تحریک انصاف کو اپنا ساتھی سمجھتے ہیں وہ بھی ہمیں دشمن نہ سمجھے

مسلم لیگ ق کی طرف سے حکومتی رویہ بارے تحفظات کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے. سپیکر قومی اسمبلی چودھری پرویز الہی کی طرف سے شکایات بھرے بیان کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ہم پی ٹی آئی کو اپنا ساتھی سمجھتے ہیں اس لیے انہیں بھی ہمیں اپنا دشمن سمجھنے کی بجائے اپنا ساتھی سمجھنا چاہیے.
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہم اتحادی ہونے کے علاوہ ساتھی بھی ہیں اس لیے ساتھ نبھانا خوب جانتے ہیں’۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘بعض دوست ہمارے بیانات کا غلط مطلب نکال کر وزیراعظم عمران خان کوویڈیو کلپ دکھا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں’۔ عمران خان کو اتحادیوں سے نہیں بلکہ اپنے ہی لوگوں سے زیادہ خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی بے شک چھوٹی ہے لیکن تجربے کے لحاظ سے دوتہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بھی کر چکے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) سے متعلق چودھریشجاعت حسین نے کہا کہ ‘جو بھی آئے جائے ایک چیز یاد رکھے کہ (ن) لیگ کا ووٹ بینک نوازشریف کا ہے اور شہبازشریف نوازشریف کے سامنے زیرو ہیں’۔انہوں نے کہا کہ برطانوی اخبار گارجین کی غلط خبر پر ہم نے 3 ماہ میں مقدمہ جیت لیا تھا اور اب دیکھتے ہیں کہ شہبازشریف لندن میں کیس کہاں تک چلاتے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ چودھری پرویزالٰہی، طارق بشیر چیمہ، مونس الٰہی کے بیانات سچائی اور حب الوطنی کی عکاسی کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ہمیشہ اتحاد اور مساوات پر یقین رکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما پرویز الہٰی نے نئی کمیٹی بنائے جانے پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ اتحادیوں کو اپنا سمجھنا چاہیے او ہر وقت شک کی نظر سے نہیں دیکھا جائے۔ پرویز الہٰی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ‘نئی کمیٹی سے پہلے بزدار صاحب نے ہمارے ساتھ تحریری معاہدہ کیا، اس کے بعد پرویز خٹک صاحب کی سربراہی میں ایک اور نئی کمیٹی بنائی گئی جس میں جہانگیر ترین اور دیگر لوگ ان کے ساتھ تھے’۔
واضح رہے کہ 20 جنوری کو خبر گردش کررہی تھی کہ حکمراں جماعت پی ٹی آئی کی اتحادی پاکستان مسلم لیگ (ق) کو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے کوئی مسئلہ نہیں تاہم وہ اپنے اضلاع میں ‘مکمل انتظامی شراکت داری’ چاہتے ہیں۔مسلم لیگ (ق) کا عثمان بزدار پر اعتماد کے حوالے سے سوال کے جواب میں مسلم لیگ (ق) کے ایک رہنما نے کہا تھا کہ ‘ہم وزیر اعلیٰ سے مطمئن ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں مگر جن اضلاع میں ہم سیاسی طور پر مضبوط ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں وہاں مکمل انتظامی شراکت داری دی جائے’۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے وفد سے حتمی مذاکرات کے بعد مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے قانونی مطالبات ایک ہفتے میں پورے نہ کیے گئے تو وہ تحریک انصاف کی حکومت سے اتحاد کے حوالے سے فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔
علاوہ ازیں مسلم لیگ (ق) کے رہنما مونس الٰہی کا کہنا تھا ‘ہم نے کبھی بھی عثمان بزدار کے خلاف کوئی شکایت نہیں کی، ہم نے ہمیشہ ان کی حمایت کی ہے، عمران خان کو اپنے ہاؤس کو آرڈر میں لانا ہوگا جس کا آغاز جھوٹی خبریں پھیلانے والوں سے کرنا ہوگا’۔
دریں اثنا تحریک انصاف نے مذاکرات میں مسلم لیگ (ق) کے وفاق اور پنجاب میں ایک، ایک وزرا کو بااختیار بنانے پر رضامندی کا اظہار کیا گیا جس کے ساتھ ساتھ گجرات، چکوال، بہاولپور اور ملکوال، پھلیہ اور ڈسکہ تحصیلوں میں انتظامی اختیارات میں شراکت داری کا بھی کہا گیا تھا۔
