شریف خاندان کے خلاف درج مقدمات اچانک ختم کیوں ہونے لگے؟

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران عدالتوں میں ہونے والی اہم پیش رفت اور شریف فیملی کو ملنے والے یکے بعد دیگرے ریلیف نے نہ صرف مسلم لیگ ن بلکہ پورے سیاسی منظرنامے کو نئی بحث میں دھکیل دیا ہے۔ ایک طرف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے سات کروڑ روپے کے زرِ ضمانت کی واپسی کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں باقاعدہ سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران اور داماد علی عمران یوسف کو عدالت سے بڑا ریلیف حاصل ہوا ہے۔ یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپریل 2022 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد شریف خاندان کے خلاف قائم کئی بڑے مقدمات یا تو ختم ہو چکے ہیں یا ان میں عدالتوں سے واضح ریلیف ملا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا شریف خاندان کو عدالتوں سے مسلسل ریلیف ملتا رہے گا یا مستقبل میں قانونی محاذ پر نئے چیلنجز بھی سامنے آئیں گے؟
خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر ملز کیس ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے۔ یہ مقدمہ 2018 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں تھی اور نیب نے مبینہ منی لانڈرنگ، مشکوک مالی لین دین اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ مریم نواز کو 2019 میں اسی مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے انہیں سخت شرائط کے ساتھ ضمانت دے دی تھی، جس میں سات کروڑ روپے کے مچلکے جمع کروانا اور پاسپورٹ عدالت میں جمع کرانا شامل تھا۔
رواں برس احتساب عدالت کی جانب سے شواہد ناکافی قرار دیے جانے کے بعد اس انکوائری کو بند کر دیا گیا، جس کے بعد اب مریم نواز اپنی زرِ ضمانت واپس لینے کے لیے عدالت سے رجوع کر چکی ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس معاملے میں نیب سے مکمل ریکارڈ طلب کر رکھا ہے، تاہم ادارہ ابھی تک مکمل دستاویزات جمع نہیں کروا سکا۔
اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران اور ان کے شوہر علی عمران یوسف کو بھی عدالتوں سے اہم ریلیف ملا ہے۔ دونوں پر پنجاب پاور کمپنی اور صاف پانی کمپنی سے متعلق کرپشن کے الزامات تھے اور وہ طویل عرصے تک عدالتوں میں پیش نہ ہونے کے باعث مفرور قرار دئیے جا چکے تھے۔ عدالت نے ان کے وارنٹ معطل کرتے ہوئے پیش ہونے کا موقع دیا، جس کے بعد دونوں نے عبوری ضمانت حاصل کر لی۔
انسدادِ رشوت ستانی کے ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، جبکہ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس مقدمے کے دیگر اہم ملزمان، جن میں وزیراعظم شہباز شریف بھی شامل ہیں، پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اپریل 2022 کے بعد شریف خاندان کے کئی اہم مقدمات منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی سزا کالعدم قرار دی گئی، نواز شریف کو العزیزیہ اور دیگر مقدمات میں ریلیف ملا، جبکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی منی لانڈرنگ، رمضان شوگر ملز اور آشیانہ ہاؤسنگ سکیم جیسے مقدمات سے بری ہو چکے ہیں۔
سیاسی مخالفین ان عدالتی فیصلوں کو اقتدار کی تبدیلی کے بعد ملنے والا سیاسی ریلیف قرار دیتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا احتساب کا نظام صرف حکومتوں کے بدلنے کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے؟ دوسری جانب مسلم لیگ ن اور شریف خاندان کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے تھے اور اب عدالتیں حقائق کی بنیاد پر انہیں انصاف فراہم کر رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ مقدمات صرف قانونی نوعیت کے نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی نظام، احتسابی اداروں کی ساکھ اور عدالتی نظام کے کردار سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے آنے والے مہینوں میں عدالتوں کے فیصلے نہ صرف شریف خاندان بلکہ ملکی سیاست کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
