امریکا جاتے ہوئے ایئر ایمبولینس کے سمندر میں گر کر تباہ ہونے کی تصدیق
برمودا سے بوسٹن جانے والے طیارے کا ملبہ نانٹکٹ کے قریب سمندر سے مل گیا، طیارے میں عملے کے ارکان، مریض اور تیماردار سمیت 6 افراد سوار تھے

امریکا جاتے ہوئے ایئر ایمبولینس کے سمندر میں گر کر تباہ ہونے کی تصدیق ہوگئی۔
حکام کے مطابق بحر اوقیانوس میں واقع جزیرہ برمودا سے امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن جانے والا طیارہ، جو ایئر ایمبولینس کے طور پر استعمال ہورہا تھا، لاپتہ ہوگیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ میساچوسٹس کے جزیرے نانٹکٹ کے قریب سمندر سے طیارے کا ملبہ تلاش کرلیا گیا ہے۔ طیارے میں عملے کے 4 کینیڈین شہری، ایک مریض اور ایک تیماردار سمیت 6 افراد سوار تھے۔
حکام کے مطابق طیارے میں سوار 6 افراد کے زندہ بچنے یا ان کے ملنے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔
گلف اسٹریم جی-100 میڈیکل جیٹ برمودا ایئرپورٹ سے رات 12 بج کر 41 منٹ پر بوسٹن کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم ہفتے کی رات 1 بج کر 20 منٹ پر نانٹکٹ کے قریب طیارے سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی کوسٹ گارڈ کے ہیلی کاپٹروں، طیاروں اور موٹر بوٹس کے ذریعے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رہا اور بحر اوقیانوس میں بڑے پیمانے پر تلاش کا عمل رات گئے تک جاری تھا۔
حکام نے مزید بتایا کہ کوسٹ گارڈ نے ہفتے کی رات دیر گئے تصدیق کی کہ نانٹکٹ کے ساحل کے قریب سمندر سے ملنے والا ملبہ اسی طیارے کا ہے۔ طیارہ غائب ہونے سے قبل صرف 2 منٹ میں 9 ہزار فٹ نیچے گیا، کچھ دیر کے لیے اس کی پوزیشن برابر ہوئی اور پھر وہ ریڈار سے غائب ہوگیا۔
حکام کے مطابق تباہی سے قبل پائلٹ نے ہنگامی صورتحال کا اعلان بھی کردیا تھا۔ ملبے کے بکھرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ بہت تیز رفتاری سے سمندر سے ٹکرایا۔
