بڑھکیں مارچ کی، مذاکرات فیس سیونگ کے؟ PTIچاہتی کیا ہے؟

تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال نے خود پی ٹی آئی قیادت کے طرزِ سیاست پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک طرف خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کارکنوں کو اسلام آباد کی طرف مارچ کے لیے تیار رہنے، کسی دباؤ میں نہ آنے اور احتجاج جاری رکھنے کے اعلانات کرتے رہے، جبکہ دوسری طرف پارٹی کی مرکزی مذاکراتی ٹیم وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر ایسے معاملات پر بات کرتی رہی جن کا تعلق براہ راست مارچ کو مؤخر یا ختم کرنے کے راستے سے تھا۔ سرکاری اور اپوزیشن نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے ایجنڈے میں مارچ کے ساتھ عمران خان سے ملاقات، اسپتال منتقلی اور بعض گرفتاریوں کا معاملہ بھی شامل رہا۔

یہاں پی ٹی آئی قیادت پر سب سے بڑا سوال اس کے دوہرے سیاسی بیانیے کا بنتا ہے۔ کارکنوں کو یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ مارچ ہر صورت ہوگا اور قیادت اپنے اعلان سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے گی، لیکن اسی دوران مذاکرات کا دروازہ بھی پوری طرح کھلا رکھا گیا۔ مذاکرات کرنا بذاتِ خود کوئی منفی عمل نہیں؛ سیاسی جماعتوں کا بات چیت کے ذریعے بحران حل کرنا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر قیادت واقعی مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالنے کے لیے تیار تھی تو کارکنوں کے سامنے اپنی حکمت عملی کو اسی وضاحت کے ساتھ کیوں نہیں رکھا گیا؟

پی ٹی آئی نے ابتدا میں 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا تھا اور بعد میں اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا۔ اس وقت بھی پارٹی کی جانب سے مؤقف سامنے آیا کہ مارچ عمران خان کی رہائی اور ان کے طبی علاج سمیت دیگر سیاسی مطالبات کے لیے ہوگا۔ لیکن بعد کے مذاکرات میں فوری طور پر زیر بحث آنے والے معاملات میں عمران خان سے ملاقات، اسپتال منتقلی اور گرفتار افراد کی رہائی جیسے مطالبات نمایاں رہے۔ یہی فرق یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ عوامی سطح پر پیش کیا جانے والا بنیادی مطالبہ اور مذاکرات کی میز پر ترجیح پانے والے فوری مطالبات کس حد تک ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔

پی ٹی آئی قیادت کے لیے سب سے مشکل سوال یہی ہے کہ اگر مذاکرات سے ملاقاتوں کی پابندی ختم ہوتی ہے، عمران خان کو طبی سہولت ملتی ہے یا گرفتار کارکنوں اور ان کی بہنوں کے معاملے میں کوئی ریلیف آتا ہے تو پھر مارچ کو ختم یا مؤخر کرنے کا جواز کارکنوں کو کیا دیا جائے گا؟ اگر قیادت اسے سیاسی پیش رفت قرار دیتی ہے تو پھر یہی وضاحت مارچ سے پہلے کیوں نہیں کی گئی کہ احتجاج کا مقصد صرف ایک ہی مطالبے تک محدود نہیں بلکہ متعدد معاملات پر حکومت سے عملی ریلیف حاصل کرنا بھی ہے؟

دوسری طرف سہیل آفریدی کا طرزِ بیان بھی پارٹی کے اندر موجود اس تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ 3 اکتوبر کو مذاکرات جاری ہونے کے باوجود انہوں نے 4 اکتوبر کے مارچ پر اصرار برقرار رکھا اور کہا کہ احتجاج ہوگا۔ یعنی ایک ہی وقت میں پارٹی کے دو مختلف پیغامات سامنے آ رہے تھے: مذاکراتی ٹیم حکومت سے راستہ نکالنے کی کوشش کر رہی تھی اور صوبائی قیادت کارکنوں کو یہ یقین دلا رہی تھی کہ مارچ اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق آگے بڑھے گا۔

یہ صورتحال کارکنوں کے لیے بھی ایک سنجیدہ سوال ہے۔ سیاسی کارکن کسی بھی جماعت کی اصل طاقت ہوتے ہیں، لیکن انہیں کسی احتجاج، مارچ یا تصادم کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کرنا قیادت کی ذمہ داری ہے۔ اگر قیادت خود مذاکرات کے ذریعے کسی سمجھوتے کی گنجائش رکھتی ہو تو کارکنوں کو ایسی حکمت عملی کے بارے میں بنیادی طور پر باخبر رکھنا چاہیے۔ ورنہ کارکن سڑک پر ایک مختلف پیغام لے کر نکلتے ہیں، جبکہ فیصلہ سازی کہیں اور کسی دوسرے فارمولے پر ہو رہی ہوتی ہے۔

پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے ایک اور مشکل یہ ہے کہ وہ اپنے ہی مقرر کردہ سیاسی اہداف کی وضاحت بار بار تبدیل کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ابتدا میں مارچ کی تاریخ، مقام اور طریقۂ کار تبدیل ہوا، پھر مارچ کے دوران مختلف مراحل اور پڑاؤ کی بات سامنے آئی، جبکہ مذاکرات شروع ہونے کے بعد حکومت سے بات چیت بھی اسی سیاسی دباؤ کے ساتھ جاری رہی۔ 4 اکتوبر کے لیے تازہ منصوبے میں لکی مروت سے آغاز، مختلف مقامات پر قیام اور پھر پشاور پہنچنے کا پروگرام سامنے آیا، جبکہ اسلام آباد تک پہنچنے کے حتمی وقت اور طریقۂ کار کے بارے میں بھی صورت حال پوری طرح واضح نہیں تھی۔

یہاں تنقید کا اصل نکتہ یہ نہیں کہ پی ٹی آئی مذاکرات کیوں کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات ایک واضح سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں یا مارچ کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والے دباؤ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش؟ اگر مذاکرات پہلے ہی سیاسی حکمت عملی کا حصہ تھے تو انہیں کارکنوں اور عوام کے سامنے واضح طور پر پیش کیا جانا چاہیے تھا۔ اور اگر مذاکرات صرف مارچ کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا نتیجہ ہیں تو پھر قیادت کو اپنے کارکنوں کے سامنے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ زمینی حقائق اور سیاسی نعرے میں فرق موجود ہے۔

پی ٹی آئی قیادت کی یہ حکمت عملی اس لیے بھی قابلِ بحث ہے کہ پارٹی ایک طرف حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے بڑے پیمانے کے احتجاج کا اعلان کرتی ہے، دوسری طرف اسی احتجاج کو روکنے کے لیے حکومت سے رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ سیاسی مذاکرات میں فریقین کا اپنے مفادات کے لیے رعایت مانگنا معمول کی بات ہے، لیکن جب عوامی بیانیہ انتہائی حتمی انداز میں پیش کیا جائے اور پس پردہ قابلِ قبول درمیانی راستے کی تلاش بھی جاری ہو تو قیادت کی سیاسی ابلاغی حکمت عملی پر سوال ضرور اٹھتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنے کارکنوں کے ساتھ سیاسی طور پر زیادہ واضح ہونا ہوگا۔ اگر مقصد مذاکرات سے مسئلے کا حل نکالنا ہے تو اسے کھل کر بتایا جائے، اگر مارچ واقعی آخری حد تک جاری رکھنا ہے تو اس کا واضح منصوبہ سامنے رکھا جائے، اور اگر حکومت کے ساتھ کسی درمیانی راستے پر اتفاق ہو سکتا ہے تو کارکنوں کو یہ سمجھایا جائے کہ اسے شکست یا پسپائی کے بجائے سیاسی مذاکرات کے نتیجے کے طور پر کیوں قبول کیا جا رہا ہے۔

موجودہ صورتحال میں حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کسی پیش رفت کی امید ضرور پیدا ہوئی، لیکن 4 اکتوبر کی صبح تک حتمی معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئی خفیہ سمجھوتہ ہو چکا ہے۔ تاہم اتنا ضرور واضح ہے کہ پی ٹی آئی کے اعلان کردہ مارچ، اس کی قیادت کے بیانات اور مذاکراتی میز پر زیر بحث آنے والے معاملات کے درمیان ایک واضح سیاسی تناؤ موجود ہے۔

آخرکار اصل امتحان پی ٹی آئی قیادت کا ہے: کیا وہ اپنے کارکنوں کو صرف جوش دلانے کے بجائے انہیں اپنی حقیقی سیاسی حکمت عملی سے بھی آگاہ کرے گی؟ کیونکہ اگر مارچ کا مقصد کچھ اور بتایا جائے، مذاکرات میں کچھ اور مطالبات رکھے جائیں اور آخر میں کوئی تیسرا راستہ اختیار کیا جائے تو سیاسی قیمت صرف حکومت کو نہیں، خود پارٹی قیادت کو بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

Back to top button