PTIحکومت مذاکرات کی ناکامی کے بعد اب آگے کیا ہو گا؟

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی ناکامی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ کئی گھنٹوں کی بات چیت کے باوجود فریقین انسداد دہشت گردی اور وفاقی حکومت کے ساتھ خیبرپختونخوا کے تعاون سمیت اہم نکات پر اتفاق رائے پیدا نہ کر سکے، جس کے بعد مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے۔ اسی دوران پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا اعلان برقرار رکھا اور 4 اکتوبر کو لکی مروت سے قافلے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ لانگ مارچ شروع ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اب اس احتجاج کو کس سیاسی مقصد اور کس حکمت عملی کے تحت آگے بڑھائے گی۔ پارٹی پہلے ہی 27 ستمبر کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر کر چکی ہے۔ اس دوران مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کیا گیا اور ساتھ ہی مارچ کی تیاری بھی جاری رکھی گئی۔ اس بیک وقت اختیار کی گئی حکمت عملی نے پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کے طریقہ کار اور اس کے سیاسی بیانیے کے درمیان موجود تضاد کو نمایاں کیا ہے۔
پی ٹی آئی قیادت پر بنیادی تنقید یہی بنتی ہے کہ اس نے کارکنوں کے سامنے ایک انتہائی سخت اور حتمی سیاسی بیانیہ رکھا، لیکن عملی سیاست میں مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھا۔ مذاکرات کرنا کسی سیاسی جماعت کی کمزوری نہیں بلکہ سیاسی عمل کا لازمی حصہ ہے، مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کارکنوں کو مسلسل یہ تاثر دیا جائے کہ کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں اور قیادت خود پس پردہ قابل قبول راستے تلاش کر رہی ہو۔ 3 اکتوبر کو پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی میں بھی حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے اور پیش رفت کی صورت میں لانگ مارچ مؤخر یا منسوخ کرنے پر غور کی اطلاعات سامنے آئیں۔
یہ تضاد اس وقت مزید نمایاں ہوا جب مذاکرات جاری تھے اور دوسری طرف خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ کے پروگرام پر قائم رہنے کے اعلانات کر رہے تھے۔ انہوں نے 2 اکتوبر کو کہا تھا کہ مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہوگا اور 6 اکتوبر کی رات پشاور پہنچے گا۔ بعد میں جاری کیے گئے منصوبے میں مزید مراحل اور مقامات کا ذکر کیا گیا۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد سہیل آفریدی کے بیانات میں خیبرپختونخوا کی سلامتی، فوجی کارروائیوں اور ڈرون حملوں کا معاملہ بھی نمایاں ہوا۔ ان کا مؤقف تھا کہ فوجی کارروائیوں اور ڈرون حملوں میں عام شہری متاثر ہوتے ہیں اور اس پالیسی سے دہشت گردی کے مسئلے کا مستقل حل نہیں نکلتا۔ یہ ایک سیاسی اور پالیسی مؤقف ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کی ترجیحی سیاسی گفتگو میں دہشت گردی کے خلاف ریاستی حکمت عملی پر تنقید کے ساتھ دہشت گردی کی مذمت اور اس کے خلاف صوبائی حکومت کی اپنی ذمہ داریوں کو کتنی نمایاں جگہ دی جا رہی ہے۔
یہاں پی ٹی آئی قیادت کے لیے سب سے بڑا سیاسی امتحان سامنے آتا ہے۔ خیبرپختونخوا ایک ایسے صوبے کی حکومت ہے جہاں امن و امان اور دہشت گردی کا مسئلہ براہ راست حکومتی کارکردگی سے جڑا ہوا ہے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان انسداد دہشت گردی پر تعاون مذاکرات کا باقاعدہ موضوع بن چکا ہے۔ اس لیے صوبائی حکومت کے لیے صرف وفاقی پالیسیوں پر تنقید کافی نہیں؛ اسے یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ وہ اپنے آئینی و انتظامی دائرہ کار میں دہشت گردی سے نمٹنے، پولیس کی استعداد بڑھانے اور وفاقی اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے کیا عملی حکمت عملی رکھتی ہے۔ مذاکرات میں یہی نکتہ اختلاف کی اہم وجوہات میں شامل رہا۔
پی ٹی آئی قیادت کا ایک بڑا مسئلہ اس کے سیاسی ابلاغ کا بھی ہے۔ پارٹی کے مختلف رہنماؤں کے بیانات میں کبھی مذاکرات کی گنجائش نظر آتی ہے، کبھی احتجاج کو آخری راستہ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی سخت زبان استعمال کی جاتی ہے۔ 29 ستمبر کو پارٹی پارلیمانی اجلاس میں 4 اکتوبر کا مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا، جبکہ اسی دوران بعض رہنماؤں کی جانب سے موجودہ حالات میں مارچ مؤخر کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔
یہ اختلاف رائے سیاسی جماعت کے اندر جمہوری مشاورت کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن جب قیادت ایک متفقہ حکمت عملی کارکنوں اور عوام کے سامنے واضح نہ کر سکے تو سیاسی پیغام منتشر ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کو سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ اس احتجاج کا فوری مقصد کیا ہے، اس کی آخری حد کیا ہے اور اگر حکومت کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا دروازہ کھولا جائے تو کن نکات پر بات کی جائے گی۔
پارٹی کے لیے دوسرا بڑا مسئلہ کارکنوں کے جذبات اور سیاسی قیادت کے فیصلوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ اگر کارکنوں کو یہ باور کرایا جائے کہ صرف سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ ہی سیاسی کامیابی کا راستہ ہے تو پھر قیادت کے لیے مذاکرات کی طرف واپسی مشکل ہوجاتی ہے۔ ہر سمجھوتے کو پسپائی اور ہر سیاسی لچک کو کمزوری سمجھنے کا رجحان بالآخر خود مذاکراتی عمل کو محدود کر دیتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنے سیاسی بیانیے کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتیں صرف احتجاج، جلسے اور مارچ سے نہیں چلتیं؛ انہیں پارلیمانی سیاست، مذاکرات، قانون سازی، صوبائی حکمرانی اور مختلف اداروں کے ساتھ آئینی دائرے میں رابطے کے ذریعے بھی اپنے مقاصد آگے بڑھانا پڑتے ہیں۔ اگر ہر مسئلے کا جواب سڑک پر احتجاج ہو اور ہر مذاکراتی سمجھوتے کو کارکنوں کے سامنے دفاع کرنا مشکل ہو جائے تو پارٹی کی قیادت خود اپنے لیے سیاسی گنجائش محدود کر دیتی ہے۔
پی ٹی آئی کے لیے موجودہ صورتحال کا سب سے حساس پہلو خیبرپختونخوا کی حکومت بھی ہے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان پہلے ہی امن و امان، انسداد دہشت گردی اور سیاسی کشیدگی کے معاملات پر اختلافات موجود ہیں، جبکہ وفاقی سطح پر ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے آئینی امکانات پر بھی سیاسی بحث جاری ہے، اگرچہ ان میں سے کسی اقدام کا باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ ایسے ماحول میں صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق مخالف احتجاج کی قیادت سیاسی طور پر ایک غیر معمولی صورت حال پیدا کرتی ہے، جس کے انتظامی اور آئینی اثرات بھی زیر بحث آنا فطری ہیں۔
اب پی ٹی آئی کے سامنے بنیادی طور پر تین سیاسی راستے ہیں: مارچ کو صرف احتجاجی طاقت کے اظہار تک محدود رکھنا، مذاکرات کے لیے دوبارہ گنجائش پیدا کرنا، یا احتجاج اور مذاکرات دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرنا۔ تیسرا راستہ بظاہر سب سے زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ اس کے لیے قیادت کو اپنے کارکنوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ مذاکرات اور احتجاج ایک دوسرے کی نفی نہیں بلکہ ایک ہی سیاسی حکمت عملی کے دو مختلف ذرائع ہوسکتے ہیں۔
مذاکرات کی ناکامی نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ محض سخت بیانات سے سیاسی تعطل ختم نہیں ہوتا۔ اگر پی ٹی آئی واقعی اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے تو اسے مطالبات کی ترجیح، مذاکرات کی حدود اور قابل قبول سمجھوتے کی سطح واضح کرنا ہوگی۔ اسی طرح حکومت کے لیے بھی یہ سوال موجود ہے کہ سیاسی احتجاج کو محض انتظامی رکاوٹوں سے روکنے کے بجائے وفاق اور صوبے کے درمیان انسداد دہشت گردی اور سیاسی اختلافات کے مستقل حل کے لیے کس حد تک مذاکراتی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ لانگ مارچ کا اگلا مرحلہ محض ایک احتجاجی سرگرمی نہ بن جائے بلکہ اس کے سیاسی نتائج بھی واضح ہوں۔ اگر قافلے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے نکلتے ہیں، صوابی یا کسی دوسرے مقام پر جمع ہوتے ہیں اور پھر آگے بڑھنے یا رکنے کا فیصلہ ہوتا ہے تو ہر مرحلے پر قیادت کو اپنے کارکنوں اور عوام کے سامنے واضح سیاسی جواز دینا ہوگا۔ محض جذباتی نعروں اور سخت بیانات سے پیدا ہونے والا دباؤ دیرپا سیاسی نتیجہ نہیں دیتا۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کے لیے اصل چیلنج حکومت کو دباؤ میں لانا نہیں بلکہ اپنی سیاسی حکمت عملی میں واضح سمت پیدا کرنا ہے۔ پارٹی اگر احتجاج جاری رکھتی ہے تو اسے احتجاج کے سیاسی مقصد اور حدود واضح کرنا ہوں گی، اور اگر دوبارہ مذاکرات کی طرف آتی ہے تو کارکنوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ سیاسی مذاکرات کوئی شکست نہیں بلکہ پارلیمانی سیاست کا لازمی حصہ ہیں۔ موجودہ بحران میں پی ٹی آئی کی قیادت کی سیاسی بصیرت کا امتحان اسی بات سے ہوگا کہ وہ اپنے کارکنوں کے جذبات، صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں اور وفاق کے ساتھ سیاسی اختلاف کو ایک قابل عمل حکمت عملی میں کیسے تبدیل کرتی ہے۔
