اپنا گھر بنانے کیلئے ایک کروڑ روپے تک کا قرض کیسے ملے گا؟

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی، جائیداد کی بلند قیمتوں اور رہائشی مسائل کے باعث اپنا گھر بنانا متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ایک خواب بنتا جا رہا تھا، تاہم وفاقی حکومت نے ’وزیراعظم اپنا گھر پروگرام 2026‘ متعارف کرا کے لاکھوں خاندانوں کو اپنے گھر کی نئی امیددلادی ہے۔ اس منصوبے کے تحت حکومت نے نہ صرف کم اور متوسط آمدنی والے افراد کو گھروں کی تعمیر کے لیے آسان قرض فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے بلکہ پہلی مرتبہ اوورسیز پاکستانیوں کو بھی اس سکیم میں شامل کیا گیا ہے۔

حکومت کے مطابق اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر پانچ لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اہل شہری ایک کروڑ روپے تک قرض حاصل کر سکیں گے۔ یہ قرض ایسے افراد کو دیا جائے گا جو مالی طور پر اقساط ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اپنی آمدنی کا ثبوت فراہم کر سکیں۔

اس سکیم کی خاص بات اس کا مکمل ڈیجیٹل نظام ہے۔ پاکستان میں مقیم شہریوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک پاکستانی بھی آفیشل پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکیں گے۔ اوورسیز پاکستانی اپنے نائیکوپ اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی بنیاد پر پروگرام میں شامل ہو سکیں گے، جس سے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری اور رہائش کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

حکومت نے اہلیت کا دائرہ بھی وسیع رکھا ہے۔ سرکاری ملازمین، نجی کمپنیوں کے ملازمین، کاروباری افراد اور فری لانسرز سب اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ نجی اداروں میں کام کرنے والے افراد اپنی سیلری سلپ یا گزشتہ چھ ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ جمع کرا کے درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ کاروباری طبقہ اور فری لانسرز ٹیکس ریٹرنز یا بینک ٹرانزیکشنز کو آمدنی کے ثبوت کے طور پر استعمال کر سکیں گے۔

حکام کے مطابق تمام ضروری دستاویزات مکمل ہونے کے بعد قرض کی منظوری کا عمل 30 دن کے اندر مکمل کیا جائے گا تاکہ درخواست دہندگان کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیراعظم نے بینکوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ قرض کی فراہمی صرف مخصوص طبقوں تک محدود نہ رکھی جائے بلکہ ہر اُس شہری کو سہولت دی جائے جو قسط ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ماضی میں بھی ہاؤسنگ سکیموں کے اعلانات کیے گئے، تاہم ناقص منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے مسائل کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ اسی لیے موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ وہ اس منصوبے کو شفاف، تیز اور مؤثر انداز میں مکمل کرے۔ اگر سود کی شرح کم رکھی گئی اور نگرانی کا نظام مضبوط بنایا گیا تو یہ سکیم نہ صرف لاکھوں خاندانوں کے لیے چھت کا خواب پورا کر سکتی ہے بلکہ تعمیراتی صنعت اور ملکی معیشت کو بھی نئی زندگی دے سکتی ہے۔

Back to top button