عوام سے اربوں روپےکی وصولی،کیا پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ممکن ہے؟

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت بڑھتے ہی عوام کی نظریں عالمی منڈی کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے عائد ٹیکسوں پر بھی مرکوز ہو جاتی ہیں۔ موجودہ مہنگائی اور سیاسی دباؤ کے ماحول میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے یا اس میں کمی کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر حکومت یہ لیوی ختم کر دے تو وفاقی خزانے میں پیدا ہونے والے بڑے مالی خلا کو کیسے پُر کیا جائے گا؟ اور کیا موجودہ معاشی حالات میں حکومت اس آمدن سے دستبردار ہونے کی پوزیشن میں ہے؟
پیٹرولیم لیوی بنیادی طور پر وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کیا جانے والا محصول ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن وفاقی خزانے میں جاتی ہے۔ یہ عام سیلز ٹیکس سے مختلف ہے، کیونکہ پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کے لیے ایک اہم غیر ٹیکس آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ سرکاری بجٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی وصولی کا ہدف تقریباً 1.468 کھرب روپے رکھا گیا تھا، جبکہ 2026-27 کے لیے آئی ایم ایف سے متعلق دستاویزات میں ہدف تقریباً 1.73 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
یہ رقم اس لیے اہم ہے کہ وفاقی حکومت پہلے ہی بھاری قرضوں، بلند سودی ادائیگیوں، دفاعی اخراجات اور بجٹ خسارے کے دباؤ میں ہے۔ وزارت خزانہ کے مالیاتی جائزوں میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر پیٹرولیم لیوی کی وصولی کم ہوتی ہے تو وفاقی حکومت کو اخراجات کم کرنے، مزید قرض لینے یا متبادل ٹیکس عائد کرنے میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ راستوں کا انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک سرکاری مالیاتی تجزیے کے مطابق کم لیوی اور اس کے نتیجے میں زیادہ سبسڈی کی صورت میں مالی خسارہ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی کو مکمل طور پر ختم کرنا بظاہر عوام کو فوری ریلیف تو دے سکتا ہے، لیکن اس کے مالی اثرات بھی ہوں گے۔ اگر حکومت تقریباً 1.7 کھرب روپے سالانہ آمدن کے ہدف سے دستبردار ہوتی ہے تو اسے یہ رقم کسی دوسرے ذریعے سے حاصل کرنا ہوگی۔ اس کا ایک راستہ دوسرے ٹیکسوں میں اضافہ ہے، دوسرا سرکاری اخراجات میں کمی اور تیسرا مزید قرض لینا، جبکہ ان تینوں کے اپنے معاشی اثرات ہیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی شرح ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہی اور حکومت عالمی قیمتوں، مالی ضروریات اور سیاسی دباؤ کے مطابق اس میں تبدیلی کرتی رہی ہے۔ اپریل 2026 میں عالمی تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے کے بعد حکومت نے پیٹرول پر لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان بھی کیا تھا۔ بعد میں عالمی قیمتوں میں تبدیلی کے ساتھ لیوی کی شرح دوبارہ مختلف سطحوں پر رہی۔ جولائی 2026 کے سرکاری اعداد کے مطابق پیٹرول پر تقریباً 70 روپے اور ڈیزل پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر لیوی عائد تھی، جبکہ دیگر محصولات بھی قیمت کا حصہ تھے۔
اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عوام کے لیے پیٹرول کی حتمی قیمت صرف پیٹرولیم لیوی سے طے نہیں ہوتی۔ عالمی خام تیل کی قیمت، درآمدی لاگت، شرح تبادلہ، کسٹمز ڈیوٹی، دیگر محصولات اور مقامی قیمتوں کے طریقہ کار بھی مجموعی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے لیوی میں کمی کا ہر روپیہ لازماً اسی تناسب سے پمپ پر قیمت کم نہیں کرتا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو رہا ہو۔
پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال میں پیٹرولیم لیوی کا ایک اور اہم پہلو آئی ایم ایف پروگرام سے جڑا ہوا ہے۔ 2026-27 کے لیے تقریباً 1.73 کھرب روپے کا لیوی ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے ہدف سے تقریباً 17.6 فیصد زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے آنے والے مالی سال کے بجٹ میں اس آمدنی کو ایک اہم مالی ستون کے طور پر شامل کیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارتِ پیٹرولیم نے خود بھی عالمی توانائی بحران کے دوران لیوی پر انحصار کم کرنے کی تجویز دی تھی۔ مئی 2026 میں وزارت نے لیوی کا سالانہ ہدف 1 کھرب روپے تک محدود کرنے اور عالمی قیمتیں بلند رہنے تک شرح کم رکھنے کی تجویز دی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی حلقوں میں بھی یہ بحث موجود رہی ہے کہ بلند لیوی صارفین پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ حکومت عوام کو پیٹرول پر ریلیف دینا چاہتی بھی ہو تو اس کے پاس مالی گنجائش کتنی ہے۔ اگر عالمی تیل کی قیمتیں بلند ہوں اور ساتھ ہی لیوی میں کمی کر دی جائے تو وفاقی حکومت کو دو طرفہ دباؤ کا سامنا ہوگا: ایک طرف آمدن کم ہوگی اور دوسری طرف درآمدی ایندھن کا بل بڑھ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں مالی خسارہ بڑھنے، قرض لینے کی ضرورت میں اضافے یا دوسرے شعبوں پر ٹیکس کا بوجھ منتقل ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
اس لیے پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کے بجائے مرحلہ وار کمی، عالمی قیمتوں کے مطابق شرح میں لچک اور کم آمدن والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف جیسے راستے زیادہ قابل بحث پالیسی آپشنز ہیں۔ وزارتِ پیٹرولیم پہلے ہی پیٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات اور مستقبل میں زیادہ مسابقتی قیمتوں کے طریقہ کار کی طرف منتقلی پر کام کر رہی ہے، جس کے لیے جون 2027 کا ہدف زیر غور ہے۔
آخرکار پیٹرولیم لیوی کا سوال صرف یہ نہیں کہ عوام سے فی لیٹر کتنی رقم وصول کی جا رہی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس رقم کے بغیر وفاقی بجٹ کیسے چلے گا اور متبادل آمدن کہاں سے آئے گی۔ اگر حکومت لیوی ختم کرتی ہے تو اسے متبادل مالی منصوبہ بھی دینا ہوگا، ورنہ آج کا ریلیف کل نئے ٹیکس، مزید قرض یا سرکاری اخراجات میں کٹوتی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔
یوں موجودہ حالات میں پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ مالی طور پر مشکل دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ شرح کو ہر حال میں برقرار رکھنا ہی واحد راستہ ہے۔ اصل پالیسی سوال یہ ہے کہ حکومت عوام کو قابلِ برداشت ایندھن کی قیمت کیسے فراہم کرے، جبکہ دوسری طرف وفاقی بجٹ، قرضوں کی ادائیگی اور آئی ایم ایف سے کیے گئے مالی وعدوں کو بھی برقرار رکھا جا سکے۔
