1024 میں صرف 3 امیدوار کامیاب،سول جج بننا اتنا مشکل کیوں؟

خیبر پختونخوا میں سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ کے تحریری امتحان کے حالیہ نتائج نے عدالتی شعبے میں امیدواروں کی تیاری اور امتحانی معیار سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 105 آسامیوں کے لیے ہونے والے امتحان میں 1024 امیدوار شریک ہوئے، لیکن صرف 3 امیدوار تحریری مرحلہ عبور کرسکے، یوں کامیابی کی شرح محض 0.29 فیصد رہی۔ کامیاب امیدواروں میں جنوبی وزیرستان کی صبا رسول نے پہلی، باجوڑ کے عبداللہ نور نے دوسری اور مردان کے سید زاہد حسین نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

نتائج کا جائزہ لیا جائے تو ناکامی کی سب سے نمایاں وجہ انگریزی کے پرچے میں امیدواروں کی کمزور کارکردگی سامنے آتی ہے۔ 1024 امیدواروں میں سے صرف 149 امیدوار انگلش جنرل اور انگلش مضمون نویسی کے پرچے میں کامیاب ہوئے جبکہ 875 ناکام رہے۔ عمومی معلومات کے پرچے میں بھی 1005 امیدواروں میں سے 687 کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کے برعکس پشتو کا مضمون منتخب کرنے والے 340 امیدواروں میں سے 335 کامیاب ہوئے، جبکہ قانون کے مضامین میں بھی کامیابی کی شرح نسبتاً بہتر رہی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے عبداللہ نور کے مطابق کامیابی کے لیے انہوں نے روزانہ 5 سے 6 گھنٹے تیاری کی، جبکہ صبح کے اوقات میں عدالت میں وکالت کی پریکٹس بھی جاری رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سینیئرز سے مشاورت کی، گزشتہ سالوں کے پرچے حل کیے اور آزمائشی امتحانات دیے۔ وہ غیر ضروری معلومات کے بجائے سوال کا براہ راست اور مکمل جواب دینے پر توجہ دیتے رہے۔

ایک خاتون سول جج کے مطابق جوڈیشل امتحان میں انگریزی کا معیار کسی حد تک سی ایس ایس کے امتحان کے برابر ہے، جبکہ امیدوار سے صرف کتابی معلومات نہیں بلکہ قانون کو عملی طور پر سمجھنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت بھی دیکھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق محض رٹہ لگا کر تیاری کرنا کافی نہیں، کیونکہ سوالات امیدوار کی قانونی فہم، تجزیاتی صلاحیت اور عملی سوچ کو جانچتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے کم از کم 1 سے 2 سال وکالت کی عملی پریکٹس کو مفید قرار دیا۔

ان کے مطابق عدالتی ماحول میں کام کرنے سے امیدوار کو مقدمات کی تیاری، شواہد کی پیشکش، جرح اور قانونی حکمت عملی جیسے عملی پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے، جو بعد میں امتحان اور انٹرویو دونوں میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے انگریزی کے ساتھ عمومی معلومات کی تیاری کو بھی اہم قرار دیا۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تیار شدہ جوابات یاد کرنے کے بجائے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ جواب پاکستانی قانون کے تناظر میں مطلوب ہے، کیونکہ ایسے ٹولز مختلف ممالک کے قوانین کے مطابق بھی جوابات دے سکتے ہیں۔

حالیہ نتائج اس لیے بھی غیر معمولی ہیں کہ گزشتہ برسوں میں بھی کامیابی کی شرح میں کمی دیکھی گئی، تاہم 2026 کا نتیجہ سب سے کم رہا۔ 2021 میں 550 شریک امیدواروں میں سے 203 تحریری امتحان میں کامیاب ہوئے تھے، یعنی شرح تقریباً 37 فیصد تھی۔ 2023 میں 22 امیدوار تحریری مرحلے سے گزرے جبکہ بعد کے مراحل میں صرف 10 امیدوار تقرری کے لیے موزوں قرار پائے۔ 2025 میں 825 امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں صرف 47 کامیاب ہوئے اور کامیابی کی شرح تقریباً 5.7 فیصد رہی۔ 2026 میں یہ شرح گھٹ کر 0.29 فیصد تک پہنچ گئی۔

تاہم ان اعداد و شمار کی بنیاد پر صرف امیدواروں کے تعلیمی معیار کو ناکامی کی وجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے سابق رکن کے مطابق مختلف سرکاری آسامیوں کے امتحانات میں بھی اہل امیدوار دستیاب نہ ہونے کا مسئلہ سامنے آتا رہا ہے۔ کمیشن کی سالانہ رپورٹس میں بعض بھرتیوں کے بعد آسامیاں خالی رہ جانے کی نشاندہی کی گئی ہے، لیکن ان رپورٹس میں یہ نہیں کہا گیا کہ امیدوار مجموعی طور پر تعلیمی لحاظ سے کمزور ہیں۔

اس لیے حالیہ سول جج امتحان کا نتیجہ ایک اہم سوال ضرور اٹھاتا ہے، لیکن اس کی حتمی وجہ صرف ایک عنصر کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ امتحانی معیار، نصاب، سوالات کی نوعیت، پاسنگ کے طریقہ کار، انگریزی اور عمومی معلومات میں امیدواروں کی تیاری، عملی قانونی تجربے اور اعلیٰ تعلیم کے مجموعی معیار سمیت کئی عوامل اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔ خود رپورٹ میں بھی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مختلف برسوں کے امتحانات میں ممکنہ فرق کو دیکھے بغیر کامیابی کی شرح میں کمی کی حتمی وجہ متعین نہیں کی جاسکتی۔

موجودہ نتائج کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ 105 عدالتی آسامیوں کے مقابلے میں تحریری امتحان کے بعد صرف 3 امیدوار اگلے مرحلے تک پہنچے ہیں۔ اس صورتحال میں ایک طرف امیدواروں کے لیے یہ واضح پیغام موجود ہے کہ جوڈیشل امتحان محض کتابی علم یا رٹنے سے پاس کرنا مشکل ہے، جبکہ دوسری طرف یہ سوال بھی اہم ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں امیدوار مطلوبہ معیار تک کیوں نہیں پہنچ پا رہے۔ اس سوال کا جواب امیدواروں کی تیاری کے ساتھ ساتھ امتحانی نظام، قانونی تعلیم اور عملی تربیت کے مجموعی معیار کا جائزہ لینے سے ہی سامنے آسکتا ہے۔

Back to top button