LNGکی قلت، پاکستان میں اچانک فرنس آئل کا استعمال کیوں بڑھ گیا؟

پاکستان میں ایل این جی کی سپلائی میں رکاوٹ نے توانائی کے شعبے کے لیے ایک نیا دباؤ پیدا کردیا ہے۔ قطر سے معاہدے کے تحت آنے والی ایل این جی کی ترسیل میں خلل اور عالمی منڈی میں متبادل کارگوز کی بلند قیمتوں کے باعث حکومت نے بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے فرنس آئل کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ یوں پاکستان کو ایک طرف مہنگی درآمدی ایل این جی خریدنے، دوسری طرف نسبتاً مہنگے متبادل ایندھن سے بجلی پیدا کرنے اور تیسری جانب بجلی کی طلب کو محدود رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا پڑ رہا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کے ایک عہدیدار کے مطابق شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک بجلی کی طلب کے عروج کے دوران فرنس آئل سے کم از کم 800 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے، جبکہ فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی مجموعی دستیاب صلاحیت 1400 میگاواٹ ہے۔ حکومت نے فروری میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد اگست اور ستمبر میں دو مرتبہ فرنس آئل سے اضافی بجلی پیدا کی تاکہ اسپاٹ مارکیٹ سے انتہائی مہنگے ایل این جی کارگوز خریدنے سے گریز کیا جاسکے۔
اصل مسئلہ ایل این جی کی صرف قلت نہیں بلکہ اس کی قیمت بھی ہے۔ وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کے مطابق آر ایل این جی کی سپلائی میں تعطل کے باعث اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمت 23 سے 25 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس تک پہنچ گئی تھی، جسے انہوں نے غیر معمولی طور پر بلند قرار دیا۔ ایسے میں حکومت کے لیے ہر اضافی ایل این جی کارگو خریدنا بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت اور درآمدی بل دونوں پر دباؤ بڑھاتا ہے۔
اس کے مقابلے میں فرنس آئل بھی سستا ایندھن نہیں، تاہم موجودہ حالات میں اس کا استعمال حکومت کے لیے ایک وقتی متبادل بن گیا ہے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ شنکر تلریجا کے مطابق فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 40 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ سے زیادہ رہی، جو گزشتہ دو ماہ کے دوران آر ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت کے قریب تھی۔ یہی معاشی موازنہ حکومت کو طلب کے عروج کے اوقات میں فرنس آئل استعمال کرنے کی طرف لے گیا۔
فرنس آئل کے بڑھتے ہوئے استعمال کا سب سے واضح ثبوت اس کی فروخت کے اعداد و شمار ہیں۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے مطابق ستمبر میں ملک میں 93000 ٹن فرنس آئل فروخت ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ یہ مقدار صرف 11078 ٹن تھی، یعنی سالانہ بنیاد پر تقریباً 740 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ ایل این جی کی قلت اور بجلی کی پیداوار میں فرنس آئل کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔
تاہم فرنس آئل ایل این جی کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا۔ پاکستان کے متعدد بڑے بجلی گھر آر ایل این جی پر انحصار کرتے ہیں اور بڑے شہروں کے بجلی کے نظام میں ان کا کردار اہم ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 90 بجلی گھروں کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 20769 میگاواٹ ہے، جن میں 16 ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کی مجموعی صلاحیت 7640 میگاواٹ جبکہ فرنس آئل سے چلنے والے 6 بجلی گھروں کی صلاحیت 1116 میگاواٹ ہے۔ اس لیے ایل این جی کی طویل مدت تک کمی کو صرف فرنس آئل کے ذریعے پورا کرنا ممکن نہیں۔
اس بحران کا ایک اور پہلو پاکستان کے درآمدی بل سے متعلق ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق جولائی اور اگست میں ایل این جی کی درآمدات کی مالیت 364.1 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 508 ملین ڈالر کے مقابلے میں 28.3 فیصد کم ہے۔ صرف اگست میں ایل این جی کی درآمدی مالیت 187.5 ملین ڈالر رہی، جو ایک سال پہلے کے 277 ملین ڈالر سے 32 فیصد سے زیادہ کم ہے۔
یہ کمی بظاہر درآمدی اخراجات میں کمی دکھاتی ہے، لیکن اس کے پس منظر میں توانائی کے نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ موجود ہے۔ اگر ایل این جی کی کمی طویل ہوتی ہے تو حکومت کو متبادل ایندھن، بجلی کی طلب کے انتظام اور دستیاب بجلی گھروں کے زیادہ مؤثر استعمال کے درمیان مسلسل توازن قائم کرنا ہوگا۔ دوسری جانب عالمی توانائی کی منڈی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی پاکستان کے لیے اہم ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں خطے میں کشیدگی کے باعث توانائی کی ترسیل اور قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔
مجموعی طور پر موجودہ صورتحال پاکستان کے توانائی کے نظام کی درآمدی ایندھن پر انحصار کی حساسیت کو نمایاں کرتی ہے۔ حکومت نے مہنگی اسپاٹ ایل این جی سے بچنے کے لیے فرنس آئل کا سہارا لیا ہے، لیکن یہ مستقل حل نہیں۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ عالمی بحران کے دوران بجلی کی طلب، درآمدی ایندھن کی قیمت، ملکی توانائی کے وسائل اور بجلی کی پیداواری لاگت کے درمیان ایسا توازن قائم کیا جائے جس سے ایک طرف بجلی کی فراہمی متاثر نہ ہو اور دوسری طرف مہنگے متبادل ایندھن کا بوجھ صارفین اور ملکی معیشت پر منتقل نہ ہو۔
