سہیل آفریدی دہشت گردی کو کیسے بڑھاوا دے رہے ہیں؟

تجزیہ : سلیم صافی


معروف تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے اس موقف کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ خیبر پختونخوا میں اصل مسئلہ تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا ہے جو وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کی کال دینے کے بعد سے مزید بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اگرچہ اس وقت لانگ مارچ سب سے بڑا موضوع بن چکا ہے لیکن اصل تنازع لانگ مارچ نہیں بلکہ دہشت گردی ہے، لانگ مارچ نے پہلے سے پکنے والی کھچڑی کو ضرور گرم کر دیا ہے، تاہم دہشت گردی ایک مستقل مسئلہ ہے جو خیبر پختونخوا کے عوام، ریاست اور سیکیورٹی اداروں کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ بن چکا ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ لانگ مارچ چند روز کا سیاسی ایونٹ ہے جو کسی نہ کسی طرح گزر جائے گا، مگر دہشت گردی ایسا مسئلہ ہے جو مستقل دردسر بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکز میں بیٹھے سیاستدانوں کے لیے دہشت گردی کئی مسائل میں سے ایک مسئلہ ہو سکتی ہے، لیکن خیبر پختونخوا میں عوام اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ ملکی بقا اور پناہ کا سوال بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے موقف اور ترجیحات میں واضح فرق پایا جاتا ہے، جبکہ اسی تضاد نے صوبے میں امن و امان کے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

سلیم صافی نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے 40 میں سے 11 اضلاع میں عملاً تحریک طالبان پاکستان کا اثر و رسوخ قائم ہے جبکہ باقی اضلاع میں بھی ٹی ٹی پی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ دہشت گردی کو درست انداز میں ڈیل کر رہی ہے یا غلط انداز میں، اس پر سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے دہشت گردی سرفہرست اور زندگی موت کا مسئلہ ہے۔

دوسری جانب ان کے بقول پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں یہ مسئلہ سرفہرست دکھائی نہیں دیتا، جس کی وجوہات خوف، فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ناراضی یا سیاسی اختلاف کچھ بھی ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اس تنازع کی ایک بنیادی جہت پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی ہے۔ ریاستی موقف کے مطابق افغان طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں سرگرم مسلح گروہوں کی مدد کر رہی ہے اور بعض اوقات انہیں بھارت سمیت دیگر عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے، جبکہ پاکستان افغان سرزمین پر موجود ان گروہوں کے ٹھکانوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

سلیم صافی کے مطابق پاکستان افغان طالبان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات اور عالمی ثالثوں کے ذریعے بھی معاملات حل کرنے کی کوشش کر چکا ہے، تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد ریاست کے پاس سخت اقدامات کے سوا محدود راستے باقی رہ گئے ہیں۔ سلیم صافی کے مطابق پی ٹی آئی اس ریاستی بیانیے کی مکمل ہمنوا نہیں اور اس کا موقف رہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کی بنیادی وجہ پاکستان کی اپنی پالیسیوں کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس تضاد کی مثال افغان طالبان کے یوم فتح کے حوالے سے اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب سے دی، جس میں وفاقی حکومت اور تین صوبائی حکومتوں کی نمائندگی موجود نہیں تھی، جبکہ پی ٹی آئی، جمعیت علمائے اسلام اور محمود خان اچکزئی کے حلقوں سے نمایاں شرکت ہوئی۔

ان کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ میں یہ بات اس لیے بھی باعث تشویش سمجھی گئی کہ خیبر پختونخوا میں حکومت کرنے والی جماعت ریاستی ڈھانچے کا حصہ ہے اور اس کی ایسی سرگرمیوں سے ریاست کے مجموعی موقف کو نقصان پہنچنے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایک طرف ٹی ٹی پی کی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف پاک فوج اور ایف سی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں، تاہم پی ٹی آئی ان کارروائیوں اور سیکیورٹی فورسز کے کردار کو اس طرح اون نہیں کر رہی جس طرح وفاقی حکومت اور دیگر صوبائی حکومتیں کرتی ہیں۔ سلیم صافی کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ کو شکایت ہے کہ صوبائی حکومت اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کے بجائے ابہام پیدا کر رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے طالبانائزیشن کی ذمہ داری ماضی کی پالیسیوں پر ڈالنے کے باوجود متبادل حکمت عملی واضح طور پر سامنے نہیں لائی جا رہی اور عمومی طور پر مذاکرات کو ہی حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

سلیم صافی کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں یہ شکایت بھی پائی جاتی ہے کہ پی ٹی آئی کے حکومتی عہدیدار دہشت گردی کو اسٹیبلشمنٹ کی اپنی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول ایسے وقت میں جب سیکیورٹی فورسز کے اہلکار مسلسل اپنی جانیں قربان کر رہے ہوں، صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف ریاستی اقدامات کو پوری طرح اون نہ کرنا فوجی حلقوں میں شدید ناراضی پیدا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس ناراضی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیکیورٹی اداروں میں بعض لوگ صوبائی حکومت کے طرز عمل کو شہدا اور ان کے اہل خانہ کے زخموں کو مزید گہرا کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔

انہوں نے وادی تیراہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مرحلے پر فوج نے عام شہریوں کو علاقے سے نکالا، جبکہ یہ علاقہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا انتخابی حلقہ بھی ہے اور وہاں ٹی ٹی پی کا اثر و رسوخ موجود بتایا جاتا ہے۔ سلیم صافی کے مطابق اس وقت بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کی اطلاعات تھیں لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقوں کا موقف ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے پیدا کی گئی سیاسی فضا کے باعث یہ کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ ان کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار پر کس قدر اختلاف موجود ہے۔

سلیم صافی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے حلقوں میں افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے حوالے سے آج بھی بڑی حد تک وہی بیانیہ موجود ہے جو عمران خان کے جیل جانے سے قبل تھا، حالانکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ریاستی پالیسی اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔ ان کے مطابق چار سال قبل افغان طالبان کے بارے میں ریاستی بیانیہ نسبتاً دوستانہ تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں ریاست انہیں ایک مختلف زاویے سے دیکھتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے اس تبدیلی کے مطابق اپنا سیاسی بیانیہ تبدیل نہیں کیا۔ یہی فرق دہشت گردی کے مسئلے پر مرکز، سیکیورٹی اداروں اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان اعتماد کے بحران کو بڑھا رہا ہے۔

سلیم صافی کے بقول وزیر اعلیٰ آفریدی کو دہشت گردی کے مسئلے کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھنا چاہیے تھا، لیکن اس کے بجائے لانگ مارچ کی کال دے کر سیاسی کشیدگی اور دہشت گردی دونوں میں اضافہ کیا گیا، چنانچہ پہلے سے سنگین امن و امان کی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

Back to top button