تحریک طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں ڈیڈ لاک

تحریک طالبان اور پاکستانی حکام کے مابین ایک مہینے کا عارضی سیزفائر ہوجانے کے باوجود دونوں فریقین کے مابین مزید بات چیت کا عمل ڈیڈ لاک کا شکار ہوگیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عسکری حکام اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان فائر بندی کو پندرہ روز گزر گئے ہیں لیکن طالبان اور پاکستان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان اب تک باقاعدہ بات چیت شروع نہیں ہو پائی ہے۔ بی بی سی کے مطابق تحریک طالبان کے ترجمان محمد خراسانی نے بتایا ہے کہ اب تک مذاکراتی کمیٹیاں بات چیت کے لیے باقاعدہ طور پر آمنے سامنے نہیں بیٹھی ہیں۔ انھوں نے اس خبر کی بھی تردید کی کہ پاکستان نے تحریک طالبان سے منسلک 100 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔ شاید اسی وجہ سے دونوں فریقین کے مابین مذاکراتی عمل ڈیڈ لاک کا شکار ہوا ہے۔
تاہم اس بارے میں وزیرستان میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے رابطے ہوئے ہیں اور امن معاہدے کی تکمیل کے لیے کوششیں جاری ہیں، جس میں کچھ مقامی قبائلی رہنما بھی حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے قبل ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان خیر سگالی کے جذبے کے تحت حراستی مراکز سے لگ بھگ ایک سو طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ رہائی کا یہ عمل طالبان کی جانب سے کسی مطالبے کے تحت نہیں کیا گیا بلکہ بات چیت کے لیے سازگار ماحول بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم سینیئر صحافی جمشید باغوان نے دعوی کیا ہے کہ طالبان کے ان گرفتار قیدیوں کو حراستی مراکز سے رہا کر دیا گیا ہے، جن کی باضابطہ رہائی میں چند ماہ باقی تھے اور ان میں بیشتر تو اپنے گھروں کو بھی پہنچ چکے ہیں۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ قیدیوں کی رہائی طالبان کے مطالبے پر نہیں کی گئی بلکہ خیر سگالی کے اقدام کے طور پر کی گئی ہے۔
دوسری جانب تحریک طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ جب دونوں اطراف کی مذاکراتی کمیٹیاں آمنے سامنے میز پر بیٹھی ہی نہیں تو پھر ایسے میں شرائط اور مطالبات کی بات قبل از وقت ہو گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ تحریک طالبان کی جانب سے اب تک کسی قسم کی شرائط پیش نہیں کی گئیں۔ یاد رہے کہ چند روز قبل تحریک طالبان کے کمانڈر عبدالولی مہمند عرف عمر خالد خراسانی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے تحریک طالبان کے مطالبات ماننے کی صورت ہی میں ان مذاکرات میں پیش رفت ہو سکتی ہے، جس میں سرفہرست مطالبہ انکے زیر حراست ساتھیوں کی رہائی ہے۔ یاد رہے کہ عمر خراسانی وہی کمانڈر ہے جس نے پاک فوج کے کئی جوانوں کو اغوا کرنے کے بعد انکے سر کاٹ کر ان سے فٹبال کھیلنے کی قبیح حرکت کی تھی۔
وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی جمشید باغوان نے بتایا کہ ان کی اطلاع بھی یہی ہے کہ اب تک باضابطہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے اور نہ ہی اب تک طالبان کی جانب سے کسی قسم کی کوئی شرائط یا مطالبات سامنے آئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں فریقین میں اس وقت ڈیڈلاک ہو چکا ہے۔
وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں جانب سے مذاکرات کے لیے رابطے ضرور ہوئے ہیں اور بعض رابطے براہ راست ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان رابطوں میں کبھی کمیٹیاں شامل رہی ہیں اور کبھی انفرادی طور پر پیغامات کا سلسلہ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک رابطے اچھے ماحول میں ہو رہے ہیں اور امن معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرونا کو ختم کرنے والی پودوں کی موثر دوا
یاد رہے کہ حکومت پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ایک ماہ کے لیے فائر بندی کا اعلان آٹھ نومبر کو ہوا تھا۔ ان مذاکرات کے لیے ثالثی کا کردار افغان حکومت کے وزیر داخلہ کمانڈر سراج الدین حقانی انجام دے رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی نے اس فائر بندی سے متعلق باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا تھا اور ایک ماہ یعنی 9 نومبر سے 9 دسمبر تک فائر بندی کی تصدیق کی تھی۔
