امتحاں جو ہیں اُن کا ادراک تو ہو

تحریر: ایاز میر
بشکریہ: روزنامہ دنیا
ایران سینہ سپر ہے تو امریکہ سے‘ دنیا کے طاقتور ترین ملک سے۔ نقصان اٹھا رہا ہے پر نقصان پہنچا بھی رہا ہے۔ مقابلہ تو ہوا۔ برادر ملک کہاں اُلجھا ہوا ہے؟ حوثیوں سے‘ اور مقابلہ کرنا مشکل پڑ رہا ہے۔ برادر ملک کا سالانہ دفاعی بجٹ لگ بھگ 80 ارب ڈالر ہے‘ دنیا کا کوئی جدید ترین ہتھیار نہیں جو اسے میسر نہیں۔ اور تو اور امریکہ نے ابھی منظوری دی ہے F35 طیاروں کے سودے کی‘ جس کی مالیت 25 ارب ڈالر ہے۔ اتنے وسائل ہونے کے باوجود میدانِ جنگ میں پلڑاحوثیوں کا بھاری نظر آتا ہے۔ برادر ملک کی تنصیبات پر حملے ہوئے ہیں لیکن اصل جنگ سعودی سرزمین پر نہیں بلکہ یمن میں ہو رہی ہے جہاں ایک طرف سعودی حمایتی ہیں اور دوسری طرف حوثی۔ سعودی حمایتی البتہ حوثیوں کے سامنے پسپا ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ سے برادر ملک میں تشویش پھیلی ہوئی ہے کہ پہلے ہی حوثیوں نے بہت علاقہ قبضہ کیا ہے اور اب جو لڑائی ہو رہی ہے شہر ”تعز‘‘ کے گردونواح میں اُس میں حوثی کامیاب ہوئے‘ جیسا کہ لگ رہا ہے کہ وہ ہوں گے‘ تو پھر سعودی حمایتوں کے پاس کچھ نہیں رہے گا۔
اس جنگ نے یہ تلخ حقیقت ظاہر کی ہے کہ تیل کی دولت معنی تو رکھتی ہے لیکن جہاں صرف دولت ہی ہو اور ہمت اور جذبہ دوسری طرف ہو تو حالات کچھ بن نہیں پاتے۔ حوثی برادر ملک پر میزائلوں کے حملے کر رہے ہیں لیکن زمینی حملہ نہیں کیا‘ نہ کریں گے۔ جنگ تو جنوب میں یعنی یمن میں ہو رہی ہے‘ لیکن برادر ملک میں فکر اس بات کی ہے کہ حوثی یمن کے واحد قابض ہو گئے تو سعودی عرب کیلئے ایک ناقابلِ قبول صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ برادر امریکی مدد کو دیکھ رہے تھے لیکن صدر ٹرمپ نے F35 کی سیل کی منظوری تو دے دی لیکن جنگ میں خود کچھ کرنے سے انکاری رہے۔ پچھلے ماہ ایک ہی روز سعودی ولی عہد نے وائٹ ہاؤس دوبار فون کیا لیکن صدر ٹرمپ کی طرف سے انکار ہی تھا۔ اور کیسے نہ ہوتا کیونکہ پچھلے سال امریکیوں نے حوثیوں پر بمباری کرکے دیکھ لیا۔ ایک ماہ فضائی بمباری جاری رہی‘ ایک ارب ڈالر کا اسلحہ پھونک دیا گیا‘ اور نتیجہ صفر رہا۔
ویسے بھی جہاں امریکہ اپنے ایران کے جھمیلے میں پھنسا ہوا ہے اس نے سعودیوں کی مدد کیا کرنی تھی۔ رہ جاتا ہے مکہ دفاعی معاہدہ تو اس کے تحت کافی شدت سے ترکیہ‘ پاکستان اور سعودی عرب میں بات چیت ہو رہی ہے۔ پاکستان نے تو بڑے زوردار قسم کے بیانات دیے ہیں لیکن مسئلہ تو وہاں یمن کے میدانِ جنگ کا ہے۔ فوجیں برادر ملک کے دفاع کیلئے جائیں بھی تو سعودی سرزمین پر تعینات ہوں گی۔ ایسی تعیناتی سے میدانِ جنگ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ ضرورت تو وہاں زمینی بوٹوں کی ہے یعنی ایسی افواج کی جو وہاں زمین پر موجود ہوں اور لڑائی میں حصہ لیں۔ مکہ معاہدے کا مفہوم البتہ انفرادی ملکوں کا دفاع ہے نہ کہ کسی اور ملک میں حملہ آور ہونے کا۔ یہی مسئلہ بنا ہوا ہے برادر ملک کیلئے کہ یمن کی صورتحال کا کیا کیا جائے کیونکہ وہاں تو مسلسل سعودی ہوائی حملوں کے باوجود حوثی آگے بڑھ رہے ہیں اور سعودی حمایتی خاطر خواہ انداز سے مقابلہ نہیں کر پا رہے۔
پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ تمام تر دلیر الفاظ کے باوجود اپنے جھمیلوں میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف نہیں‘ ہر محاذ کھلا ہوا ہے۔ دونوں مغربی صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستا ن میں آگ لگی ہوئی ہے۔ مسلح تنظیموں کے ہاتھوں دونوں میں شورش برپا ہے۔ آزاد کشمیر کا علاقہ ہمیشہ پُرامن ہوا کرتا تھا‘ حیرانی ہے کہ وہاں بھی حالات وہ نہیں جو ہونے چاہئیں۔ اندرونی محاذ کا ذکر کیا کرنا‘ سرکار کی نظروں میں جو ناپسندیدہ جماعت ہے اس کا قائد تین سال سے زائد عرصہ سے پسِ زنداں ہے‘ میل ملاقات پر قدغنیں ہیں‘ لیکن جماعت کی طرف سے لانگ مارچ کی کال آئی ہے اور عالم یہ کہ دارالحکومت میں ہر جگہ کنٹینر نظر آتے ہیں۔ معاشی صورتحال وہ ہے جس کا بار بار ذکر کیا کرنا۔ مانگے کے پیسے نہ ہوں تو ریاست کا کام نہ چلے۔ شکر ہے دیارِ غیر میں بیٹھے ہم وطنوں کا جن کے بھیجے گئے زرِمبادلہ سے کچھ کام چل جاتا ہے۔ برادر ملک کے ساتھ تعلقات کی اپنی نوعیت ہے‘ وعدے وعید بھی ظاہر ہے بہت ہوئے ہوں گے لیکن صورتحال کی نزاکت کا بھی تقاضا ہے کہ قدم رکھنا ہے تو پھونک پھونک کر رکھا جائے۔
ہر پاکستانی دعا کرے گا کہ برادر ملک کی موجودہ پریشانیاں کم ہوں لیکن پاکستان کے ہاتھ میں کیا ہے؟ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ سارا معاملہ خراب تو امریکہ نے کیا ہے جس نے بغیر سوچے سمجھے ایران پر حملہ کیا۔ سمجھا جا رہا تھا کہ حملوں کی تاب نہ لا کر ایران گھٹنے ٹیک دے گا۔ ایسا نہیں ہوا اور برادر ملکوں کے ساتھ پھر وہ ہوا جو اُن کے وہم و گمان میں نہ تھا۔ امریکی اڈے جو تحفظ کی ضمانت سمجھے جاتے تھے ایرانی حملوں میں تباہ ہو گئے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے برادر ملکوں کی تیل کی ترسیل بند ہو گئی۔ ان کی تنصیبات پر حملے ہوئے۔ یعنی راتوں رات پورے خطے میں آگ لگ گئی۔ اور پھر دور کہیں باب المندب کے اوپر حوثیوں کا حملہ شروع ہوا جس کی وجہ سے برادر ملک کیلئے بڑی نازک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
برادر ملک کیلئے دعا کرنا تو اپنی جگہ درست لیکن پاکستانی جب حالات پر نظر رکھتے ہیں تو اپنی خیر کیلئے بھی دعا کرتے ہیں۔ ملکی صورتحال ایسی ہے کہ ہر پاکستانی کے دل میں تشویش پیدا ہو رہی ہے۔ حکمران ایسے ہیں کہ ان کے اللے تللے ختم نہیں ہوتے۔ بیرونی دوروں کا بے مقصد سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعظم یو این جنرل اسمبلی کو خطاب کرنے اڑان بھرتے ہیں تو آنے جانے میں نصف ماہ لگ جاتا ہے۔ عوام کی نظروں پر پردے تو نہیں پڑے ہوئے۔ حالانکہ بہت کچھ چھپا رہتا ہے مگر بہت سی چیزیں نظر بھی آتی ہیں۔ حکمرانی کے موجودہ انداز سے عوام کا اعتماد کہاں سے پیدا ہونا ہے؟ لوگوں نے محض بیانات سے تو راضی نہیں ہونا۔ اتنا سب کو نظر آ رہا ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات قابو سے باہر ہیں۔ سرکاری ہرکارے کچھ کہتے ہیں تو ان کی گفتگو دھمکی آمیز ہوتی ہے۔ دھمکیوں سے کام چلنا ہوتا تو ہر طرف شانتی ہوتی۔ حالات ایسے ہیں کہ سمجھداری کی بات کہیں سے سنائی نہیں دیتی۔ جہاں اپنے مسائل اتنے گمبھیر ہوں اوروں کے مسائل پھر اوروں کے ہی ہیں۔
بِنا کوئی مارچ ہوئے اسلام آباد کا کنٹینروں کے پیچھے محصور ہو جانا مذاق تو ہے لیکن ایک علامت بھی ہے۔ ایسے حکومتی بندوبست کے بارے میں لوگ کیا سوچتے ہوں گے جس کا اعتماد کنٹینروں کے لگ جانے سے جڑا ہوا ہو۔ لوہے کے یہ ڈبے بوکھلاہٹ کی ایک کیفیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جہاں تک عوامی حمایت کا تعلق ہے سب کو معلوم نہیں کہ یہ بندوبست کن کرشمات سے معرضِ وجود میں آیا؟ چار سال سے زائد کا عرصہ ہو چلا ہے اس انوکھے دور کو۔ معجزے رونما ہوتے اس مدت میں تو بات اور تھی۔ معیشت کے پہیے چلتے‘ قیمتیں کنٹرول میں ہوتیں‘ نوکریوں کی فراوانی ہوتی تو لوگ ماضی کو بھول جاتے۔ لیکن اصل حالات سب کے سامنے ہیں۔ حکومتی کارکردگی دیکھ کر مایوسی کے سایوں نے گہرا ہی ہونا ہے۔
ماضی کے حساب بہت چکا دیے گئے۔ اب آگے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کچھ نئی سوچ اُبھرے‘ کچھ نئے ارادے بندھیں۔ پرانی راہوں پر ہی چلنا ہے تو پھر وہی ہوتا رہے گا جو اِن چار سالوں میں ہوا ہے۔
