تحریک طالبان کی حکومت کو معافی کی جوابی پیشکش


صدر عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کو مشروط عام معافی دیے جانے کے بیانات کے جواب میں کالعدم تحریک طالبان نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ‘معافی تو غلطی پر مانگی جاتی ہے لیکن ہم نے کبھی اپنے دشمن سے معافی نہیں مانگی لہذا معافی لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ٹی ٹی پی نے حکومت پاکستان کی جانب سے معافی کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے ’دشمن کو‘ معافی دینے کی مشروط پیشکش کی ہے یعنی طالبان نے حکومت پاکستان کو معافی دینے کی پیشکش کی ہے۔
ٹی ٹی پی کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جہاد‘ نہ کرنے کے وعدے پر معافی ان کے لیے بے معنی ہے کیونکہ ‘معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے جبکہ ہمارے جدوجہد کا مقصد پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔’ یاد رہے کہ صدر عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں انٹرویوز میں کہا تھا کہ اگر تحریک طالبان شدت پسندی کی کارروائیاں چھوڑ دیں اور ہتھیار ڈال دیں تو حکومت انھیں معاف کر سکتی ہے۔ اس پیشکش کے ردعمل میں بلاول بھٹو نے حکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا سوچنا بھی ان ہزاروں معصوم پاکستانیوں کے خون سے غداری کے مترادف ہو گا جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جان قربان کی ہیں۔
تاہم حکومتی پیشکش کے جواب میں پاکستان کے سکیولر رہنماؤں اور فوجی قیادت کو مخاطب کر کے ٹی ٹی پی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم نے کبھی دشمن سے معافی نہیں مانگی۔ ‘تحریک طالبان نے حکومت پاکستان کی جانب سے معافی کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے اپنے بیان میں معافی دینے کی مشروط پیشکش کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ‘ملک میں شرعی نظام نافذ کرنے کا وعدہ یا ارادہ کیا جائے تو ہم اپنے دشمن کے لیے معافی کا اعلان کر سکتے ہیں۔’
تحریک طالبان کے بیان میں پاکستان کے آئین پر بھی تنقید کی گئی ہے۔کالعدم تنظیم کے بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان کے سیکولر جمہوری رہنما اور فوجی ‘اسلام دشمن پالیسیوں’ پر عمل پیرا رییں گے تو ان کے خلاف ‘جہاد’ جاری رہے گا۔ یاد رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر کالعدم تحریک طالبان پاکستان شدت پسندی کی کارروائیاں چھوڑ دے اور ہتھیار ڈال دے تو حکومت انھیں معاف کر سکتی ہے۔پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی جیلوں سے ٹی ٹی پی کے کارکن رہا کر دیے گئے جن کی وجہ سے پاکستان کو خدشات ہیں۔
ان کا کہنا تھا ‘اگر وہ لوگ یہاں آ کر ہمارے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں تو اس سے معصوم زندگیوں پر اثر پڑے گا جو ہم نہیں چاہتے۔’
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘اگر طالبان اپنی دہشت گردانہ کارروائیں ترک کرتے ہیں اور حکومت کی رٹ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہیں تو انہیں عام معافی دی جا سکتی ہے۔’لیکن اگر وہ شدت پسند کارروائیاں جاری رکھتے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے باعث تشویش ہو گا۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے افغان طالبان کے اس موقف کو مثبت قرار دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی مٹی کو پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
اس سے پہلے پاکستان کے صدر عارف علوی نے بھی کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ارکان اگر اپنی ‘مجرمانہ سرگرمیاں‘ ترک کر کے پاکستانی آئین کے سامنے ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معافی دی جا سکتی ہے۔پاکستانی چینل ڈان نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا ‘ٹی ٹی پی اب بھی ایک خطرہ ہے۔’ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی طالبان قیادت نے یہ پیغام دیا ہے کہ ‘ہم (افغان طالبان) انھیں یہاں (افغانستان) میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن وہ پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ‘یہ معافی امن کے قیام کا ایک راستہ ہو سکتا ہے۔’
تاہم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے سیاسی وارث پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس پیشکش کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان جیسے درندوں کو عام معافی دینے کا سوچنا بھی ان معصوم پاکستانیوں کے خون سے غداری کے مترادف ہے جنہوں نےاس جنگ میں اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔

Back to top button