپس مل گیا ہے چنانچہ اب پی ٹی آئی الیکشن میں اکثریت لے کر دکھائے اور مخالفین کا منہ بند کر دے ۔ مقبولیت ایک بات ہے، اس مقبولیت کو ووٹ میں تبدیل کرنا پھر 266 حلقوں میں اتنی سیٹیں لینا کہ حکومت بنائی جا سکے کوئی آسان ٹارگٹ ہر گز نہیں۔ ایک اہم بات جس کی طرف ہم توجہ نہیں دے رہے وہ غلطیوں کو سدھارنے کا عمل ہے، جو پاکستان کے اداروں میں اس وقت جاری ھے ۔ اس کی کچھ مثالیں یوں ہیں۔ بھٹو پھانسی کیس عدالت میں دوبارہ لگ گیا ہے۔ نوازشریف کی نااہلی ختم ہو گئی ہے۔ صرف نااہلی ختم نہیں ہوئی بلکہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف پر عملدرامد ہی تقریباً معطل کر دیا ہے۔ آئین کی یہ شق جنرل ضیا نے آئین میں گھسائی تھی۔ سیاستدانوں کے سر پر اس کے ذریعے نااہلی کی تلوار لٹکائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس کو تاحیات نا اہلی میں بدل دیا تھا۔ اب یہ درستگی کر لی گئی ہے۔ اب کپتان کو بھی تاحیات نا اہل نہیں کیا سکتا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس شق پر تب تک عمل درامد معطل کر دیا ہے جب تک پارلیمنٹ اس شق کے لیے قانون سازی کر کے طریقہ کار نہیں بناتی اور اس کی تشریح نہیں کرتی۔ جنرل مشرف کی پھانسی کی سزا بھی واپس بحال ہو گئی ہے۔ جنرل مشرف وفات پا چکے ہیں۔ ان کو پھانسی کی سزا بحال کر کے عدالت نے سیاستدانوں اور آمروں کا اسکور ایک ایک سے فی الحال برابر کر دیا ہے۔ بھٹو پھانسی کیس کا البتہ عدالت اب ریویو سن رہی ہے۔ جسٹس مظاہر علی نقوی مستعفی ہو گئے ہیں۔ یہ لاہور ہائی کورٹ کے اس بینچ کے بھی سربراہ تھے جس نے جنرل مشرف کو سزا معطل کی تھی۔ اگر ہم سیاست، جاری حالات کو ایک طرف رکھیں تو عدالت اپنی غلطیاں سدھارتی دکھائی دے رہی ہے۔ افغانستان کے حوالے سے ہوئی غلطیوں کو بھی ٹھیک کیا جا رھا ھے ۔ سنہ 2019 کے بعد پاکستانی سفارتکاروں کی سالانہ کانفرنس اسلام آباد میں ہوئی ہے۔ اہم ملکوں میں پاکستانی سفیروں نے معاملات پر اپنے مشورے دیے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ اس وقت پاکستان کے تعلقات میں ایک تناؤ ہے۔ ٹی ٹی پی کے خلاف افغان حکومت کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔ جس پر پاکستان نے کچھ سخت ایکشن لیے ہیں۔ پی ٹی آئی کو بیٹ کا نشان واپس ملنا بھی غلطی سدھارنے کی ایک کوشش ہی سمجھیں جانی چاھئے کپتان غریب نے تبدیلی کی جنگ لڑنے کے لیے جو یوتھ تیار کی۔ ان کی ساری تربیت لڑنے اور بارات لوٹنے کے لیے ہی کی۔ کیسے ناچنا ہے، کیسے ویل پکڑنی، چھوٹی جگہ پر زیادہ ناچ کر دھرتی کیسے ہلانی ہے۔ پھر اپنے ان باراتی طیاروں کی تربیت سے خود ہی مطمئن ہو کر پنڈی کو ایک سیدھی ٹکر مار دی۔ پھر وہی ہوا جو ہونا تھا اب ہم دیکھ رہے ہیں اور وہ بھگت رہے ہیں۔
