پنجاب میں حکومتی منصوبوں پر نون لیگ کی سیاسی برینڈنگ کیوں؟

پاکستان میں سرکاری ترقیاتی منصوبوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور عوامی سہولتوں کو سیاسی شخصیات یا ان کے خاندان کے افراد کے نام سے منسوب کرنے کا رجحان ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جن منصوبوں کی تعمیر عوام کے ٹیکسوں اور سرکاری وسائل سے ہوتی ہے، ان کی شناخت کسی حکمران یا سیاسی خاندان کے نام سے کیوں کی جائے اور کیا ایسے نام واقعی عوامی خدمت کی علامت ہیں یا سیاسی شناخت کو مستقل رکھنے کا ایک ذریعہ بن سکتے ہیں؟

یہ بحث کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں۔ سابق وزیر قانون بابر اعوان نے بھی اس رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سائنس، ادب، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد کے نام پس منظر میں چلے جاتے ہیں، جبکہ بااثر سیاسی خاندانوں کے نام بار بار سرکاری منصوبوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام کے ٹیکسوں سے قائم ہونے والے منصوبوں کو کسی فرد یا خاندان کی تشہیر کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔

یہاں ایک بنیادی فرق بھی سمجھنا ضروری ہے۔ اگر کوئی ادارہ کسی فرد کے ذاتی عطیے، زمین یا مالی وسائل سے قائم کیا گیا ہو تو اس کے نام سے متعلق معاملہ مختلف نوعیت رکھتا ہے۔ گنگا رام ہسپتال اور گلاب دیوی ہسپتال جیسی مثالوں میں ذاتی عطیات اور خدمات کا تعلق موجود ہے، جبکہ سرکاری منصوبوں میں بنیادی مالی بوجھ ریاستی خزانے پر ہوتا ہے۔ اسی لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری منصوبوں کے نام رکھنے کے لیے سیاسی وابستگی سے بالاتر ایک واضح اور یکساں اصول ہونا چاہیے۔

پنجاب میں حالیہ برسوں کے دوران نواز شریف، کلثوم نواز اور مریم نواز کے نام سے منسوب مختلف صحت اور ترقیاتی منصوبے اس بحث کا نمایاں حصہ بنے ہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب کے سرکاری ترقیاتی پروگرام میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ، نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور مریم نواز ہیلتھ کلینکس جیسے منصوبے شامل ہیں۔ پنجاب کے 2026-27 کے بجٹ میں بھی نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ اور نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سمیت صحت کے مختلف منصوبوں کے لیے رقوم مختص کی گئی ہیں۔

مریم نواز ہیلتھ کلینکس کے معاملے میں نام رکھنے کا عمل محض کسی ایک نئے منصوبے کے نام تک محدود نہیں رہا۔ 2025 میں جیو فیکٹ چیک نے پنجاب کے سرکاری ریکارڈ اور محکمہ صحت کے ذرائع کی بنیاد پر رپورٹ کیا تھا کہ صوبے کے 2500 بنیادی مراکز صحت اور 316 دیہی مراکز صحت کے نام بالترتیب مریم نواز ہیلتھ کلینکس اور مریم نواز ہسپتال رکھنے کا عمل جاری تھا۔ اس طرح کے اقدامات نے سرکاری اداروں کے نام سیاسی شخصیات سے منسوب کرنے کی بحث کو مزید نمایاں کیا۔

تاہم یہ رجحان صرف پنجاب یا مسلم لیگ ن تک محدود قرار دینا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ سندھ میں بھٹو خاندان سے وابستہ ناموں کے حامل سرکاری ادارے اور منصوبے موجود ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں عبدالولی خان یونیورسٹی جیسی مثال بھی سامنے آتی ہے۔ خود بابر اعوان نے بھی اس رجحان کو مختلف سیاسی جماعتوں تک پھیلا ہوا قرار دیا ہے۔

ناقدین کے مطابق مسئلہ صرف کسی منصوبے کے نام کا نہیں بلکہ ریاستی وسائل اور سیاسی تشہیر کے درمیان حد بندی کا ہے۔ ڈان کے کالم نگار زاہد حسین کے حوالے سے رپورٹ میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ سرکاری وسائل سے سیاسی شخصیات کی تشہیر کے سیاسی فوائد بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر کسی ہسپتال، یونیورسٹی، سڑک یا عوامی منصوبے کے ساتھ کسی زندہ سیاسی شخصیت کا نام مسلسل نمایاں رہے تو اس منصوبے کی عوامی شناخت بھی اس شخصیت کے سیاسی تشخص سے جڑ سکتی ہے۔

دوسری طرف کسی منصوبے کا نام رکھنا بذات خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس کا مقصد سیاسی تشہیر ہی ہے۔ حکومتیں اپنے منصوبوں کو مختلف قومی، تاریخی، انتظامی یا سیاسی شخصیات کے نام سے منسوب کرتی رہی ہیں، جبکہ کسی منصوبے کی اصل افادیت کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ عوام کو کیا سہولت فراہم کرتا ہے، اس پر کتنی رقم خرچ ہوتی ہے اور وہ اپنے مقررہ مقاصد کس حد تک پورے کرتا ہے۔ اسی لیے نام رکھنے کی بحث کو منصوبے کی کارکردگی اور شفافیت سے الگ رکھنا بھی ضروری ہے۔

اصل مسئلہ اس وقت زیادہ پیچیدہ ہوجاتا ہے جب حکومت تبدیل ہونے کے بعد سابق حکمرانوں کے نام سے منسوب منصوبوں کے نام تبدیل کرنے کی روایت سامنے آئے۔ اس سے نہ صرف سرکاری ریکارڈ، سائن بورڈز اور تشہیری مواد تبدیل کرنے کے اخراجات پیدا ہوسکتے ہیں بلکہ ایک ہی منصوبہ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی شناختوں کے ساتھ سامنے آسکتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے مستقل اور غیر سیاسی نام رکھنے کی پالیسی انتظامی اعتبار سے بھی زیادہ قابلِ عمل ہوسکتی ہے۔

اسی لیے ماہرین کی جانب سے ایک واضح اور یکساں نام گذاری پالیسی کی تجویز اہم ہے۔ اس پالیسی میں یہ طے کیا جاسکتا ہے کہ سرکاری منصوبوں کے نام رکھنے کے لیے کن شخصیات کو اہل سمجھا جائے، زندہ سیاسی شخصیات یا برسرِ اقتدار عہدیداروں کے نام استعمال کرنے کے کیا اصول ہوں، تاریخی اور مقامی شخصیات کے انتخاب کا طریقہ کیا ہو اور نام تبدیل کرنے کے لیے کس ادارے کی منظوری ضروری ہو۔ عوامی مشاورت اور شفاف طریقۂ کار بھی اس عمل کو سیاسی تنازع سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ کسی منصوبے کا نام کس شخصیت پر رکھا گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ریاستی وسائل سے بننے والی عوامی سہولت کی شناخت ریاست اور عوام کے ساتھ جڑی رہے یا کسی مخصوص سیاسی خاندان کے ساتھ۔ اگر سرکاری منصوبوں کے نام رکھنے کے لیے واضح، مستقل اور سیاسی وابستگی سے بالاتر اصول وضع ہوجائیں تو یہ بحث بھی شخصیات سے نکل کر ادارہ جاتی شفافیت اور عوامی مفاد کے دائرے میں آسکتی ہے۔

Back to top button