امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران اپنے دفاع کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے: عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اب بھی کھلا ہے، امریکا شرائط مان لے اور بحری ناکہ بندی ختم کردے تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھل جائے گی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران اپنے دفاع کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے۔
تہران میں غیر ملکی سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے جو ضروری ہوگا کرے گا، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اب بھی کھلا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے امریکا معقولیت اور دانشمندی کا راستہ اختیار کرے گا، جبکہ امریکا کی نئی پابندیوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائیاں یا پابندیاں مسائل کا حل نہیں ہیں، امریکا فوجی اور سفارتی دونوں محاذوں پر ناکام ہوچکا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پر مسلط غیرقانونی جنگ کا خاتمہ شفاف اور منصفانہ مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ امریکا شرائط مان لے اور بحری ناکہ بندی ختم کردے تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھل جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی 7 شرائط میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی بحالی کا منصوبہ شامل ہے، جبکہ ایران یورپی ممالک سے ایران کے خلاف امریکی جنگ میں حصہ لینے پر وضاحت کا منتظر ہے۔
