اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بننے کو تیار

پاکستان آئندہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرنے جا رہا ہے، جسے خطے میں سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ امن معاہدے کیلئے بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورۂ چین سے قبل ایک ابتدائی معاہدہ طے پانے کے امکانات روشن ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات میں تقریباً 85 فیصد معاملات پر پیش رفت ہو چکی ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امور اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ تصور کیے جا رہے ہیں۔

مجوزہ فریم ورک کے تحت ایران جوہری افزودگی محدود یا بند کرنے پر آمادگی ظاہر کرے گا جبکہ اس کے بدلے امریکا اقتصادی پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی اور مالی سہولتوں پر غور کرے گا۔ذرائع کے مطابق معاہدے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد رکاوٹوں کے خاتمے پر بھی بات چیت جاری ہے، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔اہم اختلافی نکتہ جوہری افزودگی پر پابندی کی مدت ہے۔ امریکا اس پابندی کو 20 سال تک بڑھانا چاہتا ہے جبکہ ایران نسبتاً کم مدت یعنی 5 سال کا مؤقف رکھتا ہے۔ تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں فریق 12 سے 15 سال کے درمیانی فارمولے پر متفق ہو سکتے ہیں۔

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ابتدائی سمجھوتے کے بعد تفصیلی مذاکرات اسلام آباد یا سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جاری رکھے جا سکتے ہیں۔پاکستان کی جانب سے اس مذاکراتی عمل کی میزبانی کو خطے میں اس کے بڑھتے سفارتی کردار اور ثالثی کی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب رہے تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

Back to top button