سینیٹ اجلاس:اپوزیشن نےعمران خان کی صحت پرتشویش کااظہارکردیا

سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے عمران خان کی صحت پر شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔

حکومتی وزراء نے کہا کہ صحت ٹھیک ہے وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اب بھی برقرار ہے۔

سینیٹ اجلاس کا ویسے تو ایجنڈا کافی لمبا چوڑا تھا لیکن اپوزیشن لیڈر کی درخواست پر چیئرمین سینیٹ نے ایجنڈا موخر کرکے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت پر بات کرنے کی اجازت دے دی۔

طے ہوا کہ دونوں جانب سے 5٫5 ارکان اس معاملے پر بولیں گے، ایان بالا میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت خراب ہے، ہماری ملاقات کروائی جائے۔

ان کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا میری اطلاعات کے مطابق ان کی صحت ٹھیک ہے، آنکھ خراب تھی جس کا علاج کروایا گیا، ملاقاتیں بھی ہورہی ہیں۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے کہا جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو بلڈپریشر کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ان کو گردوں اور دل کا عارضہ ہوسکتا ہے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا عمران خان سمیت دیگر قیدیوں کو عدالتوں سے سزائیں ہوئی ہیں، ہم نے جنیوا میں بھی بتایا ہے، نواز شریف نے بھی عدالتوں سے ضمانتیں لیں۔

تحریک انصاف کی سینیٹر مشعال یوسفزئی نے کہا ملک کو تین ہسپتال دینے والا سابق وزیراعظم آج اپنا علاج مانگ رہا ہے۔

وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا پارلیمنٹ کو نہیں مانتا سے شروع ہونیوالا سفر آج ملاقات مانگ رہاہے، مذاکرات کی پیشکش آج بھی موجود ہے۔

دوران تقریر سینیٹر انوشہ رحمان کے ٹوکنے پر مشعال یوسفزئی نے انہیں کہا آپ میرے ہاتھوں ضائع ہوجائیں گی، ان کے اس فقرے پر سینیٹر انوشہ رحمان تو مسکرائیں تاہم سینیٹر ناصر بٹ نے احتجاج ریکارڈ کروایا۔

 

Back to top button