شہباز شریف نے اسلام آباد میں آپریشن کس کے دباؤ پر روکا؟

 

 

 

اسلام آباد کے حساس ترین علاقے ریڈ زون میں واقع ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے ’ٹوئن ٹاورز‘کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے ) کی جانب سے خالی کروانے کی کوشش کے بعد سے دوبارہ خبروں میں آگئے ہیں۔ چند روز پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سی ڈی اے کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن نون لیگی قیادت کے دباؤ پر روک دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو ایک ہفتے کے اندر اس معاملے کا مکمل جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی، جبکہ اس دوران متاثرہ فریقین کو اپنی معروضات پیش کرنے کا موقع بھی دیا جائے گا۔ اس دوران سی ڈی اے کو مزید کوئی کارروائی کرنے سے روک دیا گیا ہے جسے توہین عدالت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

اسلام آباد میں باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پر عدالتی احکامات کے باوجود آپریشن روکنے اور کمیٹی بنانے کے لیے دباؤ رائیونڈ کے بڑے گھر سے آیا کیونکہ ان ٹوئن ٹاورز میں خواجہ برادران کی شراکت داری کے علاوہ نون لیگ کی کئی دیگر بااثر شخصیات کے بھی پینٹ ہاؤسز موجود ہیں۔

یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو میں فوج اور عدلیہ سمیت کئی ایسے اداروں سے وابستہ افراد کی بھی جائیدادیں موجود ہیں جنہوں نے اس غیر قانونی بلڈنگ کو تعمیر کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یاد رہے کہ یہ منصوبہ تقریباً 13.5 ایکڑ رقبے پر محیط ایک کثیر المقاصد پراجیکٹ ہے جس میں اپارٹمنٹس، کمرشل ایریاز اور فائیو سٹار گرینڈ حیات ہوٹل شامل ہونا تھا۔

 

سی ڈی اے کے مطابق 2005 میں یہ زمین صرف ایک 5 سٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے 99 سالہ لیز پر دی گئی تھی۔ یہ لیز میسرز بی این پی گروپ نے 4.882 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی دے کر حاصل کی۔ بی این پی گروپ میں پہلا حرف B دراصل بسم اللہ گروپ کے لیے ہے جس کی ملکیت عبدالحفیظ شیخ کی ہے جبکہ آخری لفظ P دراصل پیراگون سٹی کے لیے ہے جس کی ملکیت خواجہ برادران کی ہے۔

 

تاہم عجیب بات یہ ہوئی کہ بولی جیتنے والے بی این پی گروپ کو صرف 15 فیصد ابتدائی ادائیگی کے بعد ہی زمین کا قبضہ دے دیا گیا، جس کے بعد ادائیگیوں میں ڈیفالٹ اور بار بار ری شیڈولنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور کمپنی اپنی مالی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکی۔ سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ منصوبے کے اصل ڈیزائن کے برعکس 5 سٹار ہوٹل کی بجائے لگژری اپارٹمنٹس اور کمرشل یونٹس تعمیر کیے گئے، جن کی فروخت اور سب لیزنگ کے نتیجے میں تیسرے فریق کے دعوے سامنے آئے اور قانونی پیچیدگیاں بڑھتی چلی گئیں۔ سی ڈی اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں جو مجوزہ فائیو سٹار ہوٹل اور اپارٹمنٹس بننے تھے وہ کسی بھی صورت بیچے نہیں جا سکتے تھے۔ چنانچہ سی ڈی اے نے ضوابط کی خلاف ورزی پر 2016 میں زمین کی لیز منسوخ کر دی تھی، جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھتے ہوئے ہوٹل کے بجائے اپارٹمنٹس کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دے دیا، تاہم 9 جنوری 2019 کو اپنی ریٹائرمنٹ سے صرف پانچ روز پہلے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار عرف بابا رحمتے نے نوٹوں کی خوشبو سے مدہوش ہو کر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر لیز بحال کر دی۔

 

بابا رحمتے نے جلدی میں ایک مختصر فیصلہ سنایا جس کے مطابق یہ تسلیم کیا گیا کہ یہ بلڈنگ غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی۔ لیکن موصوف نے فیصلہ دیا کہ غیر قانونی بلڈنگ کو گرانے سے رہائشوں کا بڑا نقصان ہوگا لہذا بی این پی گروپ سی ڈی اے کو اگلے 8 برس کے دوران 8 قسطوں میں 17.5 ارب روپے ادا کرے گا۔ سماعت کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس نے اپنے فیصلے کو انصاف کا رنگ دینے کے لیے یہ ریمارکس دیے کہ جب ایک غیر قانونی عمارت تعمیر ہو رہی تھی تو سی ڈی اے نے بروقت کارروائی کیوں نہ کی، جبکہ اس دوران شہریوں نے بھاری سرمایہ کاری کر دی تھی۔ لیکن صورتحال تب دوبارہ پیچیدہ ہو گئی جب بی این پی سی ڈی اے کو ساڑھے سات ارب روپے دینے میں ناکام رہی اور اگلے 8 برس میں ایک روپیہ بھی جمع نہیں کروایا گیا۔

 

سی ڈی اے نے دسمبر 2022 میں بی این پی گروپ کو ادائیگی اور بینک گارنٹی سے متعلق نوٹس جاری کیے اور 7 فروری 2023 کو لیز ختم کرنے کا نوٹس دیا، جس کے بعد مسلسل عدم ادائیگی کی بنیاد پر 8 مارچ 2023 کو اسکی 99 سالہ لیز باضابطہ طور پر منسوخ کر دی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں بھی 30 اپریل 2026 کو خارج کر دی گئیں، جس سے سی ڈی اے کے مؤقف کو مزید تقویت ملی۔ اس سے قبل بی این پی گروپ نے معاشی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے منصوبہ جاری رکھنے اور سالانہ تقریباً 3 ارب روپے کی قسط ادا کرنے میں ناکامی کا اعتراف بھی کیا تھا۔

 

اس معاملے کی تحقیقات کے دوران ایف آئی اے نے کمپنی کے سی ای او اور سی ڈی اے کے بعض سابق اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کیے، جو بعد ازاں نیب کے سپرد کر دیے گئے، جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی اس کیس کا جائزہ لے کر عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ حال ہی مین اسلام اباد ہائی کورٹ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر کیس کا فیصلہ سی ڈی اے کے حق میں آنے کے بعد کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے عمارت خالی کروانے کے لیے آپریشن شروع کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق یہ کارروائی عدالتی احکامات کے بعد کی گئی کیونکہ ایک نجی ڈویلپر بارہا مواقع ملنے کے باوجود اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا۔

 

وزیرِ مملکت برائے اطلاعات طلال چوہدری کے مطابق اس عمارت میں 253 غیرقانونی اپارٹمنٹس تعمیر کیے گئے تھے جن میں سے 184 پہلے ہی خالی تھے جبکہ 69 میں رہائش موجود تھی، اور کارروائی کے دوران کسی کی پرائیویسی متاثر نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست بلاامتیاز قانون کی عملداری کو یقینی بنا رہی ہے اور چاہے معاملہ غریب بستیوں کا ہو یا اشرافیہ کے بڑے منصوبوں کا، قانون سب کے لیے یکساں ہے۔

 

ادھر پاکستانی سوشل میڈیا میں اس معاملے پر بحث جاری ہے، جہاں اسے طبقاتی انصاف کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا قانون کا اطلاق واقعی سب پر یکساں ہو رہا ہے یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اسلام اباد ہائی کورٹ کے احکامات پر شروع ہونے والا آپریشن روکنا توہین عدالت کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن روک کر اس معاملے پر کمیٹی صرف اس لیے بنائی گئی کہ بلڈنگ میں موجود شاہانہ پینٹ ہاؤسز کے مالکان میں نون لیگی رہنماؤں سمیت اسلام آباد کے بعد با اثر افراد شامل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف اسلام آباد کی غیر قانونی کچی بستیوں میں غریبوں کی جھگیاں مسمار کی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں واقع غیر قانونی عمارت کے مکینوں کو عدالتی احکامات کے باوجود تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

 

Back to top button